ملتان: پروگریسو یوتھ الائنس کے زیرِ اہتمام موٹر سائیکل ریلی کا انعقاد

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، ملتان |

19دسمبر، بروز ہفتہ پروگریسو یوتھ الائنس کے زیرِ اہتمام ملک بھر کے 30 شہروں میں مہنگی تعلیم، غربت، مہنگائی، بیروزگاری، لاعلاجی اور دیگر مسائل کے گرد ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ منعقد کیا گیا۔ اسی سلسلے میں ملتان میں بھی چُنگی نمبر 9 تا گھنٹہ گھر موٹر سائیکلوں پر احتجاجی ریلی منعقد کی گئی۔

اس احتجاجی ریلی کے سلسلے میں ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکنان کی جانب سے پُرجوش کمپئین کی گئی جس میں ملتان کے مختلف محلوں میں جلسے اور کارنر میٹنگز منعقد کی گئیں، نیز ہزاروں کی تعداد میں پمفلٹس بانٹے گئے۔ ریلی کا آغاز دن تین بجے چُنگی نمبر 9 سے ہوا جس میں ترقی پسند سیاسی کارکنان، طلبہ، مزدوروں اور محنت کشوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی میں عوامی مسائل خاص کر مہنگائی، غربت اور لاعلاجی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کے بینر کے علاوہ پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکن امر فیاض کی رہائی کے مطالبے کا بینر بھی اُٹھا رکھا تھا اور جبری گمشدگیوں کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ ریلی کا اختتام گھنٹہ گھر چوک پر ہوا جہاں پر شرکاء نے تقاریر کیں۔

ریلی میں میزبانی کے فرائض پروگریسو یوتھ الائنس، ایمرسن کالج کے رکن راول اسد نے نبھائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی کے رہنما مرتضیٰ ملک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی گماشتگی میں سرکار آج محنت کش طبقے سے اس کے جینے کا حق تک چھین رہی ہے ایسی صورتِ حال میں ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کا اہتمام خوش آئند ہے۔ وسیب اتحاد پارٹی سے محمد شہباز نے نظم ”میں باغی ہوں“ سنا کر شرکاء کا لہو گرمایا۔ پروگریسو یوتھ الائنس کے ساتھی کامریڈ تقی کا کہنا تھا کہ اس وقت حقوق کی لڑائی میں محنت کشوں، طلبہ اور کسانوں کی جڑت اور سوشلزم کے نظریات ہی واحد راہِ نجات ہیں۔ پروگریسو یوتھ الائنس بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے نمائندہ عارف کھوسہ کا کہنا تھا کہ مفت تعلیم، روزگار اور علاج ہمارا بنیادی حق ہیں۔ آج ہم اپنے حق کی خاطر نکلے ہیں اور حق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے آرگنائزر فرحان رشید کا کہنا تھا کہ آج کی ریلی حکمرانوں کے لیے صرف ایک چتاؤنی ہے کہ ان کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف عوام منظم ہو رہے ہیں۔ اب ملک کے طول و عرض میں طلبہ، مزدوروں اور کسان جاگ رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب مزدور ایوانوں پر چڑھ دوڑیں گے اور عوام کی حکومت قائم ہو گی۔ نیز پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکن امر فیاض کی جبری گمشدگی پر ایک ہی سوال اُٹھتا ہے کیا مفت تعلیم، طلبہ یونین کی بحالی، ہراسگی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا مملکتِ خداداد میں جرم ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.