لاہور: ’’سی پیک؛ ترقی یا سامراجی غلامی‘‘ انجینئرنگ یونیورسٹی میں سٹڈی سرکل کا انعقاد

|رپورٹ: خالد نادر جان|

پروگریسیو یوتھ الائنس(PYA) کے زیر اہتمام 16دسمبر کو انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں ’’سی پیک؛ ترقی یا سامراجی غلامی‘‘کے موضوع پر سٹڈی سرکل منعقد کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ قریباً 35 سے زائد طلبہ نے سٹڈی سرکل میں شرکت کی۔ سرکل کی سب سے خاص بات سرکل میں ہونے والی بحث میں نوجوانوں کی بھرپور شمولیت تھی۔ قریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی بحث میں سارے اسٹوڈنٹس آخر تک ناصرف موجود رہے بلکہ کھل کر سوالات بھی کئے۔

موضوع پر بحث کا آغاز پروگریسیو یوتھ الائنس کی جانب سے زین العابدین نے کیا اور کہا کہ سی پیک سے پاکستان کے حکمران ترقی اور خوشحالی کے دعوے کر رہے ہیں اور سی پیک کو غربت، بیروزگاری، دہشت گردی سمیت تمام مسائل کا حل بنا کر پیش کر رہے ہیں جو کہ سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ سی پیک درحقیقت سامراجی لوٹ مار کا منصوبہ ہے جس میں پاکستانی حکمران طبقہ اپنی لوٹ مار اور کمیشنوں کے چکر میں چینی حکمران طبقے کی دلالی کر رہا ہے۔ سی پیک میں ہونے والی سرمایہ کاری دراصل بھاری سود پر قرضے ہیں جو کہ اس ملک کی بیس کروڑ عوام کو واپس کرنے ہوں گے۔ پہلے ہی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضے واپس کر کے اس ملک کے محنت کشوں کی جو حالت بنی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں اور ریاستی ادارے سی پیک کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے بیتاب ہیں۔ کمیشن اور لوٹ مار کی لڑائی میں مختلف ریاستی اداروں کا ٹکراؤ بھی ہوتا نظر آرہا ہے جس میں پاک فوج سرفہرست ہے۔

مزید برآں سی پیک کے پیچھے چین کے بڑھتے ہوئے سامراجی عزائم ہیں جو کہ گزرتے وقت کے ساتھ واضح ہوتے جائیں گے۔ چین کا خطے میں بڑھتا ہوا سامراجی اثرورسوخ امریکی سامراج کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ خطہ مختلف سامراجی قوتوں کی لڑائیوں کا اکھاڑہ بننے کی طرف جائے گا۔ اس صورتحال میں یہ منصوبہ کسی طور بھی امن کا پیغام لے کر نہیں آرہا بلکہ یہ پورا خطہ مزید عدم استحکام اور انتشار کا شکار ہونے کی طرف جائے گا۔

اس سارے منصوبے پر کام کرنے کے لئے بڑی تعداد میں چینی محنت کش پاکستان آرہے ہیں جو کہ ایک ترقی پسند قدم ہے۔ چینی محنت کشوں کی پاکستانی محنت کشوں اور نوجوانوں کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جڑت بننے کی طرف جائے گی۔ چینی محنت کش طبقہ بھی چینی حکمرانوں کے خلاف لڑائی میں اتر رہا ہے۔ زین کا کہنا تھا کہ سامراجیت سرمایہ دارانہ نظام کا جزو لاینفک ہے اور قومی بنیادوں پر اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس سامراجی لوٹ مار سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے ۔ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی اس لوٹ مار سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ چینی محنت کشوں سمیت خطے کے دیگر ممالک کے محنت کشوں کے ساتھ ایک طبقاتی جڑت بناتے ہوئے اس نظام کے خلاف ایک فیصلہ کن لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد سٹڈی سرکل کے شرکا نے ناصرف سی پیک بلکہ سوشلزم کے حوالے سے مختلف سوالات کئے جن کا ڈاکٹر آفتاب نے تفصیلاً جواب دیا۔ آنے والے دنوں میں بھی سٹڈی سرکل کے اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا اور دیگر موضوعات پر بھی نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.