پشاور: بجلی لوڈ شیڈنگ کیخلاف جامعہ پشاور میں ہاسٹل طلباء کا سخت سردی میں احتجاج!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، پشاور|

گزشتہ شب پشاور یونیورسٹی میں بجلی لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہاسٹل کے رہائشی طلباء نے احتجاج کیا۔ طلباء نے رات 12 بجے ہاسٹلز سے احتجاجی ریلی نکالی اور وائس چانسلر کے بنگلے کے سامنے رات کو ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں دھرنہ دینے پر مجبور ہوئے۔

طلباء کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں روزانہ کئی گھنٹوں تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ پچھلے ایک ماہ سے جنریٹر کی خرابی کا بہانہ بناکر طلبہ کو بجلی فراہم نہیں کر رہی ہے۔ پروگریسو یوتھ الائنس کے صوبائی انفارمیشن سیکرٹری سہاب خان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ہاسٹلز اس وقت ایک ویرانے کا منظر پیش کررہے ہیں اور یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب طلبہ کے امتحانات شروع ہورہے ہیں۔ جس کی تیاریوں کیلئے طلباء موبائل فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ مسلسل بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے چارج تک نہیں کرسکتے۔ امتحانات کی تیاریوں کیلئے انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ یونیورسٹی کی طرف سے جو انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کی جارہی ہے وہ اتنی کمزور ہے کہ ایک فائل کھولنے کے قابل نہیں ہوتی، مگر اب بجلی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اس رہی سہی انٹرنیٹ کی سہولت سے بھی طلباء محروم ہیں۔

اس احتجاج سے قبل تمام ہاسٹلوں کے طلباء اور خاص طور پر نیو ہاسٹل کے طلباء نے ہاسٹل انتظامیہ کو اپنی شکایات بتانے کی کوشش کی، لیکن پتہ چلا کہ ہاسٹلز میں کوئی وارڈن موجود ہی نہیں ہے۔ جو اہلکار یونیورسٹی سے بطور ہاسٹل وارڈن لاکھوں روپے تنخواہ لے رہے ہیں وہ اپنے گھروں میں گرم بستر اور ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں تشریف رکھتے ہیں۔ جبکہ طلباء کو ہاسٹلوں میں بجلی، گرم پانی اور انٹرنیٹ کی سہولت کے بغیر بھیڑ بکریوں کی طرح بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ احتجاجی طلباء کا دعویٰ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ جہاں ایک طرف ہاسٹل فیسوں میں کئی گنا اضافہ کرکے طلبہ سے لاکھوں روپے اکھٹا کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف طلبہ کو ہاسٹل میں آئے روز گرم پانی کی قلت، ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا، بجلی لوڈ شیڈنگ، انٹرنیٹ کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس تمام ترصورتحال سے تنگ آکر طلباء نے 15 اور 16 جنوری کی درمیانی شب کو احتجاج کا آغاز کیا اور پھر وائس چانسلر کے شاہی بنگلے تک ریلی نکالی جو رات کے ایک بجے دھرنے میں بدل گئی۔

پی وائی اے خیبر پختونخوا کے انفارمیشن سیکرٹری نے بتایا کہ پشاور یونیورسٹی میں ہاسٹل کے مسائل کے ساتھ ساتھ طلبہ کو دیگر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔ آئے روز یونیورسٹی کی فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جارہا ہے۔ سمیسٹر سسٹم میں طلبہ کو جی پی اے کے نام پر ایک مستقل خوف میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ تمام طلبہ کو عمومی طور پر اور خاص طور پر طالبات کو قدم قدم پر نفسیاتی و جنسی ہراسانی اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پی وائی اے خیبرپختونخوا کے صوبائی انفارمیشن سیکرٹری نے بتایا کہ آج تعلیمی ادارے طلباء وطالبات کیلئے ایک ڈراؤنے عاقبت خانے میں بدل چکے ہیں۔ مگر طلبہ کے پاس اس وقت کوئی ایسا پلیٹ فارم موجود نہیں جو ان تمام مسائل کے خلاف ایک منظم نظریاتی و سیاسی جنگ لڑ سکے۔ پروگریسو یوتھ الائنس اس جدوجہد کا آغاز پورے پاکستان میں کر چکا ہے، جس کا بنیادی شعار ملک بھر میں طلبہ یونین کی بحالی اور ہر سطح پر مفت اور معیاری تعلیم کے حصول کی جدوجہد ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.