کوئٹہ: آن لائن کلاسز کے خلاف طلبہ کا احتجاج

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، بلوچستان|

کرونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کے باوجود کوئٹہ کے طلبہ نے اپنے مطالبات کے لیے 2 مئی 2020 کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس احتجاجی مظاہرے سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ طلبہ کسی صورت بھی طلبہ دشمن اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

بیوٹمز (BUITEMS)، بلوچستان یونیورسٹی اور سردار بہادر خان یونیورسٹی کے طلبہ نے سہولیات کے بغیر آن لائن کلاسز کو مسترد کرتے ہوئے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کیا۔ اس احتجاج کا مقصد بلوچستان جیسے غریب صوبے کے طلبہ کے ساتھ آن لائن کلاسز کے نام پر ہونے والے فراڈ کو فوری طور پر روکنا اور طلبہ کو سمیسٹر بریک دینا تھا۔ طلبہ نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر یونیورسٹی انتظامیہ کی منافع خوری کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس عالمی وباء سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے دوران یونیورسٹی کی جانب سے بھاری بھرکم فیسیں بٹورنا طلبہ اور ان کے والدین کے ساتھ ظلم ہے۔

بلوچستان کے اکثر اضلاع میں انٹرنیٹ سرے سے موجود ہی نہیں اور جہاں انٹرنیٹ موجود ہے وہاں پر کنکشن انتہائی خراب ہے۔ بہت سارے طلبہ کے پاس نہ لیپ ٹاپ ہے نہ کوئی اچھا سمارٹ فون۔ یونیورسٹی کے اساتذہ کی کوئی ٹریننگ نہیں ہو پائی جس کی وجہ سے آن لائن کلاسز ایک مذاق بن کر رہ گئی ہیں۔ ایسی صورتحال میں پورے پاکستان میں میں آن لائن کلاسز کو فوری طور پر روکا جائے اور سب سے پہلے طلبہ اور اساتذہ کو سہولیات اور ٹریننگ فراہم کی جائی۔

پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کے ساتھ ہونے والے اس فراڈ کے خلاف طلبہ کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.