تنگوانی: پروفیسر اجمل ساوند کے قتل اور بدامنی کے خلاف پی وائی اے کا احتجاج!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، کشمور|

7 اپریل 2023ء کو پروگریسو یوتھ الائنس،کشمور کی جانب سے اجمل ساوند کے قتل، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، نازیہ کھوسو اور کوثر کھوسوسمیت 27 مغویوں کی بازیابی کیلئے تنگوانی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔جس میں بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوانوں اور محنت کشوں نے شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمور میں ریاستی رٹ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ قبائلی تکرار کی آڑ میں ریاست نے یہاں کے لوگوں کو جدید سے جدید تر اسلحہ دے کر بدامنی کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، جو کہ تیس سال سے جاری ہے۔ ہزاروں لوگ قتل ہوچکے ہیں، آئے روز لوگ اغواء ہوتے ہیں جن کی بازیابی کے حوالے سے پولیس ”بے بس“ نظر آتی ہے۔

دسمبر 2022 ء میں کاروکاری کے تنازعے سے شروع ہونے والے سندرانی – ساوند قبیلائی تکرار میں اب تک 6 لوگ قتل اور تین سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جس میں سندرانی برادری کی ایک عورت اور پروفیسر اجمل ساوند سمیت 3 مرد ساوند برادری کے قتل ہوئے، اس کے علاوہ 2 لوگ سندرانی برادری مارے گئے ہیں۔ کاروکاری کے نتیجے میں کشمور میں سالانہ 30 سے زیادہ عورتیں قتل ہوتی ہیں جو کے سرکاری اعداد و شمار ہیں مگر حقیقی اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں کیونکہ کافی کیسز رپورٹ تک نہیں ہوتے۔

اغواء، ڈکیتی اور چوری کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ یہاں کی آبادی بدامنی سے شدید متاثر ہے۔ پروفیسر اجمل ساوند کا قتل کوئی پہلا اور آخری قتل نہیں ہے اس سے دو سال پہلے کشمور میں پیپلز پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین اسرار کھوسہ نے اپنے ہی بھتیجے جاوید کھوسہ کو دن دہاڑے قتل کیا تھا، جس کی گرفتاری تک عمل میں نہیں آئی تھی، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہیں۔ جو ریاستی پشت پناہی میں ہوتی ہیں اور دوسری جانب پولیس کا کردار بھی واضح عوام دشمن ہے جب کشمور کندھ کوٹ شہر سے نازیہ کھوسو اور اسکی 5 سالہ بیٹی کوثر کھوسو کو اغوا کیا گیا تو 55 دن گزرنے کے بعد بھی کوئی بازیابی دیکھنے کو نہیں ملی جس کے خلاف ورثہ اور سیاسی تنظیموں نے مین بائی پاس پر احتجاجی کیمپ قائم کرکے دھرنا دیا تو ڈاکوؤں کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی اسی کشمور پولیس نے ورثاء اور سیاسی کارکنان سمیت 300 لوگوں کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کیا۔

پروفیسر اجمل ساوند کے قتل کے بعد کشمور میں جاری احتجاجی تحریکوں میں اب صرف قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ نہیں ہو رہا بلکہ وڈیروں، جاگیرداروں، اوران کے پالتو کرائے کے قاتلوں کی ریاستی پشت پناہی کی پالیسی کے مکمل خاتمے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

پروگریسو یوتھ الائنس ڈاکوؤں کی اس بربریت، پولیس کی ملی بھگت اور جاگیرداروں کی سرپرستی کی مخالفت کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست، ریاستی فورسز، اور عدلیہ سمیت تمام ریاستی ادارے ہمیشہ حکمرانوں اور امیروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان سے انصاف کی امید کرنا دیوانے کا خواب ہے۔ اندرونِ سندھ خصوصی طور پہ شمالی علاقہ جات جوکہ سب سے زیادہ پسماندہ ہیں، وہاں پاکستانی ریاست موجود قبائلی سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور ڈاکوؤں کا خاتمہ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ اور اپنے پالتو کتوں کے ذاتی و سیاسی مفادات کے تحفظ کی خاطر اپنی سرپرستی اور حمایت سے وہاں قتل عام کروا رہی ہے۔ اوراس طرح ان علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر کے عوام کواپنے اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے سے بھی روکنا چاہتی ہے۔ یہی حکمران طبقے اور ریاست کے مفاد میں ہے۔ لہٰذا بدامنی کے خاتمے کیلئے اس عوامی غم وہ غصے کو منظم کرتے ہوئے مزاحمت کا دائرہ کار وسیع کرنا ہوگا۔ اور اس بدامنی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے سوشلسٹ انقلاب کر کے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھنکنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.