لاہور: پنجاب یونیورسٹی میں آن لائن امتحانات کی تیاری، طلبہ کی مشکلات میں اضافہ

رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، لاہور

Preparation of Online Exams in Punjab University has increased the troubles for Students

ابھی تھوڑی دیر پہلے خبر ملی ہے کہ پنجاب یونیورسٹی جلد طلبہ کے آن لائن امتحانات کی ڈیٹ شیٹ کا اعلان کرے گی اور طلبہ کو چوکنا رہنے کا کہا گیا ہے۔ امتحانات MCQs کی شکل میں گوگل پر لیے جائیں گے۔ طلبہ کے ساتھ ایک لنک اور اس کا پاس ورڈ شیئر کیا جائے گا اور وہ لنک مخصوص وقت کے بعد بند ہو جائے گا۔ بیشتر طلبہ کا وائیوا زوم کال پر لیا جائے گا۔اب طلبہ یہ سن کر شدید غصے میں ہیں اور پریشان ہیں۔ طلبہ جو پہلے ہی آن لائن کلاسز سے متفق نہیں تھے اور اکثر اساتذہ نے اپنا سلیبس مکمل کروانے کی بجائے اسائنمنٹس کی شکل میں طلبہ پر تھوپ دیا ہے۔ حال یہ ہے کہ آن لائن کلاس کم اور مچھلی منڈی ذیادہ لگ رہی ہوتی ہے۔سائنس کے شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کا اکثر عملی کام ہوتا ہے جو کہ وہ تجربوں کے ذریعے لیبز میں سیکھتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ تجربات بھی آن لائن کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اساتذہ بھی مشکل میں ہیں کہ وہ عملی کام باتوں سے اپنے طالب علموں کو کیسے سمجھائیں۔ مزید یہ کہ طلبہ کو کوئی وسائل ابھی تک نہیں فراہم کیے گئے۔ لیپ ٹاپس یا سمارٹ فون تو دور کی بات، ان کے ساتھ جو سستے انٹرنیٹ کا وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی ابھی تک پورا نہیں ہوا۔

پنجاب یونیورسٹی میں زیادہ تر نچلے درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ پڑھتے ہیں جن کے گھر والے پہلے ہی اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی تعلیم کا خرچ برداشت کرتے ہیں۔ اب ان کے پاس موجودہ حالت میں کھانے کے لیے روٹی کا ٹکڑا بھی نہیں ہے اور انہیں انٹرنیٹ اور وسائل خریدنے پر آن لائن امتحانات کی صورت میں مجبور کیا جا رہا ہے۔

ساتھ ہی امتحانات کے بعد اگلے سمیسٹر کا اعلان کیا جائے گا اور اس دفعہ تو پنجاب یونیورسٹی اپنا پہلا آن لائن داخلوں کا تجربہ کرنے کی جانب بھی جارہی ہے۔ پیش گوئی ہے کہ فیسوں میں کم از کم تین گنا اضافہ کیا جائے گا کیونکہ ابھی تک ہر ادارے میں یہی صورتحال نظر آرہی ہے۔ ملکی معیشت جس قدر خطرے میں ہے اور مسلسل گراوٹ کی جانب بڑھ رہی ہے تو وہ تعلیم کے کاروبار کو بڑھا کر یہ کٹوتیاں پوری کرنا چاہتے ہیں۔یہ آن لائن امتحانات اور کلاسز سب روپے بٹورنے کا ذریعہ ہیں۔انہیں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی نہیں بلکہ اپنے منافعوں کی فکر ہے اور ان کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔ جتنا زیادہ لوٹتے ہیں اتنا ہی ان کے اندر روپے کی ہوس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ساتھ ہی فیسوں میں اضافے کے ساتھ اساتذہ کی تنخواہوں میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے۔ تو ان سے گزارش ہے ہمیں بھی بتائیں کہ یہ فیسیں، یہ مال آخر جاتا کدھر ہے؟

پروگریسو یوتھ الائنس وہ واحد پلیٹ فارم ہے جو لاک ڈاؤن میں بھی طلبہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ہم اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر تمام طلبہ ان مسائل سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو انہیں اس جنگ میں متحد ہونا ہوگا۔ہمیں یہ صورتحال مختلف تعلیمی اداروں میں نظر آئی ہے جہاں طلبہ نے وسائل کی غیر موجودگی میں آن لائن تعلیم کے خلاف آواز اٹھائی اور وہ کامیاب بھی ہوئے۔ اسی طرح پنجاب یونیورسٹی میں ہزاروں طلبہ پڑھتے ہیں اور اگر یہ سب بھی متحد ہوجائیں تو اس منافع خور ریاست کو تمام طلبہ دشمن پالیسیاں ختم کرنے پہ مجبور کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.