’انقلابِ مسلسل‘کے دفاع میں

|تحریر: ڈیوینا جوڈتھ، ترجمہ: علی عیسیٰ|

گزشتہ سال قازقستان، ایران، سری لنکا، چین اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں شاندار طبقاتی جدوجہد نظر آئی۔ اس کے علاہ برطانیہ میں بھی مسلسل معیار زندگی میں گراوٹ کے سبب بے مثال ہڑتالیں دیکھنے کو ملیں۔

ان تحریکوں کے نتیجے میں ایک بنیادی سوال اٹھنا حق بجانب ہے کہ کیا محنت کش طبقہ سرمایہ دارانہ نظام کو برقرار رکھتے ہوئے نام نہاد لبرل (بورژوا) جمہوریت کی بحالی اور ترقی کیلئے تگ و دو کرے گا یا اس سے آگے کی جانب بڑھتے ہوئے حکمرانوں کو نیست و نابود کرکے سوشلسٹ اقدامات کرے گا۔

یہ تحریر انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہی وہ سوال ہے جو 100 سال قبل روسی انقلابیوں کے سامنے تھا، جس کا جواب ٹراٹسکی نے نظریہ انقلاب مسلسل کی صورت میں دیا۔

روس کے اسباق

یورپی سرمایہ دار وں نے انیسویں صدی تک ترقی پسندانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے جاگیردارانہ حکومت اور مطلق العنان بادشاہتوں کے خاتمے سمیت زرعی اصلاحات کیں۔ اسی طرح جمہوری اقدامات کرتے ہوئے بورژوا یا جمہوری ریاست تشکیل دی گئی چنانچہ یہ سب کچھ صنعتکاری کی بڑھوتری، منڈیوں کے پھیلاؤ مختصراً اپنی سیاسی طاقت کو مستحکم کرنے کے غرض سے ہی کیا گیا۔

20 ویں صدی کے آغاز پر، روس، مغربی یورپ کے مقابلے میں انتہائی پسماندہ اور کمزور معاشی انفراسٹرکچر پر کھڑا تھا۔ جبکہ دوسری طرف سرمایہ داری نے انگلینڈ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک میں اپنی مضبوط جڑیں قائم کرلی تھیں۔ اسی بیرونی دباؤ کے پیش نظر زار شاہی بادشاہت نے مداخلت کرتے ہوئے صنعتکاری کی اور زائد پیداوار کو بڑھایا۔

اس کا نتیجہ آبادی میں اضافے اور پیداواری قوتوں کی ترقی میں رکاوٹ کی صورت میں نکلا۔ لہٰذا مغربی یورپ سے مقابلہ کرنے کے لیے روس نے بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اپنی منڈیاں کھول دیں۔ ان تمام حالات نے ایک کمزور قومی بورژوازی کو جنم دیا۔

1905ء میں روس ایک نیم جاگیردارانہ پسماندہ ملک تھا جس پر ایک آمرانہ بادشاہت کی حکومت قائم تھی۔ محنت کش طبقے کی تعداد آبادی کے 5 فیصد سے بھی کم تھی، اور اکثریت ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے کسانوں کی تھی۔

ٹراٹسکی کا نظریہ

اس وقت، ٹراٹسکی وہ واحد شخص تھا جو انقلاب مسلسل کی وکالت کر رہا تھا اور یہاں تک کہ اس نے اپنے نظریاتی خد و خال کو ”Results and Prospects“نامی ایک کتاب میں شائع کیا۔

ٹراٹسکی نے وضاحت کی کہ پسماندہ ممالک میں، بالخصوص نوآبادیاتی اور نیم نوآبادیاتی ممالک میں جہاں سرمایہ دار طبقہ انقلاب لانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، انقلاب مسلسل کا نظریہ ہی ہے جو بتاتا ہے کہ ایسے ممالک میں مکمل اور حقیقی طور پر جمہوری اقدامات اور قومی محرومی سے نجات کا حصول فقط مزدور ریاست کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کیونکہ وہاں کی بورژوازی سامراجی دلال ہے اور جاگیرداروں سے ان کی جڑت ہے اور اہم بات کہ وہ اپنی آزادانہ منڈی تشکیل دینے سے قاصر ہے۔

سرمایہ دار، محنت کش عوام کو نہ امن، نہ روٹی اور نہ ہی مکان جیسے بنیادی حقوق مہیا کرسکتے ہیں۔ ان حقوق کا حصول منصوبہ بند معیشت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ٹراٹسکی نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ جمہوری انقلاب محنت کشوں اور کسانوں کے اتحاد پر منحصر ہے۔ جسے قومی بورژوازی کیخلاف ناقابل مصالحت جدوجہد کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

کسانوں کا کردار

کسان بحیثیت طبقہ کوئی آزادانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ وہ استحصال کے نئے اور پرانے طریقے کے درمیان صدیوں سے غربت کا شکار ہے۔ اسی بنا پر کسان انقلابی طاقت کا ایک بھرپور ذریعہ تو ہو سکتا ہے لیکن انتہائی سخت گیر انقلابی کسان بھی زمینی اصلاحات سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور کسان بحیثیت طبقہ مجموعی طور پر، غیر منظم، منتشر اور الگ تھلگ ہوتا ہے اور سیاسی اور ثقافتی مراکز سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف محنت کش طبقہ اپنی قوت محنت سے قدر پیدا کرتا ہے اور ہڑتالوں اور انقلاب کے ذریعے پیداوار کو روک بھی سکتا ہے۔ کسان طبقے میں ذرائع پیداوار سے تعلق کے سبب اس عمل کی کمی ہوتی ہے اور اس لیے وہ انقلاب میں ایک آزاد طبقے کے طور پر اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا۔

ٹراٹسکی نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ کسی بھی ملک میں انقلاب کے ابتدائی مراحل سے قطع نظر، پرولتاریہ اور کسانوں کے درمیان انقلابی اتحاد صرف اور صرف اس وقت حقیقی شکل اختیار کر سکتا ہے، جب محنت کشوں کی لڑاکا یا انتہائی ایڈوانس پرت خود کو کمیونسٹ پارٹی کے پرچم تلے منظم کریں۔

پرولتاریہ کا اقتدار پر قبضہ محض انقلاب کے آغاز کی علامت ہے۔ پرولتاریہ جمہوری انقلاب کی قیادت کے طور جلد ہی نجی ملکیت کی سماج کی ترقی میں رکاوٹ کو سمجھتے ہوئے اس کا مکمل خاتمہ کرے گا۔

یہاں، جمہوری انقلاب براہ راست سوشلسٹ انقلاب میں تبدیل ہو کر انقلاب مسلسل بن جائے گا۔ دائمی جنگ کی بجائے، انقلاب مسلسل ہی یہ اعلان ہے کہ انقلابی محنت کش طبقہ اپنے اہداف فقط سوشلزم کے ذریعے ہی حاصل کر سکتا ہے اور اس لیے وہ مسلسل آگے بڑھتا ہے۔

یہ انقلاب کسی ایک ملک کی سرحدوں کے گرد محدود نہیں رہ سکتا۔ ٹراٹسکی نے وضاحت کی کہ سوشلسٹ انقلاب اگرچہ ایک ملک سے شروع تو ہو گا، لیکن یہ عالمی انقلاب کی صورت میں ہی مکمل ہو گا۔ یہ انتہائی لازمی امر ہے خاص طور پہ پسماندہ ممالک کے لیے۔

روس میں سوشلسٹ انقلاب کا بالشویک تناظر بھی جرمن انقلاب کی کامیابی کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا تھا۔ بالشویک روس جیسے پسماندہ ممالک کی معاشی ترقی کی سپورٹ اور سرمایہ داری کا تختہ الٹنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک پر انحصار کرتے تھے۔حتیٰ کہ لینن نے جرمن انقلاب کی خاطرروسی انقلاب کی قربانی دینے تک کی بات کہہ دی تھی کیونکہ ایک ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ملک کی حیثیت سے جرمنی عالمی انقلاب میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

جرمن انقلاب کی ناکامی کے سبب سوویت ریاست تنہا رہ گئی اور سٹالنزم جیسی زوال پذیری کو تحریک ملی۔

لینن کا اضافہ

1904ء میں یہ بات سنجیدگی سے زیر بحث آئی کہ آیا کو نسا طبقہ انقلاب کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مینشویکوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ انقلاب بورژوا یعنی قومی جمہوری انقلاب ہوگا لہٰذا اقتدار سرمایہ دار طبقے کو منتقل کرنا ہوگا تاکہ بورژوا پارلیمانیت کیلئے حالات سازگار کیے جاسکیں۔

اس کے برعکس بالشویکوں نے لینن کی قیادت میں انقلاب کے ناگزیر بورژوا کردار کو تسلیم کرتے ہوئے پرولتاریہ اور کسانوں کی قیادت میں ایک جمہوری رپبلک کے قیام کی جدوجہد پر زور دیا۔ 1917ء کے فروری انقلاب کے بعد، عبوری حکومت بطور سرمایہ دار طبقہ عوام پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ابھری۔ منشویکوں نے مرحلہ وار انقلاب کے نظریہ کے تناظر میں عبوری حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ مرحلہ وار انقلاب کے نظریے کا مطلب ہے کہ پسماندہ ممالک کو سوشلسٹ انقلاب سے پہلے بورژوا انقلاب (قومی سرمایہ داروں کی قیادت میں) سے گزرنا ہوگا۔ اسٹالن کے زیر اثر بالشویک بھی ان عناصر کے دباؤ سے جھکنے لگے اور منشویکوں کے مرحلہ وار انقلاب کے نظریے کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔

دوسری طرف، لینن ایک توانا آواز کے طور پر اس عمل کا مخالف تھا اور عبوری حکومت پر کڑی تنقید کر رہا تھا۔ روسی میں واپسی پر اس نے دو ٹوک پوزیشن رکھتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت کی کہ؛ انقلاب کے لئے آزادانہ حیثیت سے طبقاتی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی کیونکہ روسی سرمایہ دار بین الاقوامی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے دلال ہیں اور ان کے مفادات کی نمائندگی کرنا ہی ان کا پیشہ ہے۔

واقعات نے لینن اور بالشویکوں کو درست ثابت کیا۔ عبوری حکومت بورژوا جمہوری مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی، کمزور روسی سرمایہ داروں کے ساتھ ان کے تعلقات نے انہیں جاگیرداروں یا سامراجی سرمائے سے تعلق توڑنے سے روک دیا۔

یہ وہ وقت تھا جب لینن نے ”امن، روٹی اور زمین“ کا نعرہ دیا۔ اگرچہ وہ جانتا تھا کہ نعرہ اپنے جوہر میں جمہوری تھا، لیکن اس نے واضح طور پر عبوری حکومت کی زرعی اصلاحات، تباہ کن جنگ اور خوراک کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کو ظاہر کیا۔

یہی ثبوت ہے کہ صرف محنت کش طبقہ ہی بنیادی سہولیات فراہم کرسکے گا اور بالآخر بورژوا اصلاحات سے آگے بڑھ کر لوگوں کے فلاح وبہبود کا محافظ بنے گا۔

1917ء کے اکتوبر انقلاب میں واضح طور پہ نظر آیا کہ کس طرح اقتدار نا اہل عبوری حکومت سے روس کے محنت کشوں یا سوویتوں (ورکرز کونسلز) کو منتقل کیا گیا تاکہ فروری کے انقلاب کے وقت درپیش مسائل سے نجات حاصل کی جاسکے۔

انقلاب مسلسل تاریخ کے آئینے میں

ٹراٹسکی کے ”Results and prospects“ لکھنے کے 116 سال بعد، اس بحث کو تاریخ نے حل کر دیا ہے۔ روس کا انقلاب اسی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے برپا ہوا جیسے ٹراٹسکی نے 10 سال قبل اپنے الفاظ میں وضاحت کی تھی۔ اگر اسٹالنسٹ اور مینشویک نظریہ مرحلہ واریت درست ہوتا تو اکتوبر انقلاب کبھی رونما نہ ہوتا۔

اسٹالن اور کامینیف کی قدامت پسندی کے باوجود واقعات کے حقیقی عمل سے یہ بات سامنے آئی کہ روس میں موجود بورژوا جمہوری اقدام بھی فقط محنت کش طبقے کے اقتدار پر قبضے کے ذریعے ہی ممکن ہوئے۔

یہی لینن کا نظریہ تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ عبوری حکومت کی حمایت کی بالشویکوں کی تجویز کے خلاف لڑنے کے لیے روس واپس نہ آتا۔

اسٹالنزم کی تباہ کاریاں

لینن کی موت کے بعد سٹالنسٹ بیوروکریسی جومزدور ریاست کے تنزلی کے باعث وجود میں آئی، زوال کی طرف سفر کرنے لگی اور طاقت کو مستحکم کرنے کی پالیسی کے تحت ’ایک ملک میں سوشلزم‘ کے ناقص نظریے پر عمل پیرا ہوئی۔ یہ ایک تباہ کن عمل تھا جوعالمی انقلاب میں رکاوٹ کا باعث بنا، اسی کے سبب بے شمار انقلابیوں کو موت سے دست و گریباں ہونا پڑا اور عالمی سطح پر سوشلزم کے پھلنے پھولنے کا عمل رک گیا۔

کوئی بھی سنجیدہ مارکس وادی ایک ملک میں سوشلزم کے من گھڑت نظریے پر یقین نہیں رکھ سکتا۔ عالمی منڈی اور عالمی کمپنیوں کے پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ داری کا بحران بھی عالمگیریت اختیار کر چکا ہے۔ کوئی بھی ایک ملک اس بحران سے بچ نہیں سکتا۔ ہم سامراج کے خلاف محنت کشوں کی آزادی کی لڑائی کی بین الاقوامی حمایت اور یکجہتی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

بحیثیت انقلابی مارکسسٹ ہم مکمل طور بین الاقوامیت کا پرچم بلند کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پہ یہ نعرہ دہراتے ہیں کہ: دنیا بھر کے محنت کشوایک ہو جاؤ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.