سیلاب زدہ علاقوں کے طلبہ کی فیسوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے؛ ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز!

| مرکزی بیورو، پروگریسو یوتھ الائنس|

حالیہ بارشوں کی وجہ سے بلوچستان، خیبر پختونخواہ، سندھ، ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر راجن پور تک جنوبی پنجاب میں کوہ سلیمان اور اس کے دامان کے علاقے، اور گلگت کے کئی گاؤں اور شہر تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بسنے والے کروڑوں محنت کش عوام کی ساری زندگی کی جمع پونجی اس سیلاب میں بہہ گئی ہے۔ مگر ان کے نقصان کا ازالہ کرنے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کیلئے ریاست کی جانب سے تاحال کوئی سنجیدہ اقدامات بروئے کار نہیں لائے جا رہے۔ اس تباہی و بربادی کے براہ راست اثرات ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر بھی پڑے ہیں۔ طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد ان علاقوں سے تعلق رکھتی ہے جو اپنے گھروں سے دور شہروں میں واقع سرکاری یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق غریب یا متوسط گھرانوں سے ہوتا ہے۔ سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے ان کے والدین کا سب کچھ لُٹ چکا ہے اور اب وہ ان کی فیسیں ادا کرنے کی سکت بالکل بھی نہیں رکھتے۔ ایسے میں نہ تو کسی سرکاری یونیورسٹی کی جانب سے ان کی فیسیں ختم کی گئی ہیں اور نہ ہی سرکاری سطح پر ایسی کوئی پالیسی بنائی گئی ہے جس سے طلبہ کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ اپنی لوٹ مار اور کرپشن میں مصروف ہے جبکہ سیاستدان، جج، جرنیل اور بیوروکریٹ الغرض سارا حکمران طبقہ اپنی لوٹ مار میں۔ حکمران طبقے کی بے حسی کا تو یہ عالم ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جب ایک طرف لگ بھگ تین کروڑ تیس لاکھ لوگ متاثر ہوچکے ہیں، لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں، دو ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں اور 4 سے 5 ہزار زخمی ہوچکے ہیں، لگ بھگ 80 لاکھ ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور 5 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکیں متاثر ہو چکی ہیں؛ ایسے میں سارا حکمران طبقہ مال کی بندر بانٹ اور اقتدار کیلئے آپس میں دست و گریباں ہے۔

سیلاب کی یہ صورتحال تعلیم کے شعبے کو بھی بُری طرح متاثر کررہی ہے۔ سیلاب کے تعلیمی اداروں پر اثرات کے حوالے سے جو شماریات اب تک سامنے آئے ہیں ان کے مطابق تقریباً 18 ہزار سکول متاثر ہوئے ہیں، دیگر تعلیمی ادارے اس کے علاوہ ہیں جس سے تقریباً 7 لاکھ طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ سیلاب سے پہلے بھی ہر پڑھ سکنے والا بچہ سکول میں ہی پایا جاتا تھا بلکہ دو کروڑ سے زائد بچے بچیاں تعلیمی اداروں سے محروم تھے اور کرونا کے دوران ہم نے یونیورسٹی اور کالجوں کی طرف سے آن لائن ایجوکیشن کے نام پر تعلیم کے مذاق بن جانے کا تماشا بھی دیکھا ہے۔ ایک طرف سکولوں اور کالجوں کی کمی مسئلہ بن چکی ہے تو دوسری طرف سیلاب زدگان کی معاشی حالت بھی انتہائی خستہ حال ہوچکی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بھیجنے کی گنجائش ہی نہیں رکھتے۔ موجودہ سیلاب سے تباہی کے باعث اس وقت تعلیم کا حصول ناممکن ہوچکا ہے۔ ایک طرف تعلیم کا دھندہ کرنے والی یونیورسٹیوں کی بھاری بھرکم فیسیں طلبہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں تو وہیں ہاسٹل کے واجبات سے لے کر خوراک سمیت تمام تر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ بھی طلبہ کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

ایسے میں پروگریسو یوتھ الائنس کے حالیہ مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بالخصوص سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور بالعموم تمام طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ایک ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

وقتی طور پر طلبہ کی تحریک کے خوف سے مختلف یونیورسٹیوں کی جانب سے فیسیں مؤخر کرنے یا 25 فیصد کی رعایت کی ڈرامے بازی شروع کر دی گئی ہے۔ بہر حال اس حوالے سے بھی متعدد طلبہ کی جانب سے یہ اطلاعات آئی ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے ساتھ بالکل بھی تعاون نہیں کر رہی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سراسر ڈرامے بازی ہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک یا دو سمیسٹرز کی فیسیں مؤخر کرنے کی پالیسی سیلاب سے تباہ حال طلبہ کا مذاق اُڑانا ہے جو کہ پاکستان کے حکمرانوں کی سفاکی کو واضح کرتا ہے۔ یہ کسی صورت ممکن ہی نہیں کہ اپنے روزگار اور ساری جمع پونجی لُٹ جانے کے بعد یہ لوگ ایک سال بعد اپنے بچوں کی فیسیں ادا کر سکیں گے۔ موجودہ کیفیت میں اگر ایک یا دو سمیسٹرز کی فیس مؤخر کی بھی جاتی ہے تو بھی ہاسٹل، کھانے، کتابوں، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر ضرورت کی اشیاء کے اخراجات پورے کرنا سیلاب زدہ طلبہ کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔

مطالبات

1۔ سیلاب زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا ریکارڈ مرتب کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر:
i) فیسیں مکمل طور پر ختم کر کے مفت تعلیم فراہم کی جائے۔
ii) ہاسٹل فیس کا فوری خاتمہ کیا جائے اور انہیں مفت رہائش فراہم کی جائے۔
iii) میس فیس ختم کرتے ہوئے مفت میس فراہم کیا جائے۔
iv) انہیں مفت ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے۔
v) انہیں مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جائے تا کہ تعلیم سمیت جو طلبہ فری لانسنگ کر رہے ہیں وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔
2۔ تعلیمی اداروں کے اکاؤنٹس کو پبلک کیا جائے اور ماہانہ بنیادوں پر کیمپس کے طلبہ کے سامنے اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔ اس طرح کرپشن پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔
3۔ طبقاتی نظام تعلیم اور تعلیم کے کاروبار پر پابندی لگائی جائے اور تمام طلبہ کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے۔
4۔ اپنے جائز حقوق کیلئے احتجاج کرنے والے طلبہ کو ڈرانے دھمکانے اور ان کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے والے انتظامیہ کے افراد کو تعلیم اور طلبہ دشمن قرار دیتے ہوئے معطل کیا جائے۔
5۔ طلبہ یونین پر عائد پابندی کا فی الفور خاتمہ کرتے ہوئے تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے الیکشن کرائے جائیں تا کہ طلبہ کے پاس اپنے جائز حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کا کوئی پلیٹ فارم موجود ہو۔

پروگرام اور لائحہ عمل

1۔ طلبہ یونین کی بحالی تک تمام تعلیمی اداروں میں سیلاب زدہ طلبہ سمیت کیمپس کے دیگر تمام طلبہ پر مشتمل ایکشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔
2۔ ملک بھر میں موجود تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تشکیل کردہ ایکشن کمیٹیوں کا آپس میں رابطہ قائم کرتے ہوئے ملک گیر سطح پر جدوجہد کو منظم کیا جائے۔
3۔ تعلیمی اداروں میں فرداً فرداً احتجاجی ریلیوں کا بھی انعقاد کیا جائے اور ایک روزہ ملک گیر ڈے آف ایکشن کی جانب بھی بڑھا جائے جس میں ایک ہی روز ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے طلبہ سراپا احتجاج ہوں۔
4۔ تعلیمی اداروں میں سٹڈی سرکلز، سیمینارز، ڈاکومنٹریوں اور لیف لیٹ سمیت دیگر ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کے پیغام کو طلبہ کی اکثریت تک پہنچایا جائے۔
5۔ سیلاب زدہ طلبہ کے مسائل کے ساتھ ساتھ باقی طلبہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ”ایک کا دکھ، سب کا دکھ“ کے نعرے کے تحت ملک گیر طلبہ اتحاد قائم کیا جائے۔
6۔ قومی، لسانی اور مذہبی تفریقوں کو سختی سے رد کرتے ہوئے طلبہ اتحاد کو مظبوط کیا جائے۔
7۔ اس وقت سرکاری اداروں کے ملازمین، فیکٹری مزدور اور کسان بھی اپنے مطالبات کے حصول کیلئے سراپا احتجاج ہیں، اُن کے ساتھ بھی اتحاد قائم کیا جائے اور احتجاجی تحریک کو وسعت دی جائے۔
8۔ تمام مسائل کی جڑ ’سرمایہ دارانہ نظام‘ کے ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے خاتمے کی جدوجہد تیز کی جائے۔

ساتھیو! اس وقت سرمایہ دارانہ نظام عالمی سطح پر تاریخ کے سب سے بڑے معاشی بحران کا شکار ہے۔ آج امریکہ، یورپ اور چین جیسے خطوں میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس کے خلاف ان خطوں میں بہت بڑی عوامی تحریکیں دیکھنے کو مل رہی ہیں جن میں طلبہ اور نوجوان کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ آج پوری دنیا کے نوجوان یہ سمجھنا شروع ہوگئے ہیں کہ ان کی زندگیاں اب بہتر ہونے والی نہیں، کیونکہ وہ جس نظام میں رہ رہے ہیں، یعنی سرمایہ داری، وہ آج بحران کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آج وہ یہ بھی جان رہے ہیں کہ ان کے ممالک میں موجود تمام سیاسی پارٹیاں اور ریاست کے دیگر دھڑے سرمایہ دارانہ نظام کے نمائندہ ہیں۔ لہٰذا انہیں آج حکمران طبقے کی کسی سیاسی پارٹی یا دھڑے سے کوئی امید نہیں۔ اسی لیے آج وہ اپنے زور بازو پر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کا آغاز کر رہے ہیں۔ وہ یہ جان چکے ہیں کوئی بھی مسیحا ان کی مدد کو نہیں آئے گا بلکہ انہیں خود جدوجہد کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کر کے اپنے حقوق حکمرانوں سے چھیننا ہوں گے۔ یہی سبق پاکستان کے طلبہ اور نوجوانوں کیلئے بھی ہے۔ پاکستان کا معاشی بحران مستقبل میں ختم نہیں ہوگا، بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگا! بیروزگاری، مہنگائی، لاعلاجی، جہالت، دہشتگردی سمیت دیگر مسائل میں مزید بڑھیں گے۔ آج نہ صرف ان فوری مسائل کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی بلکہ بحیثیت مجموعی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کیلئے بھی جدوجہد کرنا ہوگی۔ کیونکہ ان تمام مسائل کی بنیادیں منافع کی ہوس پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام میں موجود ہیں اور ان کا مستقل حل سرمایہ داری کے خاتمے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ آج نہ تو سرمایہ داری کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات ممکن ہیں اور نہ ہی یہ بحران زدہ نظام خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اس انسان دشمن نظام کو صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کی صورت میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا آج ہر باشعور طالب علم اور نوجوان کو سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کا حصہ بننا ہوگا۔

ہم پاکستان کے تمام طلبہ اور نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اس احتجاجی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم طلبہ و نوجوانوں کو درپیش مسائل کے مستقل حل یعنی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد کا حصہ بننے کی بھی دعوت دیتے ہیں۔ پروگریسو یوتھ الائنس کا ممبر بننے کیلئے یہاں کلک کریں اور فارم بھریں۔

ساتھیو! آگے بڑھو؛ اور اپنی تقدیروں کا فیصلہ مٹھی بھر حکمرانوں اور ’پالیسی سازوں‘ کے ہاتھوں سے چھین کر اپنے ہاتھوں میں لے لو!

جینا ہے تو لڑنا ہوگا!

جس دور میں جینا مشکل ہو، اس دور میں جینا لازم ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.