تونسہ: نامعلوم افراد کا گھر میں گھس کر دو بچوں کی ماں کا گینگ ریپ

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، تونسہ|

11ستمبر کی شب کو جنوبی پنجاب کے علاقے تونسہ شریف کے ایک نواحی گاؤں ریترا میں دو نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر دو بچوں کی ماں کو تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔

ابتدائی طور پر پولیس کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس کے بعد لواحقین نے تونسہ شریف میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد پولیس کی جانب سے قانونی کاروائی کی یقین دہانی کروائی گئی اور ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

اپنی نوعیت کا یہ کوئی پہلا اور آخری واقعہ نہیں بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں شدید ترین اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ برس کے صرف پہلے نو ماہ میں 2000 سے زائد جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ ہزاروں ایسے واقعات ہیں جو ان اعداد و شمار کا حصہ ہی نہیں ہیں۔ اسی طرح ونی اور کارو کاری جیسی عہدِ جہالت کی رسومات آج کے عہد میں بھی اپنا وجود رکھتی ہیں اور اکثر پنچائتوں میں اجتماعی زیادتیاں بھی ہوتی نظر آتی ہیں۔

ان بڑھتے واقعات کے خلاف ریاستی اداروں کا کردار بالکل ہتک آمیز اور قابلِ نفرت رہا ہے کیونکہ وہ عصمت دری کرنے والے درندوں کو پکڑنے اور کیفرِ کردار تک پہنچانے کی بجائے اِس ظلم کے شکار افراد پر ہی الزام اور دھونس جماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس کے خلاف ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور ہمیں اس کے خلاف وقفے وقفے سے احتجاج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس واقعے سے قبل بھی جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں پولیس کی جانب سے ملزم کو پکڑنے کی بجائے تشدد و ہراسگی کی شکار خواتین کو ہی ہراساں کیا گیا تھا۔ جس کے خلاف مظفر گڑھ میں ایک ایسی ہی مظلوم خاتون نے تھانے کے سامنے خود کو آگ لگا دی تھی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ریاستی ادارے عام عوام پر جبر کے ادارے ہیں نہ کہ ان کی عزت و آبرو اور جان و مال کے محافظ ہیں۔ آج جہاں سرمایہ دارانہ نظام کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے، وہیں جنسی زیادتی اور تشدد جیسے واقعات بھی اس نظام کے گلنے سڑنے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس نظام کے مرنے کے عمل کے ساتھ ساتھ معاشی، معاشرتی اور اخلاقی زوال بھی اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ملزمان کو صرف سزائے موت دینے یا قانونی کاروائیوں کے ذریعے اس سب سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ اس زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے ایک سوشلسٹ سماج کے قیام کے ذریعے ہی اس ظلم و جبر، جنسی زیادتیوں اور ہراسگی جیسی غلاظتوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.