خیبر پختونخوا: صوبہ بھر کی یونیورسٹیوں میں ملازمین و اساتذہ کی ہڑتال جاری۔۔تعلیم بچانے کیلئے طلبہ کو بھی میدان میں اترنا ہوگا!

رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، خیبر پختونخوا|

خیبر پختونخوا میں ہائیر ایجوکیشن کے تمام ملازمین نے 31 مئی سے کام چھوڑ اور قلم چھوڑ ہڑتال کا آغاز کردیا ہے۔ اس دھرنے کو شروع ہوئے آج چوتھا دن ہوچکا ہے۔ اس احتجاجی دھرنے میں اکثریت کلاس فور و کلاس تھری ملازمین کی ہے جبکہ اس کے علاوہ لیکچررز اور پروفیسرز بھی بڑی تعداد میں اس دھرنے میں شرکت کررہے ہیں۔

یہ احتجاج پچھلے تین ماہ سے صوبائی حکومت کی طرف سے مسلط کئے گئے اقدامات کے خلاف جاری ہے۔ جنوری کے مہینے میں صوبائی حکومت کی جانب سے صوبہ بھر کی تمام یونیورسٹیوں کی نجکاری کے سلسلے میں اقدامات کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جنہیں تمام یونیورسٹیوں نے مسترد کر دیا اور 12 جنوری کو یونیورسٹیوں میں موجود تمام یونینز کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ اگر مجوزہ تعلیم دشمن نجکاری کی پالیسی پر عمل کروانے کی کوشش کی گئی تو وہ یونیورسٹیوں میں احتجاج کا آغاز کریں گے۔ اسی سلسلے میں سب سے پہلے 10 مارچ کو احتجاج کیا گیا اور ہڑتال شروع کی گئی، جسے دوسرے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ 31 مئی کو اساتذہ و ملازمین کی جانب سے دوبارہ احتجاجی سلسلے کا آغاز کر دیا گیا ہے جو تاحال جاری ہے۔

ملازمین و اساتذہ کے مطالبات

تعلیمی بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔
صوبائی اسمبلی کے مجوزہ یونیورسٹی ریفارمز لیٹر کو فی الفور واپس لیا جائے، جس کی رُو سے ہائیر ایجوکیشن کے صوبائی ملازمین کے الاؤنسز میں کمی اور ان کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کی سہولت کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔
موجودہ وائس چانسلر، جو مندرجہ بالا پالیسی کو لاگو کر رہا ہے، کو فی الفور ہٹا دیا جائے۔
حالیہ عرصے میں برطرف کیے گئے 500 کنٹریکٹ ملازمین کو بحال کیا جائے۔

یاد رہے کہ مذکورہ مجوزہ یونیورسٹی ریفارمز پشاور یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ میں 4 جون 2021ء کو زیر بحث آنے تھے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو ان کی حتمی شکل ترتیب دینی تھی لیکن پشاور یونیورسٹی کے ملازمین کی یونینز نے پشاور ہائیکورٹ سے اس کے خلاف 14 دن کا Stay لیا ہوا ہے۔

31 مئی کو تمام ملازمین نے پشاور یونیورسٹی سے صوبائی اسمبلی تک 8 کلو میٹر مارچ کیا جو بعد میں دھرنے کی شکل اختیار کر گیا۔ صوبائی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات پر غور کرنے کی بجائے ان پر پولیس کے ذریعے حملہ کروایا اور درجنوں مظاہرین کو شدید زخمی کیا گیا۔ درجن بھر ملازمین کو گرفتار بھی کیا گیا جنہیں بعد میں ملازمین کے شدید رد عمل کے نتیجے میں رہا کرنا پڑا۔

اس ریاستی جبر اور حکومتی ہٹ دھرمی کے بعد دھرنے کے قائدین کی جانب سے صوبے بھر کی یونیورسٹیوں میں قلم چھوڑ اور کام چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا گیا جو ان کے مطابق مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔

یاد رہے کہ حکومت کی اس نئی پالیسی کے تحت یونیورسٹیوں کی نجکاری کی جا رہی ہے جس میں پہلے مرحلے پر کلاس فور و کلاس تھری کے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی۔ اس کے بعد اساتذہ پر یہ معاشی حملہ کیا گیا۔ اگلے مرحلے میں طلبہ کے اوپر بہت بڑا معاشی حملہ متوقع ہے۔ حالیہ عرصے میں پہلے ہی فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیم کا حصول اکثریت کیلئے انتہائی مشکل بن چکا ہے۔ لہٰذا اگر ان میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے تو والدین کیلئے اس مد میں مزید خرچہ برداشت کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ لہٰذا بے شمار طلبہ کو اپنا تعلیمی سلسلہ درمیان میں منقطع کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ 31 مئی کو جو کچھ ہوا وہ حادثاتی نہیں تھا بلکہ صوبہ بھر میں موجود پرانی یونیورسٹیوں، جیسے پشاور یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کو شدید مالی بحران اور خسارے کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے ریفارم پالیسی کے تحت یونیورسٹیوں کو دیا جانے والا فنڈ بند کردیا ہے اور جامعات کو یہ احکامت جاری کئے ہیں کہ اپنے اخراجات اور خسارے خود پورے کریں۔ حکومت ہائیر ایجوکیشن پر پیسے خرچ نہیں کرے گی۔

یہی جاننے کے لئے جب ہم نے دھرنے کے قائدین سے اس بابت دریافت کیا تو انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ہم سے کہا جارہا ہے کہ اپنے اخراجات کم کریں اور اپنے وسائل کو بروئے کر لا کر بحران پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ اس بات کا مقصد کیا ہے! اس کو سمجھنا ہر طالب علم کے لئے ضروری ہے۔

پہلے تو حکومت کی جانب سے تعلیمی بجٹ میں مسلسل کمی کی گئی پھر سرکاری تعلیمی اداروں کے اندر کیا ہو رہا ہے، کسی نے بھی یہ معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی بلکہ ریاست نے الٹا آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ ان سے کھینچنے شروع کئے اور اب جب اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا گیا ہے تو سامراجی مالیاتی اداروں کی ایما پر مالی بحران کو جواز بناکر صوبائی حکومت تعلیم کی نجکاری کر رہی ہے تاکہ ان سرکاری تعلیمی اداروں کو اپنے عزیز و اقارب کو بیچ کر تعلیم کے دھندے سے مال بٹورا جا سکے۔

ان نام نہاد ریفارمز کے نتیجے میں لازمی طور پر فیسوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگا۔ محنت کش طبقے کے نوجوانوں کو تو ویسے بھی تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے، اب اس کے بعد متوسط طبقے کے طلبہ کے لئے بھی اعلیٰ تعلیم محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔

کیا صوبائی حکومت اتنی کور چشم ہے کہ عام طلبہ کے سر پر منڈلاتی اس تباہی کو دیکھ نہیں پارہی؟

اعلیٰ تعلیم کا معیار کیا ہے یہاں! اس پر تو کوئی بحث ہی نہیں ہورہی، کیونکہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ میں نہ ہی طلبہ کی کوئی نمائندگی ہے اور نہ ہی کوئی آواز ان کے حق میں اٹھتی ہے۔

پروگریسو یوتھ الائنس کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جب تک طلبہ ایک متحدہ آزاد پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کی جدو جہد نہیں کرتے تب تک یونیورسٹی میں طلبہ کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔

پروگریسو یوتھ الائنس، ہائیر ایجوکیشن کے ملازمین پر ریاستی جبر کی شدید مذمت کرتا ہے، اور ان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کی اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دینے کا عزم کرتا ہے۔

ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ حالیہ تعلیمی پالیسی اساتذہ اور طلبہ کے مشترکہ حقوق پر حملہ ہے۔ جہاں اس کے نتیجے میں ایمپلائز کے چولہے ٹھنڈے پڑیں گے وہی طلبہ کے فیسوں میں اضافہ کرکے ان کو تعلیم سے محروم کیا جائے گا۔ ایسے میں طلبہ کو بھی خاموش تماشائی بن کر انتظار نہیں کرنا چاہئیے۔ اگر فیسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو انہیں اس کے خلاف اٹھنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہونا چاہئیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبہ بھر کے طلبہ اور ان کے والدین کو ملازمین و اساتذہ کی موجودہ احتجاجی تحریک کا حصہ بن کر اس تحریک کو مظبوط کرنا چاہئیے۔ یہ ایک مشترکہ جدوجہد ہے، یہ بات ملازمین اور طلبہ دونوں کیلئے سمجھنا لازم ہے۔ اس جدوجہد میں طلبہ کو بھی اپنے تعلیمی مفاد کو سامنے رکھ کر شامل ہونا ہوگا، اور اگر وہ اس جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں، اور اس تحریک کا حصہ بنتے ہیں تو فیسوں میں کمی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ انہیں ملازمین و اساتذہ کے تمام مطالبات کی بھی بھرپور حمایت کرنا ہوگی۔ متحدہ جدوجہد کے نتیجے میں ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.