گوجرانوالہ: ایک طالبہ کے پی وائی اے مرکزی کنونشن پر تاثرات


|تحریر : امبرین لیاقت|

اپنی گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد پہلی بار اس سماج میں ، جہاں لوگوں کے شعور کو دبایا جاتا ہے، میں نے کچھ لوگوں کو خواتین کی ہراسمنٹ، طالب علموں کے استحصال، طلبہ یونین اور محنت کش طبقے کے بنیادی حقوق اور دیگر سماجی مسائل پر بات کرتے دیکھا۔ 

مجھے پروگریسو یوتھ الائنس کے کنونشن میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی جو کہ 15 دسمبر2018ء کو لاہور میں منعقد کیا گیا تھا۔ جب میں نے اس کنونشن میں موجود لوگوں کو طلبہ کے مسائل پر بات کرتے سنا، جن میں تعلیمی اداروں میں دن بہ دن بڑھتی فیسیں، طلبہ کی ہراسمنٹ، ٹرانسپورٹ کے مسائل جن کا سامنا خاص طور پر لڑکیوں کو کرنا پڑتا ہے اور طلبہ کے دوسرے مسائل بھی شامل ہیں اور ان سب کی وجہ یہ ہے کہ آج تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین نہیں ہے، تو مجھے ایسا لگا کہ وہاں موجود لوگوں کا درد اور میرا درد ایک سا ہے کیونکہ میں بھی ایک طالب علم ہوں اور مجھے بھی ان سب کی طرح انہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہوئی کہ آخر کار طلبہ اپنے مسائل کو جانتے ہیں اور ان پر بات بھی کرتے ہیں۔

لاہور میں پی وائی اے کا ہونے والا کنونشن بہت اہمیت رکھتا ہے اور ایسے پروگرام بار بار ہونے چاہییں تاکہ دوسروں کو بھی ان مسائل کا پتہ چل سکے۔  پی وائی اے کے تمام نمائندگان جو ہر ایک کے لیے مفت تعلیم کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ایک دن اپنی منزل کو پا لیں گے کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی لوگوں کی آواز کو دبایا گیا تو انہوں نے اپنی آوازوں کو بلند کر کے اپنے لیے برابری کے حقوق حاصل کیے۔ ہم سب آزاد اور برابر پیدا ہوئے ہیں اور یہ جو چند لوگ ساری دولت کو اپنے ہاتھوں میں مرتکز کر کے اپنی خدائی کا دعوی کرتے ہیں، ہمیں آزاد اور برابر ہونے سے نہیں روک سکتے۔ 

پی وائی اے کا کنونشن ہمارے لیے ہماری جدوجہد اور پُرامن احتجاج کے لیے بہت ہمت اور حوصلے کی وجہ ثابت ہوا کہ ہماری آوازوں کو سنا جائے اور ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.