اسلام آباد: پروگریسو یوتھ الائنس کے زیرِ اہتمام احتجاجی ریلی کا انعقاد

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، اسلام آباد|

19دسمبر، بروز ہفتہ پروگریسو یوتھ الائنس کے جانب سے منعقد کردہ ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کے موقع پر پاکستان کے 30 شہروں میں مفت تعلیم، طلبہ یونین کی بحالی، جنسی ہراسانی کے خاتمے، ریاستی اغواء کاریوں، مہنگائی، غربت، لاعلاجی، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی طلبہ و مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف پروگریسو یوتھ الائنس کی جانب سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کی مناسبت سے پروگریسو یوتھ الائنس، اسلام آباد نے بھی ایک شاندار ریلی منعقد کی اور دورانِ ریلی تین مقامات پر احتجاج بھی ریکارڈ کرائے۔ ریلی میں سینکڑوں طلبہ، اہل علاقہ اور مختلف ٹریڈ یونینز جن میں فیڈرل گرینڈ ہیلتھ الائنس، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے متاثرین اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے اساتذہ نے شرکت کی۔ ریلی اور احتجاجوں میں میزبانی کے فرائض ریڈ ورکرز فرنٹ، اسلام آباد کے راہنما راجہ عمر ریاض نے ادا کیے اور مقررین میں پروگریسو یوتھ الائنس، اسلام آباد کے راہنماؤں علی رضا، مسعود، حارث، اور سنگر خان نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔

ریلی کے شرکاء مقررہ وقت پر غوری ٹاؤن وی آئی پی بلاک کے گول چکر میں اکھٹے ہوئے، جہاں پروگریسو یوتھ الائنس، شمالی پنجاب کے آرگنائزر سنگر خان نے شرکاء سے خطاب کیا اور شرکاء کو ریلی میں خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں ”سٹوڈنٹس ڈے آف ایکشن“ کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد فیڈرل گرینڈ ہیلتھ الائنس کے نمائندے نے خطاب کرتے ہوئے پمز ہسپتال کی نجکاری کے خلاف جاری تحریک سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد غوری ٹاؤن سے براستہ کنھہ پل، برمہ ٹاؤن اور ترامڑی چوک ہاسٹل سٹی چٹھہ بختاور تک موٹر سائیکل ریلی نکالی گئی، برما ٹاؤن پہنچ کر ریلی کے شرکاء نے برما ٹاؤن میں ایک مختصر احتجاج ریکارڈ کرایا جس میں ریڈ ورکرز فرنٹ، اسلام آباد کے راہنما راجہ عمر ریاض نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ادویات، راشن، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے نے مہنگائی کے ذریعے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے حکمران طبقے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

برما ٹاؤن میں مختصر احتجاج کے بعد موٹر سائیکل ریلی انقلابی گیتوں کی گونج کے ساتھ کچھ ہی دیر میں ترامڑی چوک پہنچی اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ترامڑی چوک کے احتجاج میں دیہاڑی دار مزدوروں نے بھی شرکت کی، جہاں پروگریسو یوتھ الائنس، اسلام آباد کے راہنما مسعود نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بھڑتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف بات رکھی۔ ترامڑی چوک احتجاج کے بعد ریلی اپنے آخری پڑاؤ ہاسٹل سٹی کی طرف روانہ ہو گئی۔ ہاسٹل سٹی پہنچنے پر بڑی تعداد میں طلبہ ریلی کو خوش آمدید کہنے کے لئے وہاں اکھٹے ہوئے تھے۔ انہوں نے ریلی کے شرکاء کا والہانہ استقبال کیا اور طلبہ نے ’زندہ ہیں، طلبہ زندہ ہیں‘ کے نعرے لگائے۔ نعروں کے بعد پروگریسو یوتھ الائنس، اسلام آباد کے راہنما حارث نے شرکاء سے خطاب کیا اور فیسوں میں اضافے، طلبہ یونین پر عائد پابندی اور بغیر سہولیات کے آن لائن کلاسوں کے خلاف بات رکھی۔ اس کے بعد ہاسٹل سٹی میں تھری سٹار ہاسٹل سے ہجرہ کیفے تک پیدل مارچ کیا گیا اور ہجرہ کیفے پر پہنچ کر پروگریسو یوتھ الائنس، ہاسٹل سٹی کے آرگنائزرز علی اور احمد نے ہراسگی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف بات رکھی۔ آخر میں پروگریسو یوتھ الائنس، شمالی پنجاب کے آرگنائزر سنگر خان نے ریلی کی آخری تقریر کی اور حکمران طبقے کی طلبہ دشمن پالیسیوں کے خلاف بات رکھی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے نے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین پر پابندی عائد کر کے طلبہ سے ان کی حقیقی نمائندگی کا حق چھین لیا ہے اور اُن پر طلبہ دشمن پالیسیاں مسلط کی جا رہی ہیں۔

دن بدِن فیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، آن لائن کلاسوں کے نام پر طلبہ کو لوٹا جا رہا ہے، طلبہ سے ہاسٹل اور بسوں کی سہولت چھینی جا رہی ہے اور دن بدِن بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کامریڈ سنگر نے حکمران طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنی طلبہ دشمن پالیسیوں سے باز نہیں آئیں گے تو ہم اس کمپئین کو ملک کے ہر تعلیمی ادارے اور ہر محلے تک لے کر جائیں گے۔ آخر میں سنگر خان نے ملک کے تمام طلبہ سے یہ اپیل کی کہ وہ پروگریسو یوتھ الائنس کا حصہ بنیں اور طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے اس استحصالی نظام کا خاتمہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.