خیبر پختونخواہ: تیمر گرہ کالج جیل بن گیا، کرپٹ انتظامیہ طلبہ سے خوفزدہ!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، خیبر پختونخواہ|

ڈگری کالج تیمرگرہ کے چیف پراکٹر اور انتظامیہ نے حال ہی میں ایک اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کالج کے طلبہ کالج کے اندر اور باہر کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں، برتھ ڈے پارٹیز اور دوسرے تفریحی پروگراموں میں حصہ نہیں لیں گے، بصورتِ دیگر ان کے خلاف کالج انتظامیہ کی جانب سے سخت کاروائی کی جائے گی۔ مالاکنڈ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بھی اسی قسم کا اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں طلبہ سیاست کرنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کے حوالے سے طلبہ پر پابندی لگائی گئی ہے، جس کے خلاف طلبہ مزاحمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

ڈگری کالج تیمر گرہ میں اس وقت طلبہ کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ کالج کی طرف سے طلبہ کے لیے کسی بھی طرح کی ٹرانسپورٹ کی کوئی بھی سہولت میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے طلبہ، خاص طور پر طالبات کو کالج تک پہنچنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ ہاسٹل کے اندر بھی طلبہ مسائل سے دوچار ہیں جہاں طلبہ کو ان کی ضروت کے مطابق تمام سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ کالج کی ایک سمسٹر کی فیس جو چند سال پہلے 1500 تھی، اب اس میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور ایک سمسٹر کی فیس اب بڑھ کر 8000تک پہنچ چکی ہے، جس میں مستقبل میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کالج کے اندر طلبہ ہراسمنٹ کا بھی شکار رہتے ہیں۔ ان تمام مسائل کے خلاف طلبہ کو بولنے یا منظم ہونے سے روکا جاتا ہے جس کا واضح ثبوت کالج کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ ہے۔

آج جب پاکستانی ریاست شدید معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے۔ تعلیمی بجٹ کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے اور تعلیمی نظام دیوالیہ ہونے کے دھانے پر کھڑا ہے۔ ایسے میں کرپٹ انتظامیہ نے فیسوں میں مسلسل اضافہ کیا ہے جو ہمیشہ حکمران طبقے کی ہر طلبہ دشمن پالیسی کی بھرپور حمایت کرتی آئی ہے اور تعلیمی بحران کا بوجھ ہمیشہ طلبہ کے کندھوں پہ ڈالا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک طرف محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے تعلیم کا حصول جاری رکھ پانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف بھاری بھرکم فیسوں کے عوض ڈگری حاصل کرنے کے بعد طلبہ کو روزگار کے مواقع مفقود ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ساتھ ہراسمنٹ کے واقعات رونما ہونا معمول بن چکا ہے۔

اس تمام صورت حال میں کالج کی کرپٹ انتظامیہ کو اس بات کا خوف لاحق ہو گیا ہے کہ کہیں طلبہ اپنے بھرتے مسائل اور کرپٹ انتظامیہ کے خلاف متحد اور منظم ہو کر مزاحمت نہ کر بیٹھیں۔ اپنے خوف اور بوکھلاہٹ کی بنیاد پر تیمر گرہ کالج اور مالاکنڈ یونیورسٹی نے یہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس طرح کے اعلامیے جاری کرنا یا طلبہ کی مزاحمت سے خوفزدہ ہو کر تعلیمی اداروں میں چھٹیاں دے دینا انتظامیہ کا وطیرہ رہا ہے۔

پروگریسو یوتھ الائنس کالج انتظامیہ کے اس طلبہ دشمن اور غیر جمہوری رویہ کی سخت مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ طلبہ پر اس قسم کی پابندی کو جلد از جلد ختم کیا جائے۔ آزادی اظہارِ رائے اور سیاست میں شرکت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی لگائے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کا اعلامیہ جاری کرنے سے طلبہ مزاحمت کو روکا نہیں جا سکتا بلکہ اس قسم کے اقدامات طلبہ کے اشتعال میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ یہ اعلامیہ طلبہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے پاکستان کے ہر ادارے میں طلبہ حکمرانوں اور تعلیمی اداروں کی کرپٹ انتظامیہ سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے متحد اور منظم ہو کر لڑیں۔ پاکستان بھر کے طلبہ کا اتحاد اور جڑت ہی اس لڑائی میں ان کی جیت کا ضامن ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے ہر تعلیمی ادارے کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں طلبہ یونین کو بحال کرنا ہو گا، طلبہ سیاست اور طلبہ یونین کی بحالی کے ذریعے ہی طلبہ اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.