ملتان: بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ٹیلی کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ کا احتجاج اور شاندار کامیابی

|رپورٹ: عبد الرحمان ساسولی|

28فروری 2018ء کو بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے ٹیلی کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ نے یونیورسٹی کے مین گیٹ پر احتجاج کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹ کے ایک پروفیسر کی جانب سے جاری کردہ رزلٹ میں سکندر نامی طالب علم کو جان بوجھ کر فیل کر دیا گیاہے۔ سکندر پانچویں سمسٹر کا طالب علم ہے۔

 

ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ نے مذکورہ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین مظفر کو یہ بات بتائی اور پروفیسر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور یہ کہا کہ یہ پروفیسر HECکے قوانین کے مطابق غیر قانونی طور پر تعینات ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تقریباً تین چار ہفتے تک طلبہ چیئر مین کے پاس جاتے رہے مگر ان کی ایک نہ سنی گئی اور بالآخر جواب دیا کہ وہ میرا آدمی ہے اور اسے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ چیئر مین کے حوالے سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی غیر قانونی طور پر تعینات ہے۔اس دوران طلبا اور خاص طور پر طالبات کے گھروں میں فون کر کے گھر والوں کو یہ کہا گیا کہ آپ کے بچے اور بچیاں تنظیموں کا حصہ ہیں وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو شدید ذہنی دباؤ کا شکار رکھا گیا۔ اس سے تنگ آکر طلبہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے حق کیلئے احتجاج کریں گے۔ لہٰذا بدھ کے دن 1بجے احتجاج کا آغاز کیاگیا۔طلبہ نے یونیورسٹی کے مین گیٹ کو بند کر دیا۔ جس کے بعد یونیورسٹی کے آر اواور سیکیورٹی انچارج کو وہاں خود آنا پڑا۔

آغاز میں احتجاج سے انتظامیہ شدید خوف میں آگئی اور احتجاج کو ختم کرانے کیلئے طلبہ کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا گیا۔ سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے موبائل فون کے ذریعے ان کی وڈیوز بنائی گئیں۔ یہاں تک کے ڈرون کیمرے تک کو استعمال کیا گیا۔ شدید خوف کا ماحول بنانے کے بعد بھی جب طلبہ کو ڈرایا نہ جا سکا تو بالآخر انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کو تشدد کا حکم دے دیا گیا۔ سیکیورٹی گارڈز نے طلبا اور طالبات کو گھسیٹ گھسیٹ کر وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی کے تشدد کا جواب طلبہ نے اپنی جرات اور ثابت قدمی کیساتھ دیا اور ڈٹے رہے۔ اس کے بعد انتظامیہ کی جانب سے انتہائی گھٹیا حرکت کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیکیورٹی انچارج نے ایک لڑکے کے کان میں کہا کہ یونیورسٹی کی بس کا شیشہ توڑ دو۔ جس کے بعد طلبا نے سیکیورٹی انچارج کو خوب ذلیل اور بدنام کیا۔ آر او کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی گئی۔ بالآخر انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور طلبہ سے یہ معاہدہ کیا گیا کہ سکندر کو دوبارہ کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے گی۔ تین گھنٹے کے قریب جاری رہنے کے بعد ایک کامیاب احتجاج کا اختتام کیا گیا۔ 
پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکنوں نے طلبہ کی اس لڑائی میں ان کا بھرپور ساتھ دیا اور آخر تک ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ مستقبل میں بھی

اگر انتظامیہ کی جانب سے ان طلبہ کیخلاف کوئی ایکشن لیا گیا تو پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ 
پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کو شاندار کامیابی پر مبار ک باد پیش کرتی ہے۔

طلبا اتحاد زندہ باد!

ایک کا دکھ، سب کا دکھ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.