پشاور: پشاور یونیورسٹی میں آن لائن امتحانات کے لئے احتجاج پانچویں روز بھی جاری

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، پشاور|

پشاور یونیورسٹی میں آج 25 جنوری کو طلبہ نے آن لائن امتحانات کے مطالبے اور آن کیمپس امتحانات کی پالیسی کے خلاف زبردست احتجاج کیا جس میں سیکنڑوں طلبہ شریک ہوئے۔ یہ احتجاج پچھلے ایک ہفتے سے تسلسل کی ساتھ جاری ہے جس کو یونیورسٹی کے عام طلبہ نہایت پُرامن طریقے سے منظم کرتے آ رہے ہیں لیکن یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر خاص طور پر، جو یونیورسٹی کا خدا بنا بیٹا ہے، طلبہ کے مطالبات ماننے سے تو انکاری ہے ہی لیکن اس پورے عرصے میں اس نے طلبہ کے پاس آ کر ان کی بات سننا بھی گوارا نہیں کیا۔ یعنی انہی طلبہ سے ایک ملاقات اور بات کرنے کے لائق بھی نہ سمجھا گیا جن کی فیسوں سے یہ یونیورسٹی چل رہی رہے، وائس چانسلر کو تنخواہ، مراعات اور عیاشیاں حاصل ہو رہی ہیں اور پوری انتظامیہ اپنا پیٹ پال رہی ہے۔

طلبہ نے آج ایک بار پھر سے احتجاج کا آغاز کرتے ہوئے تین بجے تک مطالبات پورے کرنے کا وقت دیا تھا لیکن وائس چانسلر کے ضد پر قائم رہنے کے بعد طلبہ نے مجبورا ًیونیورسٹی کے مین گیٹ کی طرف مارچ کیا اور گیٹ کے سامنے یونیورسٹی روڈ کو ایک طرف سے بلاک کر دیا۔ طلبہ کو ڈرانے اور منتشر کرنے کی غرض سے انتظامیہ نے ایک بڑی تعداد میں پولیس تعینات کروائی اور پھر طلبہ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے نمائندوں کو بہلا پھسلا کر اور انہیں ڈرا دھمکا کر آج ایک بار پھر احتجاج ختم کروایا کہ کل تک وائس چانسلر ان سے مل کر ضرور مذاکرات کرے گا اور ان کے مطالبات پر غور کرے گا۔

یہ احتجاج شروع دن سے یونیورسٹی کے طلبہ منظم کرتے آ رہے ہیں جس میں کسی قسم کے پرانے لیڈروں اور طلبہ سیاست پر عرصہ دراز سے براجمان روایتی تنظیموں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ البتہ ان کی طرف سے اس احتجاج سے بائیکاٹ کیا گیا اور بہ حسب توفیق ان کی طرف سے انتظامیہ کی حمایت میں احتجاجی طلبہ کو برا بھلا کہنے اور الزامات لگانے کی کوشش ضرور کی گئی۔

اس احتجا ج کی قیادت خود طلبہ نے سنبھالی جو اپنے مطالبات کے منوانے کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں اور مطالبات منوانے تک ڈٹے رہنے کا جوش و جذبہ ظاہر کر رہے ہیں اور پُر امن ہیں۔ طلبہ کی ایک لمبے عرصے سے سیاست سے بیگانگی کے نتیجے میں وہ کچھ غلطیاں کریں گے لیکن اپنی جدوجہد میں وہ ان تجربات سے لازمی اہم اسباق سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ پروگریسو یوتھ الائنس کے ساتھی شروع دن سے پشاور یونیورسٹی کے طلبہ کی اس تحریک میں شامل رہے ہیں اور ان احتجاجوں کو منظم کرنے میں بہت شاندار کردار ادار کرتے رہے ہیں۔ پروگریسو یوتھ الائنس کے ساتھیوں نے احتجاج کے شروع دن سے طلبہ کی ایک نمائندہ کمیٹی منتخب کرنے کی تجویز بالکل واضح طور پر رکھی اور بغیر قیادت کے کسی ہجوم کی شکل میں احتجاجی عمل کو بڑھانے کی بے فائدہ جدوجہد پر تنقید کی اور اس تجویز کو طلبہ کی اکثریت کی طرف سے بہت پذیرائی ملی جس کو عملی جامہ پہنانے کی ایک کوشش بھی کی گئی۔

آج پانچویں روز اس خود ساختہ قیادت نے جب چار گھنٹوں کے بعد مطالبات منوائے بغیر احتجاج کو ایک دن کے لیے پھر ملتوی کرنے یا دوسرے لفظوں میں ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس خود ساختہ قیادت کو اکثر طلبہ کی طرف سے سخت سرزنش و ملامت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن طلبہ اپنی لڑائی کا آغاز کر چکے ہیں اور پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ کے کسی بھی دھوکے میں آئے بغیر اپنے مطالبات حاصل کرنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور اس جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے طلبہ کی یونین کی بحالی کے مطالبے کے ساتھ جوڑیں تاکہ طلبہ اپنی منتخب شدہ کمیٹیوں کی قیادت میں اپنے مسائل کے حل کی لڑائی لڑ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.