History

انتہائی کامیاب چار روزہ عالمی مارکسی یونیورسٹی میں 144 ممالک سے 7300 سے زائد افراد کی شرکت

انتہائی کامیاب چار روزہ عالمی مارکسی یونیورسٹی میں 144 ممالک سے 7300 سے زائد افراد کی شرکت

July 29, 2022 at 5:47 PM

|رپورٹ: عالمی مارکسی رجحان| 23 تا 26 جولائی کو عالمی مارکسی رجحان کے زیر اہتمام عالمی مارکسی یونیورسٹی 2022 کا انتہائی کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس کی کامیابی توقعات سے بھی بڑھ کر تھی۔ کل ملا کر 7,333 لوگوں نے دنیا بھر سے رجسٹریشن کی، جو پچھلی یونیورسٹی یعنی 2020Read More

سوشلزم کیوں؟

سوشلزم کیوں؟

January 3, 2022 at 10:38 PM

|تحریر: البرٹ آئنسٹائن، ترجمہ: یار یوسفزئی|   انگریزی میں پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔ (یہ تحریر مشہورِ زمانہ طبیعیات دان آئنسٹائن نے نیو یارک سے شائع ہونے والے میگزین ”منتھلی ری ویو” کے پہلے شمارے کے لیے لکھی تھی، جو مئی 1949ء میں چھپا۔ اس میں فرد اور سماجRead More

لیون ٹراٹسکی کی 81 ویں برسی؛ جرات و استقامت کا استعارہ

لیون ٹراٹسکی کی 81 ویں برسی؛ جرات و استقامت کا استعارہ

August 24, 2021 at 7:53 AM

|تحریر: یار یوسفزئی| یہ 24 مئی 1940ء کی رات تھی۔ وہ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور میکسیکو میں جلا وطنی کی حالت میں قیام پذیر تھا۔ دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد وہ نیند کی گولی کھا کر سو رہا تھا، جب صبح کے چار بجے اس کے گھرRead More

ریاست، سیاست اور پارلیمانی جدوجہد

ریاست، سیاست اور پارلیمانی جدوجہد

April 29, 2021 at 1:52 AM

|تحریر:شیلے او سلیوان، ترجمہ: زید پیرزادہ| کمیونسٹ مینی فیسٹو کے پہلے صفحے پر مارکس نے ہمارے عہد کے کردار پر روشنی ڈالی ہے: ”سرمایہ داروں اور محنت کش طبقے کے مابین طبقاتی جدوجہد“۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تصادم میں مبتلا ہیں اور دونوں اپنے یکسر مخالف طبقاتی مفادات کےRead More

کیا انقلابات پُر تشدد ہونا ضروری ہیں؟

کیا انقلابات پُر تشدد ہونا ضروری ہیں؟

April 27, 2021 at 11:09 PM

|تحریر: مارکسسٹ سٹوڈنٹ فیڈریشن، ترجمہ: ابراہیم صافی| مارکسسٹ انقلابی ہوتے ہیں۔ ہم مارکسسٹ ایک پرولتاریہ انقلاب چاہتے ہیں جس میں اجتماعی طور پر محنت کش طبقہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور سب کے مفاد کے لئے معاشرے کو بدل دیتا ہے۔ اس انقلاب کا مطلب یہ ہے کہ بورژوازی یعنیRead More

بھگت سنگھ: سرفروشی کی تمنا آج بھی زندہ ہے!

بھگت سنگھ: سرفروشی کی تمنا آج بھی زندہ ہے!

March 23, 2021 at 11:44 AM

|تحریر: فرحان رشید| سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے 21 ویں صدی عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے مرگ کا پیام لیے اُبھری۔ سرمایہ داروں کے پالتو دانشوروں کے مطابق سیدھی ڈگر پہ چلتا سرمایہ دارانہ نظام پہلے 2008Read More