پنجاب یونیورسٹی لاہور: ہاسٹلوں کی قلت اور کرپٹ انتظامیہ۔۔۔حل کیا ہے؟

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، پنجاب یونیورسٹی لاہور|

پنجاب یونیورسٹی پاکستان کی سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی ہے۔ یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں دور دراز علاقوں سے طلبہ داخلہ لیتے ہیں۔ دیگر یونیورسٹیوں میں مہنگی فیسوں کے سبب پنجاب یونیورسٹی میں محنت کش اور مڈل کلاس گھرانوں سے وابستہ طلبہ بڑی تعداد میں پڑھنے آتے ہیں مگر اب پنجاب یونیورسٹی تک بھی ان کی رسائی ناممکن ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ پنجاب یونیورسٹی کی فیسوں میں گزشتہ کچھ سالوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ پیٹ کاٹ کر والدین بچوں کو یونیورسٹی میں داخل کرانے اور بھاری بھرکم فیسیں ادا کرنے میں کامیاب تو ہو گئے، مگر یونیورسٹی میں ہاسٹل کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی میں 70 سے 80 فیصد طلبہ کا تعلق دور دراز علاقوں سے ہے۔ اس سال ہر کلاس میں سے صرف تین سے چار طلبہ کو ہاسٹل الاٹ ہوئے اور جن طلبہ کو ہاسٹل الاٹ کیئے گئے انہیں اب کمرے نہیں الاٹ کیے جا رہے۔ حالانکہ ان طلبہ نے ہاسٹل فیس بھی ادا کر دی ہے۔ کچھ طلبہ کو ہالز میں رکھا گیا، جبکہ کچھ طلبہ ٹی وی روم، ہاسٹلوں کے کامن روم، مسجد اور یہاں تک کہ سٹڈی روم میں سونے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح دو طلبہ کے لیے مختص کمرے میں چار سے پانچ طلبہ رہائش پذیر ہیں اور چار طلبہ کے لیے مختص کمرے میں آٹھ سے بارہ طلبہ رہنے پر مجبور ہیں۔ طلبہ بار بار دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں جہاں انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ ہاسٹل جمیعت اورکونسلوں کے قبضے میں ہیں۔ سابق وائس چانسلر کے میڈیا کودیے گئے بیان کے مطابق یونیورسٹی کے پاس مزید ہاسٹلز تعمیر کرنے کی جگہ ہے مگر فنڈز نہیں ہیں۔ ہاسٹل کلرک آفس سے لے کر ڈیپارٹمنٹ ایڈمن آفیسر تک انتظامیہ کے کارندے بے تحاشا کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث ہیں،جس کی انکوائری کے لیے یونیورسٹی میں کوئی کمیٹی نہیں ہے۔

پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کے ساتھ اس ظالمانہ رویے کی شدید مذمت کرتاہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر نئے ہاسٹلز تعمیر کیے جائیں، اگر واقعی فنڈز کی کمی ہے تو یونیورسٹی تمام کھاتے طلبہ کے سامنے اوپن کئے جائیں، طلبہ یونین کو بحال کرتے ہوئے یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ آج طلبہ کا خود منظم ہو کر سیاسی لڑائی لڑنا نا گزیر ہو چکا ہے، کیونکہ اس کے بغیرمسائل حل ہونے والے نہیں۔ ریاست اور انتظامیہ کی حتی المقدور کوشش ہے کہ طلبہ غیر منظم اور مذہب، نسل، قوم اور زبان اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم رہیں، تاکہ طلبہ کی توجہ اور سیاست حقیقی مسائل پر نہ ہو۔ اسی وجہ سے جمیعت اور قومی و لسانی بنیادوں پر بنی کونسلوں کو کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ مجبور کرتی ہے کہ طلبہ ان میں سے کسی ایک گروہ کا حصہ بن جائیں، ہاسٹلوں میں بہت سے کمرے جمیعت کے قبضے میں ہیں اور اسی طرح کونسلوں نے بھی کمروں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ جمیعت و کونسلوں کی سیاست محض یہیں تک محدود رہ گئی ہے۔ طلبہ سیاست کو چند وقتی مفادات تک محدود رکھنا ہی درحقیقت ریاست اور انتظامیہ کی پالیسی ہے۔

ملک کے معاشی، سیاسی، ریاستی بحران کے پیش نظر شعبہ تعلیم مزید بربادی کی طرف جائیگا۔ حکمرانوں کی طرف بحران کا سارا بوجھ محنت کشوں اور طلبہ پر ڈالا جا رہاہے۔ اس تمام تر صورتحال سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مزاحمت کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔ ناقابلِ شکست جدوجہد منظم اور متحد ہو کر ہی کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا جب تک طلبہ کے جمہوری حق طلبہ یونین پر پابندی عائد ہے تب تک پنجاب یونیورسٹی میں ہرکلاس اور ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں پر مشتمل طلبہ کی منتخب کمیٹیاں تشکیل دینا ہوں گی۔ پنجاب یونیورسٹی کی اس طلبہ کی منتخب کمیٹی کو اسی طرح کی لاہور کی باقی یونورسٹیوں اور کالجوں کی منتخب کمیٹیوں سے جوڑ کر لاہور کی سطح پراور پھر پورے صوبے اور ملک گیر سطح پر طلبہ کی منتخب کمیٹیاں بنا کر منظم ہونا ہوگا۔

طلبہ یونیں پر پابندی، فیسوں میں اضافے، تعلیمی بجٹ میں کٹوتی، ہراسمنٹ، ٹرانسپورٹ اور ہاسٹلوں کی قلت جیسے مسائل سے حتمی نجات کے لیئے طلبہ کی ان منتخب کمیٹیوں کو مزدوروں اور کسانوں سے جوڑکر ان مسائل کی بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے سوشلسٹ انقلاب برپا کرناہوگا۔

انقلاب کے تیں نشان۔۔۔۔ طلبہ،مزدور اور کسان!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.