سوات: سکول کے بچوں کی گاڑی پر حملہ؛ دہشتگردی کے خلاف دیوہیکل احتجاجی مظاہرے!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، خیبرپختونخوا|

گزشتہ روز سوات گلی باغ میں سکول کے بچوں کے گاڑی پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا جس میں گاڑی کا ڈرائیور جاں بحق ہوا، جبکہ کئی بچے شدید زخمی ہوگئے۔ اس واقعے کے خلاف سوات کے محنت کش عوام نے ڈرائیور کی لاش روڈ پر رکھ کر دھرنا دیا، جو تاحال جاری ہے۔ پروگریسو یوتھ الائنس اس بزدلانہ فعل کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے اور ان کو سخت سزا دی جائے۔

ملاکنڈ ڈویژن میں پچھلے کچھ عرصے سے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ جس کے خلاف دیر لوئر سوات باجوڑ اور دوسرے علاقوں کے عوام نے شاندار مزاحمت کی ہے اور اس کے خلاف احتجاجوں اور دھرنوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان دھرنوں میں موجود لوگ کھلے الفاظ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ماضی میں پختونخوا میں دہشت گردوں کو ریاست نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے اس علاقے میں پروان چڑھایااور ان کو سپورٹ کیا۔ پھر”وار آن ٹیرر“ کے نام پر لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا اور ان کو آئی ڈی پیز کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا گیا اور جب وہ وآپس اپنے گھروں کو لوٹ آئے تو ان کا سب کچھ لٹ گیا تھا۔

اس واقعے کے خلاف بہت بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کی بہت بڑی تعداد شامل تھی۔ ان میں موجود لوگ واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بار بھی ان دہشت گردوں کے پچھے ریاست کاہاتھ ہے اورجرنیلی اشرافیہ اس میں ملوث ہے۔ لیکن اس دفعہ لوگوں نے دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کے خلاف بھرپور مزاحمت شروع کی ہے۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز شئیر ہوئی ہیں جن میں صاف دیکھاجا سکتا ہے کہ سوات میں جرنیلی اشرافیہ کے آرڈر سے آرمی کے لوگ عوام کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور پھر لوگوں نے انہیں زبردستی اتارا۔ اسی طرح پچھلے دنوں سوات میں ایک واقعہ ہوا جس میں جرنیلی اشرافیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں فوج کے لوگ زخمی ہوئے جبکہ دو دہشت گرد ہلاک ہوئے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس واقعے کی حقیقت کچھ اور تھی اور جن لوگوں کو مارا گیا وہ باپ بیٹا تھے اور دہشتگرد نہیں تھے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست ہی اس میں ملوث ہے اورریاستی اداروں سے یہ امید رکھنا کہ وہ دہشت گردوں کا راستہ روکیں گے تو یقیناً سراسر خام خیالی ہی ہے۔ ریاست تو ان دہشت گردوں سے مذاکرات کر رہی ہے۔ مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے ٹی ٹی پی کے کئی اہم کمانڈروں اور افراد کو جیلوں سے رہا بھی کیا گیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہے جنہوں آرمی پبلک سکول کے بچوں کو شہید کیا اور ہزاروں لوگوں کو خود کش دھماکوں میں مارا اور ذبح کیا۔ اسی طرح اگر ہم سیاسی پارٹیوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ کوئی حل نکالیں گی تو یہ بھی فاش غلطی ہو گی۔ اگرچہ 16 اگست کے میدان میں ہونے والے احتجاج میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے شرکت کر کے تقریریں بھی کیں، مگر اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ان احتجاجوں کو اپنے کنٹرول میں کیا جائے۔ یہ تمام سیاسی پارٹیاں درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کی ہی کٹھ پتلیاں ہیں اور کسی نا کسی ریاستی دھڑے سے منسلک ہیں۔ اسی طرح پچھلے 20 سال کے دوران تمام سیاسی پارٹیاں اس نام نہاد وار آن ٹیرر کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر رہی ہیں۔ انہوں نے طالبان کے ساتھ تمام تر مذاکرات اور پختونخوا میں فوجی آپریشنوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ ان آپریشنوں کے دوران جو عام لوگوں کے ساتھ کیا گیا وہ سب جانتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی پارٹیوں کے رہنما جب آکر ان احتجاجوں میں تقریریں کرتے ہیں تو ان کو خود اپنی باتوں پر تک بھروسہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان لوگوں کو زیادہ سنجیدہ نہیں لینا چاہئے۔

دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عوامی کمیٹیاں تشکیل دینا ہو ں گی!

اس وقت اگر دہشت گردی کی روک تھام کوئی کر سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف محنت کش عوام اور انقلابی نوجوان ہیں۔ محنت کش عوام کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے خود منظم ہونا ہو گا اور محلے کی سطح پر ایسی دفاعی اور یکجہتی کمیٹیاں تشکیل دینا ہوں گی جو مختلف جرائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ایسی ہی کمیٹیاں مختلف صنعتی اور سرکاری اداروں اور کام کی جگہوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی بنانے کی ضرورت ہے جن کی قیادت ان کمیٹیوں کی جانب سے منتخب کیے گئے نمائندے کریں۔ اگر کوئی نمائندہ درست نمائندگی نہیں کر پاتا تو اس کو واپس بلا کر اس کی جگہ نیا نمائندہ منتخب کرنے کا اختیار بھی کمیٹی کو دیا جائے۔ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں اور علاقے کے با اثر اور دولت مند افراد پر انحصار کرنے کی بجائے ان کمیٹیوں کو جمہوری انداز میں چلانے کی ضرورت ہے اور محنت کشوں کی اپنی طاقت پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کمیٹیوں میں جمہوری اندازمیں سب کے سامنے اور فوری فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ان میں محنت کشوں کی بڑی تعداد اور بالخصوص مزدور یونینز کو شامل کرنے کی ضرورت ہے جن کی رائے فیصلہ کن اہمیت کی حامل ہے۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے بنائی جانے والی کمیٹیوں میں حکمران طبقے کے افراد اور ریاستی اہلکاروں کی شمولیت پر پابندی لگانی ہو گی۔ اس وقت پختونخوا اور پورے پاکستان کے اندر مختلف سرکاری و پرائیویٹ اداروں کے محنت کش اپنے حقوق کے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ان میں ینگ ڈاکٹرز، اساتذہ، پیرامیڈیکس اور محنت کشوں کی دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ ان سب کو بھی دہشت گردی کے خلاف عوام کا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف میدان یا سوات کا نہیں بلکہ پورے پختونخوا اور پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ پہلے بھی سماج کے ہر حصے کے لوگ دہشت گردی سے کسی نہ کسی شکل میں متاثر ہوئے ہیں جس میں ہسپتالوں میں دھماکے کیے گئے، آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا گیا، باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کیا گیا، وکلاء اور عدالتوں پر بھی دہشت گردوں نے حملے کیے۔ اس لیے سب کو مل کر دہشت گردوں اور ان کے پشت پناہوں سے لڑنا ہوگا۔

دہشت گردی کی تمام تر جڑیں اسی سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں اس لیے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے اس سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ لہٰذا دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے تمام افراد اور تنظیموں کو اپنی حتمی منزل سوشلسٹ انقلاب کو بنانا ہو گا۔ اس کے بعد ہی دہشت گردی کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ بھی ہو سکتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.