ساہیوال: یونیورسٹی آف ساہیوال کے طلبہ کا گزشتہ پانچ سالوں سے ڈگریاں نہ ملنے پر احتجاج کا اعلان

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس|

5 جون 2022ء کو یونیورسٹی آف ساہیوال سے فارغ التحصیل طلبہ کی دعوت پر پروگریسو یوتھ الائنس کے وفد نے ساہیوال کا دورہ کیا اور ان طلبہ کے ساتھ ایک تفصیلی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس نشست میں’پاکستان کی موجودہ صورت حال اور اس میں نوجوانوں کے کردار‘ کے ساتھ ساتھ پی وائی اے کے تعارف پر بات کی گئی۔ پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکن راول اسد نے اس نشست کو چیئر کیا اور آغاز میں پی وائی اے کا مختصر تعارف کرایا۔ اس کے بعد فضیل اصغر نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال اور اس میں نوجوانوں کے کردار پر تفصیلی بات کی۔ فضیل اصغر کی تفصیلی بات کے بعد طلبہ کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے اور تمام شرکاء نے بحث میں بھرپور حصہ لیا۔

تفصیلی سیاسی بحث کے بعد طلبہ کی جانب سے انہیں درپیش ایک سنگین مسئلہ کے بارے میں پی وائی اے کے کارکنان کو آگاہ کیا گیا۔ اس نشست میں موجود طلبہ کا کہنا تھا کہ 2021ء میں یونیورسٹی آف ساہیوال سے وہ فارغ التحصیل ہوئے تھے، جبکہ تاحال انہیں یونیورسٹی کی جانب سے ڈگری نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2016ء سے پہلے یہ یونیورسٹی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کا سب کیمپس ہوا کرتی تھی جو 2016ء کے بعد آزادنہ حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ آزادانہ حیثیت اختیار کرنے کے بعد سے آج تک اس یونیورسٹی سے جتنے بھی طلبہ فارغ التحصیل ہوئے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی ڈگری نہیں ملی۔ یعنی کہ پہلا بیچ 2018ء میں پاس ہوا تھا جسے تاحال ڈگری نہیں ملی۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ سے کئی بار اپیل کر چکے ہیں کہ براہ مہربانی انہیں ان کی ڈگری دے دیں تا کہ وہ اپنی آگے کی تعلیم سکون سے جاری رکھ سکیں۔ مگر ان کی ہر بار سنی اَن سنی کر دی جاتی رہی۔ کبھی یہ کہا جاتا کہ پرانا وی سی جانے والا ہے اور اس کی جگہ نیا وی سی آکر یہ مسئلہ حل کرے گا تو کبھی یہ کہا جاتا کہ ابھی گورنر پنجاب موجود نہیں لہٰذا نئے گورنر پنجاب کے آنے کے بعد مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بہرحال اب تو گورنر پنجاب آ چکا ہے، مگر تا حال مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ لہٰذا اب طلبہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کچھ ہی دن بعد ایک احتجاج کیا جائے گا۔

اس حوالے سے پی وائی اے کے کارکنان کی جانب سے طلبہ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ اس احتجاج کی بھرپور کمپئین کی جائے۔ جس میں یونیورسٹی آف ساہیوال سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ تک اس کا پیغام لے جایا جائے۔ اسی طرح اپنے مطالبات کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اس میں شامل کیا جا سکے۔ مطالبات میں فیسوں میں اضافے سمیت طلبہ کو درپیش دیگر مسائل کو بھی شامل کیا جائے۔ اسی صورت ہی انتظامیہ پر پریشر ڈالا جا سکتا ہے۔ اس تجویز کو طلبہ نے سراہا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے عزم کیا۔ اب اس کمپئین کیلئے جلد ایک پمفلٹ چھاپا جائے گا۔ یہ پمفلٹ یونیورسٹی آف ساہیوال سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ پمفلٹ چھاپنے کیلئے طلبہ سے ہی فنڈ اپیل بھی کی جائے گی۔ اس طرح شہر بھر کے طلبہ کی حمایت حاصل کی جائے گی۔

پی وائی اے کے کارکنان نے اس احتجاجی تحریک میں ان کا بھرپور ساتھ دینے اور ملک بھر میں ان کے مسئلہ کو اجاگر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ہم یہ پورے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ جب اس کمپئین کا آغاز ہوگا تو قوی امکانات ہیں کہ کمپئین کے دوران ہی مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے۔ اگر پھر بھی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تو یقیناً احتجاج کے دائرہ کار کو پھر وسیع کیا جائے گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یونیورسٹی آف ساہیوال کے طلبہ مستقل مزاجی اور جرات کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھاتے ہیں تو نا صرف انہیں کامیابی ملے گی بلکہ یہ کامیابی باقی طلبہ کیلئے بھی ایک شاندار مثال ثابت ہوگی جو اُنہیں بھی اپنے حق کیلئے جدوجہد کا رستہ اختیار کرنے کا حوصلہ دے گی۔

طلبہ اتحاد زندہ باد!
جینا ہے تو لڑنا ہوگا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.