تونسہ شریف: جنسی ہراسانی، مہنگی تعلیم، قومی جبر اور سرمایہ داری کے خلاف ”ہلہ بول“ یوتھ کنونشن کا انعقاد

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، تونسہ شریف|

27 نومبر 2022 ء کو ضلع ڈیرہ غازی خان کی ایک پسماندہ اور معروف تحصیل تونسہ شریف میں مفت تعلیم، طلبہ یونین کی بحالی، تعلیمی بجٹ میں اضافے، جنسی ہراسانی کے خاتمے، بے روزگاری کے خاتمے، ٹرانسپورٹ اور ہاسٹلز کی سہولیات کی فراہمی اور جبری گمشدگیوں اور سرمایہ دارانہ طبقاتی نظامِ تعلیم کے خاتمے جیسے مطالبات کے گرد ”ہلہ بول“ یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔

اس یوتھ کنونشن کی کمپین پچھلے کئی دنوں سے تونسہ کے پی وائی اے یونٹ کے کامریڈز نہایت زور و شور سے کر رہے تھے۔ کمپین کے دوران مختلف تعلیمی اداروں، ہوٹلوں اور ٹی سٹالز کا ویزٹ کیا گیا اور طلبہ اور محنت کشوں کو یوتھ کنونشن میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ بڑی تعداد میں لیف لیٹس تقسیم کیے گئے۔ طلبہ، نوجوانوں اورپی وائی اے کے ہمدردوں نے اس عظیم اور اہم کام کے لیے اپنے وقت کی قربانی کے علاوہ فنڈ بھی دل کھول کر دیا۔ جس سے ایک کامیاب کنونشن کا انعقاد ہو سکا۔

یوتھ کنونشن کا انعقاد الفرقان پبلک ہائی اسکول نیو کالج روڈ تونسہ کے صحن میں ہوا۔ کنونشن کی تیاری صبح سے ہی جاری رہی جس میں تنظیم کے ممبران نے حصہ لیا اور اسی دوران مہمانوں کی آمد جاری رہی اور کامریڈز ان کو ویلکم کرتے رہے۔ دن بارہ بجے کنونشن کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ پی وائی کے کارکن محمد عاقب نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیے۔ ابتدائی تعارف کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے کامریڈ وقاص احمد کو مدعو کیا گیا کہ وہ سٹیج پر آکر تنظیم کا تعارف اور تعلیمی نظام کے اندرونی تضادات پر اپنا نقطہ نظر رکھیں۔وقاص کے بعد پروگریسو یوتھ الائنس جنوبی پنجاب کے آرگنائزر کامریڈ راول اسد نے پاکستان کے تعلیمی نظام کا تجزیہ کیا اور شرکاء کی توجہ ان تمام مسائل پر دلائی جن سے ریاست راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے تونسہ کی دھرتی اور سرائیکی کے مایہ ناز شاعر فریاد ہیروی کو سٹیج پر مدعو کیا گیا اور انہوں نے تعلیمی نظام پر مختصر تجزیہ کرتے ہوئے اپنا سرائیکی کلام پیش کیا اور شرکاء سے داد وصول کی۔

اس دوران مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور گفتگو بھی جاری رہی۔ فریاد ہیروی صاحب کی شاعری کے بعد ذیشان جو کہ پروگریسو یوتھ الائنس ڈیرہ غازی خان کے صدر ہیں انہوں نے سٹیج پر آکر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک تفصیلی گفتگو میں انہوں نے باریک بینی سے ان تمام تضادات اور مسائل کو اجاگر کیا جو بڑے سے بڑے یا چھوٹے سے چھوٹے تعلیمی ادارے اور موجودہ تعلیمی نظام میں موجود ہیں اور پیداواری نظام تعلیم میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

ذیشان کے بعد پروفیسر طارق بزدار صاحب نے تعلیمی اداروں کے مسائل بیان کرنے کے علاوہ عالمی طور پر تمام مسائل کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر تونسہ کے تعلیمی نظام اور اداروں میں طلبہ کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا اور اس کا سائنسی بنیادوں پر مختصراً حل پیش کرتے ہوئے پاکستان کی نام نہاد جمہوری اور نا اہل پارٹیوں کے پروگرامز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان تمام مسائل کا سائنسی بنیادوں پر حل پیش کرنے کا یہ سلسلہ آگے بڑھا۔ اس کے بعد ثاقب اسماعیل جو کہ پروگریسو یوتھ الائنس لاہور کے صدر ہیں انہوں نے گفتگو میں حصہ لیا۔ ثاقب نے ان تمام مسائل کے حل پر بات کی ثاقب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں طلبہ کو درپیش مسائل کا حل صرف مزاحمت ہے۔ نوجوانوں کو اپنے حق کیلیے ان تمام مسائل کے خلاف منظم جدوجہد کرنا ہو گی۔ ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ہے، اس نظام میں رہتے ہوئے ان مسائل کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔اس سارے تعلیمی نظام کو بدلنے کیلیے لازمی ہے کہ موجودہ سیاسی اور معاشی نظام کو یکسر تبدیل کیا جائے۔

اسی سلسلہ میں اگلے مقرر کامریڈ آصف لاشاری جو کہ ریڈ ورکرز فرنٹ ڈیرہ غازی خان کے صدر ہیں، نے عالمی سیاسی اور معاشی صورتِ حال پر بات کی۔ آصف نے ان تمام انقلابی تحریکوں کا جائزہ پیش کیا جو اس وقت یا پچھلے چند عرصے سے عالمی سیاست کا اہم حصہ بنی ہوئی ہیں۔ آصف کا کہنا تھا کہ یہ تمام عوامی تحریکیں سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کا واضح اظہار ہیں اور اپنے اندر اتنی طاقت رکھتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کا مکلمل خاتمہ کر تے ہوئے ایک نئے غیر طبقاتی سماج قائم کرسکیں۔

اس کے بعد اس کنونشن کا سب سے اہم کام پروگریسو یوتھ الائنس، تونسہ کے یونٹ کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ اس کام کے لیے کامریڈ راول اسد سٹیج پر آئے اور ان تمام کامریڈز کو باری باری سٹیج پر بلایا جن کو تونسہ یونٹ کی کابینہ میں شامل کیا گیا، ان سے حلف برداری ہوئی جس کے اختتام پر انقلابی نعرے لگائے گئے۔ پروگریسو یوتھ الائنس، تونسہ کی نو منتخب کابینہ میں صدر محمد عاقب، جنرل سیکرٹری محمد شاہد، انفارمیشن سیکرٹری طارق، فنانس سیکرٹری عاقب بلوچ اورجوائنٹ سیکرٹری عدنان رضاہیں۔

اس کے بعد پروگریسو یوتھ الائنس کے مرکزی آرگنائزر فضیل اصغر کو موضوع پر بات کرنے کیلیے مدعو کیا گیا۔ فضیل نے سب سے پہلے پی وائی اے، تونسہ کے ساتھیوں کو کامیاب کنونشن کرانے پر مبارکباد پیش کی۔ اس کے بعد عالمی سیاسی اور معاشی منظر نامے، سیاست میں طلبہ کے کرداراور پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کے باعث ہونے والی تباہی اور بربادی پر بات کی۔ اور ان تمام مسائل کے سائنسی حل پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سوشلسٹ ریاست کا مکمل خاکہ پیش کیا۔ فضیل کا کہنا تھا کہ انسانوں کو درپیش تمام مسائل کو ختم کرنے کیلیے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا اور ایک سوشلسٹ سماج قائم کرناہوگا۔ پروگریسو یوتھ الائنس پورے پاکستان میں اسی عزم کے ساتھ جدوجہد کر ررہا ہے۔ اپنی بات کے اختتام میں فضیل نے تمام نوجوانوں کو اس جدوجہد میں شریک ہونے اور پروگریسو یوتھ الائنس کا حصہ بننے کی دعوت دی کی۔ اس کے ساتھ ہی یہ سلسلہ اختتام کو پہنچا۔ سٹیج سیکرٹری نے عاقب نے تمام شرکاء سے علاقائی اور مرکزی کنونشن کے لیے فنڈ کی اپیل کی اور جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھنے کا عہدکیا۔ تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ادا کرتے ہوئے کنونشن کا باقاعدہ اختتام کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.