لاہور: یو ای ٹی انتظامیہ کی غنڈہ گردی کے باوجود طلبہ کا احتجاج!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، لاہور|

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) لاہور میں طلبہ نے فیسوں میں اضافے، ہاسٹلوں میں سہولیات کی کمی، صاف پانی کی عدم موجودگی، سوشل میڈیا پر پابندی، انتظامیہ کے جابرانہ سلوک اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ احتجاج کے لئے کی جانے والی کمپئین سے خوفزدہ ہوکر یو ای ٹی انتظامیہ نے 12 ستمبر کی رات کو ہاسٹلوں میں چھاپے مار کر 3 طلبہ کو حراست میں لے لیا۔ طلبہ کو ڈرایا دھمکایا گیا اور کہا گیا کہ جو بھی احتجاج میں شرکت کرے گا اس کے خلاف شدید کاروائی کی جائے گی اور یونیورسٹی سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ انتظامیہ کے اس گھٹیا رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

ان تمام تر دھمکیوں کے باوجود طلبہ نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 ستمبر بروز جمعہ مقررہ وقت پر احتجاج کیا۔ احتجاج شروع ہوتے ہی انتظامیہ کی طرف سے احتجاج کو روکا گیا جس پر طلبہ نے مزاحمت کی۔ لیکن انتظامیہ نے دباؤ ڈال کر مظاہرین کو مزاکرات پر مجبور کیا۔ مزاکرات میں ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز (DSA)، رجسٹرار، ڈائریکٹر آئی بی ایم (Director Of IBM Department) اور دیگر انتظامیہ کے لوگ موجود تھے۔ شروع میں کچھ ”اخلاقی“ باتیں کر کے اور ”ادب“ کے درس دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی لیکن طلبہ کے شدید ردِ عمل کے باعث وہ مسائل سننے پر مجبور ہوئے۔ تقریباٌ دو گھنٹے کی میٹنگ میں طلبہ نے ایک ایک کرکے تمام مسائل گنوائے جن میں سے چند ایک کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا سمر سمیسٹر (Summer Semester) میں ہاسٹل کی فیس 6000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس سال کے داخلوں میں سیلف فنانس (Self Finance) کی نشستیں بھی مقرر کی گئی ہیں جس کی فیس ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ یو ای ٹی کو نجی ادارہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بات بالکل درست ہے۔ تمام سرکاری اداروں میں نجکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ طلبہ کا سب سے اہم مطالبہ تھا کہ ان تمام معاملات کے حل کے لئے کمیٹی بنائی جائے جس میں طلبہ کے منتخب نمائندے ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مطالبہ طلبہ کے بڑھتے ہوئے شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ گزشتہ رات کو حراست میں لیے جانے والے طلبہ کے خلاف انتقامی کاروایاں روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

انتظامیہ نے اپنی تمام ناکامیاں تسلیم کرتے ہوئے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا لیکن طلبہ نے کہا کہ ہم سے مزید جھوٹے وعدے نہ کیے جائیں اور وارننگ دی کہ اگر دو ہفتوں میں مسائل کے حل کے لئے عملی اقدام نہ کیے گئے تو دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔
پروگریسو یوتھ الائنس انتظامیہ کے غلیظ رویے کی شدید مذمت کرتا ہے، طلبہ کے تمام مطالبات کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ لڑنے کی یقین دہانی کراتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس پیغام کو یو ای ٹی کے تمام طلبہ تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور جڑت بناتے ہوئے اس جدوجہد کو طلبہ یونین کی بحالی تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

مفت تعلیم ہمارا حق ہے، خیرات نہیں!

One Comment

  1. Pingback: Progressive Youth Alliance – لاہور: انجینئرنگ یونیورسٹی انتظامیہ کی غنڈہ گردی نامنظور! فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے! سعد ابراہیم کو بحال کرو!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.