بھگت سنگھ اور ساتھیوں کی 87 ویں برسی پر

وہم و گماں عزیز ہے، نام و نشاں عزیز ہے
تتلی کو رنگ ہیں عزیز، گل کو ستاں عزیز ہے
شام و سحر کو گردشِ کون و مکاں عزیز ہے
جو سچ کہوں تو دوستو! رب کو بھی جاں عزیز ہے

پھر کیسے، کس دیار سے یہ جاں نثار آ گئے
آنکھوں میں دل لیے ہوئے دیوانہ وار آ گئے
منزل اٹھا کے دوش پر، سینہ فگار آ گئے
جسموں کو بادباں کیے روحوں کے پار آ گئے

شعلہ بہ چشم و سر بکف وہ سرخرو چلے گئے
اپنے لہو سے آپ ہی کر کے وضو چلے گئے
کیسا عدم، کیسی قضا، وہ کوبکو چلے گئے
وہ اہلِ دل چلے گئے، وہ خوبرو چلے گئے

ان کے ضمیر کو سلام، ان کے وقار کو سلام
آدمی کے آدمی پر اعتبار کو سلام
جس پر وہ دلرباں چلے، اس راہگزار کو سلام
اس میکدے کے ایک ایک میگسار کو سلام

وہ جامِ عشق و بے خودی آج بھی ہم پی رہے
آج بھی ہم مر رہے، آج بھی ہم جی رہے
زخم لاکھ ہیں تو کیا، ہنس کے سب کو سی رہے
دنیا جسے عزیز ہے وہ ہم سے دور ہی رہے

قتل گاہ کے وسط میں ہم اپنے دل اگائیں گے
آدمی کو آدمی سے عشق ہم سکھائیں گے
یہ جہان ہے غلط نیا جہاں بنائیں گے
کیا کہا؟ یہ خواب ہے، کر کے ہم دکھائیں گے

رگوں میں گردشِ لہو کی ایک ہی پکار ہے
جنوں کی فصل پک گئی، خمار ہی خمار ہے
دشمنانِ رنگ و بو کا دل سوگوار ہے
خزاں کے دن چلے گئے، اب آمدِ بہار ہے

(پارس جان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.