گلگت بلتستان: قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلبہ کا ادارے میں ہونے والی ہراسمنٹ کے خلاف بھرپور احتجاج

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، گلگت بلتستان|

 

آج جہاں پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات عروج پر ہیں، وہیں گلگت بلتستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں مورخہ 17 نومبر کو ایک طالبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی کا واقعہ پیش آیا۔ جس میں ایک طالبہ کو یونیورسٹی کی انتظامیہ میں سے ڈاکٹر اقبال نامی شخص نے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ اور متاثرہ طالبہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے اس دلخراش واقعے کو اپنے نوٹس میں لینے اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تاحال عمل نہ ہونے کے باعث قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت اور کے۔ای۔یو، ہنزہ کیمپس میں مبینہ جنسی ہراسانی کے مرتکب آفسر کے خلاف طلبہ نے 19 نومبر بروز جمعرات زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ جس میں کثیر تعداد میں طلبہ نے شرکت کو یقینی بنایا۔

طلبہ نے یونیورسٹی میں ہونے والے اس انسانیت سوز واقعے کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرہ طالبہ کے لیے فی الفور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اور ایسے بھیڑیوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ مزید برآں یونیورسٹی کے ماحول کو طالبات کے لئے محفوظ بنایا جائے تاکہ والدین اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹیوں میں بھیجنے سے نہ گھبرائیں اور جلد سے جلد قانونی کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں وقوع پذیر ہونے والا یقینا ًیہ کوئی پہلا واقع نہیں ہو گا اور نہ ہی ڈاکٹر اقبال وہ واحد شخص ہو سکتا ہے جو اکیلا اس شرمناک فعل میں ملوث ہو، فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار طلبہ نے اس کے خلاف اٹھائی ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے کالے کرتوتوں کو ننگا کیا ہے۔ پروگریسو یوتھ الائنس پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ساتھ ہونے والی ہراسانی کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس گھناؤنے فعل کا نشانہ بننے والے تمام طلبہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس وقت پروگریسو یوتھ الائنس تعلیمی اداروں میں ہونے والی ہراسمنٹ کے خلاف اداروں میں طلبہ کی اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں بنانے کے لیے ملک بھر کے طلبہ کو متحد کرنے کی جدوجہد بھی کر رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ ہراسمنٹ میں تیزی سے اضافے کی ایک بڑی وجہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کا نہ ہونا بھی ہے۔ واضح رہے کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں طلبہ ہراسمنٹ کے مسئلے کے علاوہ دیگر مسائل سے بھی دوچار ہیں۔ پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی طلبہ سے بھاری فیسوں کی وصولی کی جا رہی ہے، جس پر گلگت بلتستان کے طلبہ سمیت پورے پاکستان کے طلبہ آنے والے دنوں میں منظم ہو کر تعلیم کے نام پر چلتے اس کالے دھندے کے خلاف بلوچستان کے طلبہ کی طرح بھرپور آواز اٹھائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.