جامشورو: سندھ یونیورسٹی کے چوتھے سمیسٹر کے طلبہ کا انتظامیہ کے آمرانہ اقدام کے خلاف احتجاج!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، جامشورو (سندھ)|

مورخہ 29 اکتوبر، بروز جمعرات سندھ یونیورسٹی کے آخری سمیسٹر کے طلبہ کی جانب سے اے سی ٹو کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج میں اکثریت چوتھے سمیسٹر کے طلبہ کی شامل تھی۔ یہ احتجاج طلبہ کو جبراً ہاسٹل سے نکالے جانے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے آمرانہ احکامات پر مبنی نوٹس کے ردِعمل میں کیا گیا تھا۔ اس نوٹس میں طلبہ کو پابند کیا گیا کہ نومبر سے دو سیشنز پر مشتمل باقاعدہ کلاسوں کا آغاز کیا جائے گا۔ پہلا سیشن 2 نومبر سے شروع ہو گا جس میں صرف دوسرے اور تیسرے سمیسٹر کے طلبہ کی کلاسیں ہوں گی، اس دوران پہلے اور چوتھے سمیسٹر کے طلبہ کو ہاسٹل میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی اور 15 نومبر سے پہلے اور چوتھے سمیسٹر کے طلبہ کی کلاسیں جاری کی جائیں گی جس پر دوسرے اور تیسرے سمیسٹر کے طلبہ کو ہاسٹل میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ سندھ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے اس آمرانہ اقدام پر طلبہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ نظر آیا جو بالآخر طلبہ کے احتجاج میں تبدیل میں ہو گیا۔

احتجاج میں طلبہ نے ان احکامات کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ احتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ ابھی ان کا آخری سمیسٹر چل رہا ہے اور ان کا تعلق دور دراز علاقوں سے ہے۔ آخری سال میں تھیسس اور پراجیکٹ پر بھی کام کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا طلبہ کے لیے ہر 15 دن کے بعد اپنے گھروں کو جانا اور واپس آنا بہت مشکلات کا باعث ہے۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ جن دنوں ان کی کلاسیں نہیں ہوں گی ان دنوں انہیں ہاسٹل میں رہائش فراہم کی جائے۔ احتجاج کے چند گھنٹوں بعد انتظامیہ کو طلبہ کے مطالبے کے سامنے جھکنا پڑا اور طلبہ کے ساتھ مذاکرات کر کے جلد از جلد مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ پروگریسو یوتھ الائنس کے ساتھیوں نے بھی اس احتجاج میں شرکت کی۔

پروگریسو یوتھ الائنس جہاں اس مکمل عمل میں طلبہ کے شانہ بشانہ کھڑا رہا وہیں طلبہ کے مطالبے کی غیر مشروط حمایت بھی کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ تعلیمی سلسلے کی تقسیم کرنا اور طلبہ کو منتشر کرنا دراصل تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کی طلبہ تحریک سے خوف کی علامت ہے۔ انتظامیہ مستقبل میں دیوہیکل طلبہ تحریک سے بخوبی باخبر ہے، جس کے سبب تعلیمی اداروں کو پوری طرح نہیں کھولا جا رہا اور کوشش کی جا رہی ہے کہ طلبہ بیک وقت تعلیمی اداروں میں موجود نہ ہوں۔ پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کو یہ باور کرواتا ہے کہ وعدہ خلافی کرنا انتظامیہ کے خمیر میں موجود ہے، طلبہ پر اس طرح کے حملے مستقبل میں مزید تیز ہوں گے۔ اس لیے طلبہ کو چاہیے کہ اس معاملے کو فقط آخری سمیسٹر کے طلبہ تک محدود رکھنے کی بجائے تمام طلبہ کے عمومی مسائل، جن میں فیسوں کا مسئلہ، ٹرانسپورٹ، ہاسٹلز، ہراسمنٹ اور طلبہ یونین پر پابندی کے مسائل شامل ہیں، کے ساتھ جوڑ کر طلبہ تحریک کو وسعت بخشی جائے۔ پروگریسو یوتھ الائنس ملک بھر کے طلبہ کو طلبہ دشمن انتظامیہ اور حکومت کے تمام طلبہ دشمن اقدامات کے خاتمے کی خاطر طلبہ یونین کی بحالی کے لیے پروگریسو یوتھ الائنس کی ملک گیر مہم کا حصہ بننے کی دعوت دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.