اداریہ: اصلاح یا انقلاب

شنید ہے کہ ملک دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے، گروتھ ریٹ چار فیصد کو جا پہنچا ہے، مشکل وقت گزرچکا اور اب آگے آسانی ہی آسانی ہے۔ اور اگر کسی ملک دشمن اور غدار نے رخنہ نہ ڈالا تو عنقریب ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی، ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہوگا، سب کو تعلیم اور روزگار ملے گا، غربت کا شائبہ تک باقی نہیں رہے گا اور ملک جنت ارضی کا منظر پیش کرے گا۔

پاکستانی حکمرانوں کے ان جھوٹے دعووں اور زمینی حقائق سے بے گانہ سرکاری اعدادوشمار سے قطع نظر ملک میں بسنے والے کسی بھی عام نوجوان یا طالبعلم سے ملکی حالات کے بابت پوچھا جائے تو عمومی ردعمل منفی میں ہوتا ہے اور ایک بھاری اکثریت اسٹیٹس کو سے نفرت کرتی نظر آتی ہے۔لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی، اگر ان سے مستقبل کے حوالے سے دریافت کیا جائے تو ردعمل ناامیدی اور ناکامی سے لبریز ہوتا ہے۔ ایک عمومی عدم تحفظ کا احساس نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور جہاں وہ درپیش حالات سے تنگ ہیں تو وہیں مستقبل سے بھی ناامید دکھائی دیتے ہیں۔

اس نسل نے جب شعور کی منزل میں قدم رکھا تو سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخ کے بدترین بحران کا آغاز ہو چکا تھے اور اس نسل نے بحران کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ گو کہ پاکستانی عوام کی ایک بھاری ترین اکثریت کے لیے ”اچھے دن“ کبھی نہیں آئے لیکن حالات اس قدر دگرگوں بھی کبھی نہ تھے۔ سونے پر سہاگہ کرونا وبا نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور بحران کی شدت میں کئی گنا اضافہ کردیا۔ نوجوانوں کی نام نہاد نمائندہ پارٹی تحریک انصاف کی حکومت میں ملکی آبادی کے ساٹھ فیصد پر مشتمل نوجوانوں کے لیے غربت، جہالت، بیروزگاری، لاعلاجی، مایوسی اور ناامیدی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

اس کا ایک اظہارایک طرف ملک میں جاری نوجوانوں کے احتجاجوں سے ہوتا ہے جن کے حجم میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان تمام سیاسی پارٹیوں اور قیادتوں کو رد کرتے ہوئے نئے رستوں کی تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب خود کشیوں کی وبا بھی نظر آتی ہے جہاں آئے روز کئی افراد حالات سے تنگ آکر یا مستقبل سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھوں سے اپنے زندگیوں کاخاتمہ کر لیتے ہیں۔ ایسے چند ایک واقعات ہی میڈیا یا اخبارات تک پہنچتے ہیں اور بیشتر واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا یا چھپایا جاتا ہے۔ مگر ان تمام واقعات میں ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے والوں کی ایک بھاری اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ اس نظام کی متروکیت کا اس بڑھ کر اور کیا اظہار ہوگا جس میں نوجوانوں کے لیے کوئی امید باقی نہیں رہی۔

مگر اسی ملک میں بسنے والے میاں منشا، ملک ریاض، جہانگیر ترین، شریفوں اور زرداریوں سے لے کر جرنیلوں، ججوں اور بیوروکریٹوں کی اولادوں کے لیے اعلیٰ تعلیم سے لے کر ہر طرح کی آسائش دستیاب ہے۔ یہ طبقاتی خلیج ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی چلی جا رہی ہے اور عام نوجوانوں اور طلبہ کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر اس تفاوت کی وجہ کیا ہے؟ کیاان کے دن بھی کبھی بدلیں گے؟ کیا کبھی انہیں بھی آسائش میسر آئے گی؟

نوجوانوں کو بہتر زندگی کیلیے حصول تعلیم کے ذریعے کی اکثر نصیحت کی جاتی ہے کہ اس کے ذریعے اچھی نوکری اور”کامیابی“ حاصل کی جا سکتی ہے لیکن آج یہ نظام اور اس کی حاصل کردہ تعلیم نہ نوکری دلاتی ہے اور نہ ہی ”کامیابی“۔ بلکہ اس سماج میں کامیابی کے لیے دولت، جھوٹ، دھوکہ، فراڈ، بے ایمانی، بد عنوانی اور دوسروں کا گلا گھونٹنا ہی درست رستہ بن چکا ہے جس پر تمام سیاستدان، بیوروکریٹ، جج، جرنیل سمیت اشرافیہ کے تمام افراد چل کر ”کامیاب“ ہوئے ہیں۔اس تعلیم کا مقصد کبھی بھی شعور کو جلا بخشنا نہیں تھا۔ اس نظام تعلیم اور نصاب کا مقصد ہی سرمایہ داروں کے لیے اجرتی غلام پیدا کرناتھا۔ یہ نظام تعلیم اور نصاب انگریزوں کا ترتیب دیا ہے جس کا مقصد یہاں اپنے اقتدار اور لوٹ مار کو فروغ دینا تھا۔ گو کہ بٹوارے کے بعد نصاب تبدیل کیا گیا اور اس میں حب الوطنیکا تڑکا لگا دیا گیا مگر اس کا مدعا و منشا آج بھی وہی ہے۔ یہ طبقاتی نظام تعلیم دھن دولت والوں کی چاپلوسی اور محنت کشوں سے حقارت کرنا سکھاتا ہے۔اس تعلیم کے مطابق سماج کو چلانے والے اور تمام تر دولت پیدا کرنے والے نیچ اور اس دولت کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھرنے والے عزت مند ٹھہرتے ہیں۔ آج سب سے اہم فریضہ اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے کا ہے۔

لیکن جب اس طبقاتی نظام پر سوال اٹھائے جائیں تو سماج پر مسلط سیاسی پارٹیاں اور میڈیا میں بیٹھے ان کے دلال اسی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے تحت بنائے گئے اداروں میں ہی بحث کو محدود رکھتے ہیں جبکہ آج واضح ہوچکا ہے کہ اس نظام میں کوئی بہتری یا اصلاح ممکن نہیں اور یہ عوام میں صرف غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری اور موت ہی بانٹ سکتا ہے۔نصاب تعلیم سے لے کر میڈیا اور منبر تک ہر جگہ سے اسی امیر اور غریب پر مبنی طبقاتی نظام کو حتمی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اس کو اکھاڑ پھینکنے کا کوئی ذکر سنائی نہیں دیتا۔ سماج پر حاوی یہ تمام نظریات، منطق، سیاست، اخلاقیات، عقائد اور نصاب اس سرمایہ دارانہ نظام کے پروردہ ہیں جو کہ اپنی تاریخ کے بدترین بحران میں اور بستر مرگ پر پڑا ہے۔ یہ صورتحال صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ کے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی نوجوانوں کے لیے حالات تلخ ہوتے جا رہے ہیں اور ان کا معیار زندگی اپنے سے پہلی نسل سے کہیں زیادہ گر چکا ہے۔ مگر وہاں بھی اصلاح کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اوروہاں بھینوجوانوں کو ایک چھوٹے سے مطالبے کے لیے سڑکوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے اور احتجاج اور ہڑتال کا رستہ اپنانا پڑتا ہے۔

یہاں بھی حکمرانوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوانوں اور طلبہ کو خود میدان عمل میں آنا ہوگا۔ ایک انقلاب کے بغیر تعلیم سے لے کر مہنگائی اور بیروزگاری سمیت کسی ایک مسئلے کو بھی حل نہیں کیا جاسکتا۔ ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے سرمایہ داروں اور ریاستی اشرافیہ کی تمام دولت اور ذرائع پیداوار کو قبضے میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول پر مبنی ایک منصوبہ بند معیشت قائم ہوگی۔ تعلیم مفت دی جائے گی، ہر شہری کو روزگار فراہم کیا جائے گا، مفت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی، مزدور ریاست ہر شہری کو روٹی، کپڑا اور مکان فراہم کرے گی، خواتین اور مظلوم قومیتوں پر جبر کا خاتمہ ہوگا۔ ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کے استحصال کا خاتمہ کر دیا جائے گا دوسرے الفاظ میں طبقات کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن اس انقلاب کو برپا کرنے کے لیے ایک انقلابی پارٹی درکار ہے جس کی تعمیر میں نوجوانوں اور طلبہ کا اہم کردار بنتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلا قدم درست نظریات کا حصول ہے جو حکمرانوں کے پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ درپیش سماجی ومعاشی مسائل کی درست وجوہات اور ان کا حل پیش کرسکے۔ مارکسزم ہی وہ واحد نظریہ ہے جو سرمایہ دارانہ سماج کا ایک درست سائنسی تجزیہ پیش کرتا ہے اور سوشلسٹ انقلاب اور نجی ملکیت کے خاتمے کی صورت میں حل بھی۔ آج نوجوانوں کا سب سے اہم فریضہ ان نظریات کو سیکھنا اور اسے محنت کشوں کی وسیع تر پرتوں تک لے کر جانا ہے تاکہ ایک انقلاب کے ذریعے اس سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑنے پھینکنے کے لیے درکار اوزار یعنی انقلابی پارٹی تیز تر بنیادوں پر تعمیر کی جاسکے۔

اٹھ کے دردمندوں کے
صبح و شام بدلو بھی
جس میں تم نہیں شامل
وہ نظام بدلو بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.