کوئٹہ: میڈیکل کالجوں کے طلبہ کی شاندار فتح، مزاحمت زندہ باد!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، بلوچستان|

بلوچستان میں بنائے گئے تین نئے میڈیکل کالجوں کی میرٹ لسٹیں طلبہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد بلآخر آویزاں کردی گئیں۔ یہ میرٹ لسٹ لورالائی میڈیکل کالج، جھالاوان میڈیکل کالج اور مکران میڈیکل کالج کی ہیں جن کے طلبہ پچھلے ایک مہینے سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ طلبہ نے کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے بھی کیے جن میں سب سے بڑا مظاہرہ کوئٹہ کی مصروف ترین شاہراہ ہاکی چوک پر ہوا۔ اس مظاہرے میں تقریباً ہزار کے قریب طلبہ نے شرکت کی اور سڑک کو ہر عام و خاص کے لیے بند کردیا۔ یہی وہ احتجاج تھا جس نے حکمرانوں کو پریشان کردیا اور اسی کی بدولت طلبہ کی جیت حقیقت میں بدل گئی۔ بلا شبہ اس جیت کا سہرا ان تمام طلبہ کے سر ہے جنہوں نے مسلسل احتجاجوں میں شرکت کی اور اپنے حقوق کی خاطر مزاحمت کا راستہ اپنایا۔

پاکستان دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں عوام کی اکثریت کو بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں۔ ملک کا سماجی انفراسٹرکچر انتہائی بوسیدہ ہے جو عالمی اور ملکی معاشی بحران کی وجہ سے مزید بوسیدگی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ حالیہ UNDP کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے یعنی پاکستان کا شمار دنیا کے نوجوان ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ مگر یہاں المیہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی آبادی کے تناسب سے نہ ہی تعلیمی ادارے موجود ہیں نہ ہی روزگار کے مواقع۔ نوجوانوں کی بہت کم تعداد یونیورسٹی تک پہنچ پاتی ہے جو مہنگی تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کے حصول کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

تین دہائیوں قبل پاکستان میں طلبہ یونین پر پابندی کے بعد طلبہ سیاست کا زوال شروع ہوگیا تھا جو سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی مکمل زوال پذیر ہوگیا۔ جو تنظیمیں ترقی پسند کہلائی جاتی تھیں وہ موقع پرستی، مفاد پرستی اور نظریاتی زوال کا شکار ہو گئیں اور انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ بناکر کر طلبہ حقوق کی سودا بازی میں ملوث ہوگئیں۔ پرانی روایتیں ٹوٹ کر بکھر گئیں اور روایتی طلبہ تنظیمیں کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئیں۔ اس پورے عرصے میں طلبہ کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لئے کوئی تنظیم یا پلیٹ فارم موجود نہ ہونے کی وجہ سے ریاست نے طلبہ پر مختلف طریقوں سے حملے جاری رکھے جن میں فیسوں میں اضافہ، تعلیمی اداروں کی نجکاری، تعلیمی بجٹ میں کٹوتی اور بنیادی سہولیات جیسا کہ ٹرانسپورٹ، ہاسٹل، صاف پانی، اساتذہ کی کمی، بلڈنگ انفراسٹرکچر اور بہتر تعلیمی ماحول کا فقدان سرفہرست ہیں۔ مگر 2008 کے معاشی بحران نے عالمی سطح پر طلبہ سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی۔ پاکستان کے طلبہ بھی اس بدلتی صورتحال میں اپنے حقوق کی خاطر میدان میں اترے اور اپنے حقوق کے لئے ملک بھر میں چھوٹی چھوٹی مگر کامیاب تحریکیں چلائیں۔

گزشتہ چند سالوں میں ملک بھر میں ہونے والی طلبہ جدوجہد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تمام روایتی تنظیمیں طلبہ کے حقوق کی جنگ کے پورے عمل سے باہر کھڑی نظر آتی ہیں اور نئے عہد کے تقاضوں کے ساتھ خود کو منسلک کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ایسی صورتحال میں نئے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ سائنسی نظریات سے لیس ایک منظم طلبہ تنظیم کی ضرورت اپنا اظہار کر رہی ہے جو ملک بھر کے طلبہ کی علمبردار ہو۔ آج جب عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام اپنے تاریخ کے سب سے گہرے بحران میں داخل ہو چکا ہے اور ریاستیں اپنی عوام پر معاشی حملے کر رہی ہیں تو ہمارے پاس جدوجہد کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔

پروگریسو یوتھ الائنس اس جدوجہد کا آغاز کر چکا ہے اور پورے پاکستان کے طلبہ کو منظم اور متحد ہونے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کررہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مفت تعلیم، مفت علاج اور روزگار کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور جہاں ریاست ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو جدوجہد فرض ہو جاتی ہے۔ پروگریسو یوتھ الائنس نے یہ عزم کیا ہے کہ وہ ان مسائل کے خاتمے کی جنگ کو ملک کے تمام طلبہ کے ساتھ مل کر لڑے گی اور آخر کار اس نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب تک جدوجہد جاری رکھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.