جامشورو: سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل کی قرنطینہ میں تبدیلی نامنظور

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، جامشورو|

سندھ یونیورسٹی جامشورو کی انتظامیہ نے ہمیشہ کی طرح منافقانہ رویہ اپناتے ہوئے بغیر کسی نوٹیفیکیشن یا اعلامیہ کے ذوالفقار بھٹو ہاسٹل (زیڈ اے ہاسٹل) کے 13 کمروں کو قرنطینہ میں تبدیل کرتے ہوئے کورونا کے 11 مریض (جن کا تعلق تبلیغی جماعت سے تھا) وہاں منتقل کیے، جبکہ ہاسٹل کی کمی کے باعث آئے دن یونیورسٹی میں احتجاج نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی ہاسٹل کے بہت سے کمرے پولیس کو پہلے سے ہی دیے جا چکے تھے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل انتظامیہ کی طرف سے ایسے بہت سے اقدامات کیے گئے۔ مثال کے طور پر اچانک ہاسٹل فیسوں میں اضافہ، ہر سال داخلہ فیس میں اضافہ، بسوں کی کمی اور کرائے کے اضافے سمیت دیگر بہت سے ایسے معاملات ہے جن کے متعلق طلبہ کو اطلاع نہیں دی گئی اور آمرانہ رویا اپناتے ہوئے وی سی فتح محمد برفت نے ان کا حکم جاری کیا۔ جب میڈیا پہ یہ خبر چلی تو سندھ یونیورسٹی کے طلبہ پریشان ہوگئے اور ردعمل میں سوشل میڈیا پہ انہوں نے غصے کا اظہار کیا۔

پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ، اساتذہ اور سندھ یونیورسٹی کے محنت کشوں سے پرزور اپیل کرتا ہے کہ زندگیوں کو مذاق سمجھنے والے وی سی صاحب کو مزاحمت کے ذریعے آگاہ کیا جائے کہ اب یہ معاملات قطعی طور پہ برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ یہ مشترکہ جنگ اب مشترکہ طور پہ لڑنے کی ضرورت ہے لہٰذا ہمیں اب متحد ہوکے اس عمل کے خلاف تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہے کہ ہاسٹل کو فی الفور خالی کرکے صاف کیا جائے اور مریضوں کو دیگر خالی عمارتوں، یعنی وی سی ہاؤس یا جامشورو کے جاگیرداروں کی حویلیوں میں منتقل کر کے انہیں قرنطینہ سنٹر میں تبدیل کیا جائے۔ اس کے علاؤہ سمیسٹر بریک نہ دینے اور اس وبا کے دوران طلبہ سے فیسیں بٹورنے جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔ ان تمام مسائل کے حل کے لئے طلبہ کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.