چین: بیروزگار گریجوایٹس کی تعداد میں اضافہ

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس|

چین: تیانجن یونیورسٹی میں لگے جاب فئیر میں روزگار کے متلاشیوں کی لمبی قطار، فوٹو رائٹرز

ایک تازہ سروے کے مطابق چین میں بیروزگار گریجوایٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ گریجوایٹس کو ملنے والی نوکریاں انتہائی معمولی نوعیت کی ہیں جن میں سمارٹ فون ڈبوں میں پیک کرنے یا ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا کام شامل ہے۔ اس سال 80لاکھ نئے گریجوایٹ نوجوان محنت کی منڈی میں شامل ہوں گے جبکہ ایک دہائی قبل یہ تعداد 40لاکھ تھی۔ چین کی محنت کی منڈی میں شامل ہونے والے نوجوانوں میں سے تقریباً نصف اس سال گریجوایٹ ہوں گے ۔ لیکن روزگار کے مواقع تیزی سے سکڑتے چلے جا رہے ہیں۔

گزشتہ عرصے میں چین میں بڑے پیمانے پر نئی یونیورسٹیاں بنائی گئی ہیں جن میں طلبہ کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے۔ لیکن چین کی معیشت گزشتہ عرصے میں سست روی کا شکار ہوئی ہے اور نئے گریجوایٹس کی اجرت میں 16فیصد کمی ہوئی ہے۔ ایک گریجوایٹ کی اوسط ماہانہ اجرت اس وقت چار ہزار RMB یا 590ڈالر ہے۔ لیکن بہت سے نوجوان انتہائی کم اجرت پر بھی کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ریکروٹمنٹ ویب سائٹ zhaopin.com کے ایک سروے کے مطابق وہ نوجوان جو چند بڑی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے غیر معروف یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں انہیں روزگار کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ژیاؤیانگ، جو اس سال چینگ ڈو کی اقتصادیات اور معیشت کی جنوب مغربی یونیورسٹی سے گریجوایٹ ہوگی، نے بتایا کہ اس نے 17جگہوں پر درخواستیں جمع کروائیں تب جا کر اس کو اکاؤنٹنٹ کی نوکری ملی جہاں اس کی ماہانہ اجرت ساڑے چار ہزار RMB ہو گی۔

چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی اس سلسلے میں پریشان دکھائی دیتی ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر بیروزگاری اور غیر معیاری روزگار کے باعث سماجی بے چینی پھیلنے سے فکر مند ہے۔ ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی چینی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہمیں گریجوایٹ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی یا کاروبار کے آغاز کے لیے مدد کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔ بہت سے نوجوان روزگار کی عدم فراہمی کے باعث مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبوں میں ’’انٹرن شپ‘‘ کرنے پر مجبور ہیں جہاں اجرتیں انتہائی کم ہیں اور انہیں سمارٹ فون کی اسمبلی لائن پر کھڑے ہونا پڑتاہے یا پھر لوڈنگ اور ان لوڈنگ کا کام کرنا پڑتا ہے۔ سروے کے مطابق نوجوانوں کی متوقع اجرتوں اور حقیقی اجرتوں میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے جبکہ خواتین گریجوایٹس میں صورتحال زیادہ بد تر ہے۔ اوسطاً انہیں مردوں سے 750 RMB کم تنخواہ دی جاتی ہے۔

چین میں طلبہ کی انقلابی روایات موجود ہیں اور چین کے حکمران طبقے کے خلاف ان کی جدوجہد کی لمبی تاریخ ہے۔ 1989ء میں بیجنگ کے تیانامن اسکوائر میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے کمیونسٹ پارٹی پر براجمان بیوروکریٹس کے خلاف احتجاج کیا جسے کچلنے کے لیے فوجی ٹینک سڑکوں پر بلا لیے گئے اور اس تحریک کو کچل دیا گیا۔ اس کے بعد چین کی کمیونسٹ پارٹی نے پوری شدت سے سرمایہ داری کو ملک میں استوار کیا اور سرمایہ دارانہ نظام کو رائج کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ارب پتیوں کو جنم دیا۔ جبکہ دوسری جانب عوام کی ایک وسیع تعداد غربت، بیروزگاری اور محرومی کی کھائی میں گرتی چلی گئی۔ آج تقریباً دو دہائیوں بعد دوبارہ ایک طلبہ تحریک چین کے سماج میں پنپ رہی ہے۔ چین کا محنت کش طبقہ بھی ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے اپنے غم وغصے کا اظہار کر رہا ہے۔ کوئی ایک چنگاری اس سلگتی ہوئی بغاوت کو ایک بھڑکتے ہوئے لاوے میں تبدیل کر سکتی ہے جو خطے سمیت پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ آج پھر چین کے نوجوانوں اور محنت کشوں کے لیے سرمایہ داری کی ذلتوں سے نجات کا واحد رستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.