کیمپسز میں ہراسمنٹ کے خلاف کیسے لڑا جائے؟

|تحریر: جویریہ ملک|

پاکستان میں محنت کشوں اور طلبہ کی حالت زار ناقابلِ برداشت حد تک بگڑ گئی ہے اور سب سے تشویشناک صورتحال محنت کش خواتین کی ہے جو اس نظام میں دوہرے جبر کا شکار ہیں۔ مملکت خداداد اس وقت خواتین کے لئے ایک خطرناک ملک بن چکا ہے اور ہر ادارے میں خواتین کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنا عام معمول بن چکا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں طالبات مکمل طور پر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یو این ویمن اور عورت فاؤنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 61 فیصد خواتین کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر سڑکوں پر ہراساں کئے جانے کی بات کی جائے تو یہ تعداد 90 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ سروے کے مطابق کالج اور یونیورسٹی جانے والی تقریباً 87 فیصد طالبات نے کیمپس میں رہتے ہوئے کسی نہ کسی شکل میں جنسی ہراسانی کا سامنا کیا ہے۔ تعلیمی ادارے خواتین کے لئے غیر محفوظ کیوں ہو چکے ہیں؟ اور کس طرح جنسی ہراسانی کی جاتی ہے اور اس میں کون ملوث ہے؟ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی انتظامیہ اور پروفیسر حضرات کی جانب سے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 2019ء میں بلوچستان یونیورسٹی میں ایک شرمناک سکینڈل سامنے آیا جس میں انتظامیہ نے طالبات کے واش روم میں کیمرے نصب کئے تھے۔ ملک بھر سے ایسی رپورٹیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں جہاں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی انتظامیہ طاقتور شخصیات کے لئے طالبات کو غیر اخلاقی سرگرمیوں اور جسم فروشی کے لئے مجبور کرتی ہیں۔ طاقتور شخصیات کے ملوث ہونے کی وجہ سے یہ خبریں منظر عام پر نہیں آتیں اور انہیں دبا دیا جاتا ہے۔ ہری پور یونیورسٹی میں پچھلے عرصے میں جنسی ہراسانی کے کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں انتظامیہ براہِ راست شامل تھی۔ انتظامیہ نے ایک طالبہ کو اس وجہ سے یونیورسٹی سے نکال دیا تھا کہ اس نے انتظامیہ کے افسر کی جانب سے مسلسل جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ اس نا روا عمل کے خلاف طالبات کے ایک گروپ نے وفاقی محتسب کشمالہ طارق کو خط لکھا جس پر وفاقی محتسب کی جانب سے تحقیقات کرانے کے وعدہ کیا گیا مگر حسب توقع اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ طالبات نے اپنی ساتھی طالبہ کی بحالی اور انتظامیہ کی جانب سے ملزم کو تحفظ فراہم کرنے کے خلاف احتجاج کیا اور ریلی نکالنے کی کوشش کی جس سے خوف زدہ ہوکر انتظامیہ نے کورونا وائرس کیسز بڑھنے کا بہانہ بناتے ہوئے یونیورسٹی کو بند کردیا۔
اسی طرح ایک اور واقعہ میں ہری پور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی جانب سے طالبہ کو ہراساں کرنے کے خلاف جب احتجاج کیا گیا تو انتظامیہ نے تحقیقات کرانے کا وعدہ کر کے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ ملک بھر میں اس طرح کے بے شمار واقعات متواتر رونما ہورہے ہیں جہاں یونیورسٹی انتظامیہ ملزم کو تحفظ دیتی ہے۔ ایک طرف ہیلی بیری گرلز کالج کی ایک طالبہ کو حجاب پہننے سے انکار پر معطل کر دیا گیا تھا تو دوسری طرف بد اخلاق اور کرپٹ انتظامیہ کے عملے کے خلاف جرم ثابت ہونے کے بعد بھی کوئی کاروائی نہیں کی جاتی بلکہ انہیں تحفظ دیا جاتا ہے۔ منظم جنسی ہراسانی کی شکار طالبات کو ان کے خاندانوں اور برادریوں کی ”بے عزتی“ کی وجہ سے قتل کئے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔مزید یہ کہ مسلسل جنسی ہراسانی کی شکار طالبات میں خود کشی کا رجحان بھی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی ذمہ داری براہِ راست تعلیمی اداروں کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جنسی زیادتی کے ایک اور دلخراش واقعے میں کیڈٹ کالج مری میں ساتویں کلاس کے طالب علم کو ہاسٹل میں گن پوائنٹ پر گینگ ریپ کیا گیا۔ جب متاثرہ طالب علم نے واقعہ کی اطلاع پرنسپل کو دی تو اس نے اس پر چیخ کر اسے خاموش کرا دیا اور اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے اس معاملے کا کسی اور سے ذکر کیا تو اسے ”کالج سے نکال دیا جائے گا“۔
یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے بہت طویل عرصے سے لاتعداد طلبہ کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے ہیں لیکن وہ سب ناکافی، غیر موثر، یا نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں کیونکہ وہ جنسی ہراسانی کی اصل وجہ اور ساختیاتی عوامل کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا چیلنج طلبہ کے لیے مناسب نمائندگی یعنی طلبہ یونین اور ایک ایسی تنظیم کا فقدان ہے جو انہیں نظریاتی طور پر لیس کرتے ہوئے وسیع تر سماجی و سیاسی جدو جہد کے لئے منظم کر سکے۔ آج انتظامیہ اور پروفیسرز جو فیصلہ ساز عہدوں پر فائز ہیں، ہراساں کرنے کے واقعات کو ممکن بنانے میں شعوری کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی پالیسیوں کے ذریعے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ہراسانی کی شکایت پر طلبہ کو حمایت اور تحفظ کی بجائے تضحیک یا انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔ مزید برآں، طلبہ کے اپنے حقوق کے لیے منظم ہونے کے حق کو محدود کرکے انتظامیہ اور پروفیسرز اپنی اجارہ داری برقرار رکھ سکتے ہیں، جو بامعنی تبدیلی کو روکنے کا کام کرتی ہے۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ یونین سے پابندی ہٹانے کے لئے دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں کیساتھ مشترکہ جدو جہد کی جانب بڑھا جائے۔ مگر طلبہ یونین کی بحالی کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف طلبہ کی جمہوری طور پر منتخب کمیٹیاں بنانے کا آغاز کر دیا جائے۔ یہ اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں ان طلبہ پر مشتمل ہوں جنہیں تمام طلبہ نے خود منتخب کیا ہو اور جن کے پاس پالیسیاں نافذ کرنے اور تحقیقات کرنے کا اختیار اور طاقت ہو۔ طلبہ کی یونیورسٹیوں کے نظم و نسق اور فیصلہ سازی میں شمولیت سے وہ انتظامیہ اور پروفیسرز کو ان کے عمل کا جوابدہ ٹھہرا سکیں گے اور اس بات کو یقینی بنا سکیں گے کہ ہراسانی کے شکار طلبہ کو وہ تمام مدد اور تحفظ فراہم کیا جائے جس کی انہیں ضرورت ہے۔ مزید برآں، ان کمیٹیوں کی تشکیل سے طلبہ اپنی یونیورسٹیوں میں تحفظ اور احترام کا کلچر پیدا کرنے کے لیے مل کر کام کر سکیں گے جس سے ہراسانی کے واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی۔
یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی کے خلاف جنگ میں اگرچہ ”اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیوں“ کی تشکیل اور طلبہ یونینوں سے پابندی کا خاتمہ اہم اقدامات ہیں، لیکن یہ اس مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنسی ہراسانی کی جڑیں سرمایہ دارانہ نظام میں پنہاں ہے جو پدرشاہی کو فروغ دیتا ہے اور خواتین کو اجناس کی صورت میں دیکھتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام عورتوں کے استحصال اور جبر کو شدید تر کرتا ہے اور عورت کو ایک پر وقار اور اہم انسان کی بجائے بازار میں بیچے یا خریدے جانے والی شے کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس نظام کے تحت خواتین کا استحصال ایک معمول بن چکا ہے جس سے ایسا ثقافتی ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں ہراسانی کے واقعات پنپتے ہیں۔
یونیورسٹیوں میں جنسی ہراسانی کو صحیح معنوں میں ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ داری کو سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ختم کیا جائے۔ سوشلزم کے تحت، خواتین کو اشیاء کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ تعلیم، روزگار اور نمائندگی تک مساوی رسائی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں انہیں انسان کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اس سے باہمی عزت و احترام کا کلچر بنے گا اور تمام مرد اور خواتین کو ایک مکمل انسان کی طرح زندگی گزارنے کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ سوشلزم ہی ہراسانی کے واقعات کو مکمل طور پر ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور تمام انسانوں کو بہتر، محفوظ اور آزاد زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.