ملتان: ریاستی پشت پناہی میں مشعل خان کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، ملتان|

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم مشعل خان کے ریاستی پشت پناہی میں بہیمانہ قتل کے خلاف ہونیوالے ملتان میں چونگی نمبر 9پر طلبہ اور نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے کی کال پروگریسو یوتھ الائنس، ملتان کی جانب سے دی گئی تھی۔ احتجاجی مظاہرے میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ایمرسن کالج، نشتر میڈیکل کالج کے علاوہ دیگر تعلیم اداروں کے طلبہ نے بھی بھرپور شرکت کی۔

سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر طلبہ کو احتجاج سے روکنے کے لئے ضلعی پولیس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا مگر ریاستی پشت پناہی میں ہونے والی اس دہشت گردی کے واقعے کے خلاف پرعزم طلبہ پولیس کے سامنے ڈٹ گئے اور احتجاج کی کال واپس نہ لی۔ دہشت گردی، جو کہ پاکستانی ریاستی کی پالیسی کا حصہ بن چکی ہے در حقیقت ریاست کی پالیسی ہے، اس کا پیچھے یہی عزائم کارفرما ہیں کہ ان دہشت گردی کے واقعات کو بنیاد بناتے ہوئے ہر قسم کے احتجاجوں اور جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی جائے پر پابندی لگا دی جائے تاکہ محنت کش طبقہ اور نوجوان اپنے حقوق مانگنے کیلئے سڑکوں پر نہ نکل پائیں۔ یہ سارے دہشت گرد ریاست کے اپنے پالے ہوئے ہیں تاکہ سماج میں ایک خوف پیدا کیے رکھیں اور جب بھی کہیں محنت کشوں کا یا طلبہ کا احتجاج ہو تو اس احتجاج کو یہ کہہ کر یا تو ہونے نہ دیا جائے یا اگر ہو بھی جائے تو بزور طاقت اسی وقت ختم کرا دیا جائے۔ پولیس کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود مظاہرین نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اپنا احتجاج جاری رکھا۔ احتجاج کے وقت سے پہلے شروع ہونے کے باعث بہت سے طلبہ احتجاج میں شامل نہ ہوسکے۔
احتجاج کے دوران شرکاء کا کہنا تھا کہ مشعل کا قتل غیر انسانی اور وحشی عمل تھاجس نے پوری قوم کوصدمے میں ڈال دیا ہے۔ اب چونکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مشعل کے قتل میں انتظامیہ کا ہاتھ تھا جس نے اپنے پالتو غنڈوں جمعیت، تحریک انصاف اور پختون ایس ایف کے ذریعے مشعل کو قتل کروایا تاکہ انکی کرپشن پر کوئی بات نہ کر پائے لہٰذا انتظامیہ سمیت اس وحشی عمل میں ملوث تمام لوگوں کو سر عام پھانسی دی جائے۔ اس عمل میں جو وحشی درندے شامل تھے ان کو ریا ستی پشت پناہی حاصل ہے۔ہر تعلیمی ادارے کے اندر انتظامیہ اور ریاستی پشت پناہی سے جمعیت جیسی فاشسٹ تنظیم کو کھلے عام غنڈہ گردی کرنے اجازت دی جاتی ہے تاکہ طلبہ منظم ہو کر فیسوں میں اضافے، نجکاری اور دیگر مسائل کے لئے جدوجہد نہ کرسکیں۔ مشعل کا واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آج ہمیں ان غنڈوں سے اپنے تعلیمی اداروں کو آزاد کرانا ہوگاتا کہ آئندہ ایسے واقعے پیش نہ آئیں۔اور تعلیمی اداروں سے غنڈہ گردی کو ختم کرنے کیلئے تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کی بحالی بہت ضروری ہے۔ طلبہ یونین کی بحالی سے تعلیمی اداروں میں حقیقی سیاسی کلچر کے پروان چڑھنے کی وجہ سے ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے گی۔ مظاہرین نے احتجاج کے دوران انتظامیہ اور ریاست کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.