ملتان: نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل کو قرنطینہ سنٹر بنانے کے خلاف کامیاب احتجاج

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، ملتان|

کورونا وبا سے نمٹنے میں ریاست مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے اور ہسپتالوں کے اندر ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کو سہولیات دینے سے بھی قاصر ہے جس کے باعث تاحال ملتان میں 30 سے ذائد طبی عملہ کورونا کا شکار ہو چکا ہے اور دیگر سو کے قریب کے نتائج آنا باقی ہیں۔

اس ساری صورتحال میں نشتر انتظامیہ جہاں ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان مہیا کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے وہیں پر آئسولیشن وارڈز کا بھی مناسب بندوبست نظر نہیں آرہا جس بنا پر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل اور لیڈی ڈاکٹرز کے ہاسٹل کو قرنطینہ سنٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف 12 اپریل بروز اتوار کو نشتر یونیورسٹی کی طالبات اور لیڈی ڈاکٹرز نے نشتر روڈ پر احتجاج کیا اور انتظامیہ کو فیصلہ واپس لینے پہ مجبور کیا۔

پروگریسو یوتھ الائنس نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی طالبات اور لیڈی ڈاکٹرز سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ قرنطینہ سنٹرز کے لیے سرکاری ہاسٹلوں کی بجائے دیگر بہتر مقامات موجود ہیں جیسے کہ ڈی ایچ اے، کینٹ اور دیگر سرکاری و نجی بنگلے وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی پروگریسو یوتھ الائنس یہ مطالبہ کرتا ہے کہ تمام طبی عملے کو فوری طور پر حفاظتی سامان اور بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.