نظم: چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن

 

زخم کھاتا ہوں، اشک پیتا ہوں
مرتا رہتا ہوں، خاک جیتا ہوں

مرثیہ ہوں اسی تمدن کا
اسی ماحول کی کویتا ہوں

ایک تاریخی سانحہ ہوں میں
لمحہ لمحہ جو خود پہ بیتا ہوں

خواب خستہ ملے ہیں ورثے میں
روز پھٹتے ہیں، روز سیتا ہوں

پھول ہوں، کھل گیا ہوں پت جھڑ میں
اپنی خوشبو کا زہر پیتا ہوں

مجھ کو جی بھر کے کیجئے پامال
نہ میں قرآن ہوں، نہ گیتا ہوں

(پارس جان)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.