ملتان: ایجوکیشن یونیورسٹی کے طلباء کا انتظامیہ کی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، ملتان|

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے طلباء نے 4 فروری کی صبح بوسن روڈ کو بند کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ تقریباً 145 سٹوڈنٹس کو پیپرز میں بیٹھنے نہیں دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سارے سٹوڈنٹس کا پورا تعلیمی سال ضائع ہونے جا رہا ہے۔ پیپرز میں نہ بیٹھنے کی وجہ نا مکمل حاضری بتایا جا رہا ہے جبکہ سٹوڈنٹس کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے جرمانہ بھی ادا کر دیا ہے مگر اس کی با وجود پیپرز دینے کی لسٹ میں ان کے نام شامل نہیں ہیں۔ انتظامیہ کسی بھی قسم کی بات سننے سے انکاری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی میں ظالمانہ آمریت لاگو ہے جس میں طلباء سے کسی بھی طرح کی غلطی یا کوتاہی پر جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے اور اس کی مکمل لسٹ موجود ہے جس میں مختلف طرح کے جرمانوں کے باقائدہ ریٹ درج ہیں۔کلاس میں دیر سے آنا یا غیر حاضری، یونیفارم کا نہ ہونا، اسائنمنٹ نہ جمع کروانا کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سارے جرمانے شامل ہیں۔ طلباء کو پیپرز دینے سے روک کر ان سے سپلی کے نام پر مزید فیسں کمائی جائے گی جو کہ پہلے سے ہی پسے ہوئے ہیں۔

یہ احتجاج 2 بجے تک جاری رہا اور طلباء نے بوسن روڈ پر ٹریفک بند کر کے دھرنا جاری رکھا اس دوران پولیس کے مسلح جتھے بھی وہاں کھڑے رہے۔ طلباء کو حراساں کرنے کے لیے پولیس نے طلباء کو انتظامیہ سے مزاکرات کی دعوت دی اور ثالث کا قردار ادا کرنے کا بولا جس کی نتیجے میں انتظامیہ اور طلباء کے درمیان فرضی معاہدہ طے پایا جس کے مطابق طلباء سے اگلے ہفتے میں امتحان لئے جائیں گے۔ جس کے بعد احتجاج ختم ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.