پاکستان: ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور انقلابی حل

|تحریر: یار یوسفزئی|

آج کی دنیا پر نظر دوڑائی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ناولوں اور فلموں میں برباد مستقبل کی جن فرضی کہانیوں کو پڑھا اور دیکھا کرتے تھے، ہم بھی ان کے کرداروں میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ کہانیاں کسی مستقبل بعید کی باتیں نہیں رہیں بلکہ ہماری آنکھوں کے سامنے حقیقت میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ چاروں طرف پسماندہ ممالک سمیت ترقی یافتہ ممالک بھی سیلاب، خشک سالی، آلودگی اور وباؤں سے پھیلی ہوئی شدید بدنظمی کی لپیٹ میں ہیں۔

ایسے میں پاکستان کی حالت کچھ مختلف نہیں۔ عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات یہاں بھی شدت کے ساتھ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ موسمِ گرما میں مون سون کی بارشیں غیر معمولی کثرت کے ساتھ برستی ہیں اور پہلے سے ہی تباہ حال انفراسٹرکچر کے ہوتے ہوئے مزید تباہی مچا دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں کرنا پڑتا ہے اور کراچی سے لے کر اسلام آباد تک شہریوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ تک سفر کرنا محال ہو جاتا ہے۔ پسماندگی اور عدم منصوبہ بندی کی سطح کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی غریب کا گھر تو چھوڑیں، اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی چھتیں بھی ہر سال مون سون کی بارشوں میں ٹپکنے اور حتیٰ کہ گرنے لگ جاتی ہیں۔ پچھلی دفعہ جب ایسا واقعہ پیش آ رہا تھا تو انتظامیہ اس پر قابو پانے کی بجائے اس شخص کی تلاش میں لگ گئی جس نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی۔

اسی طرح درجہ حرارت میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پچھلی جولائی میں جیکب آباد کا درجہ حرارت 52 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، جو انسانی برداشت کے قابل نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اس درجہ حرارت میں چند گھنٹے گزارے تو اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ تحقیقات کے مطابق مستقبل قریب میں پاکستان کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا، جس میں اگلی دو دہائیوں تک 2.5 سینٹی گریڈ اضافے کے امکانات ہیں۔ مزید برآں پاکستان میں 7 ہزار سے زائد، یعنی قطبی (پولر) علاقوں کو چھوڑ کر کسی بھی ملک سے زیادہ گلیشیئرز پائے جاتے ہیں۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث یہ تیزی کے ساتھ پگھل رہے ہیں، جو موسمِ گرما کے دوران دریاؤں کی سطح بلند کر کے سیلابوں کا باعث بنتا ہے اور آس پاس واقع آبادی کو بہا کر لے جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں کے اندر سیلاب کے بارے میں عوام کو پہلے سے خبردار کرنے کے بھی کوئی انتظامات موجود نہیں ہیں، جس سے لوگ بر وقت محفوظ مقامات تک نہیں پہنچ پاتے اور اچانک آنے والی تباہ کاریوں میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔

دوسری جانب موسمِ سرما میں سموگ کا مسئلہ ہر سال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جو سڑکوں اور موٹروے کی بندش، فلائٹس کی تاخیر اور مختلف بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔ یہ مسئلہ دیگر شہروں میں بھی موجود ہے مگر اس کی شدت کا بھرپور اظہار لاہور کے اندر ہوتا نظر آتا ہے، جو بار بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آتا رہتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے ہوا کا جو مناسب معیار مقرر کیا ہے، اس کے مقابلے میں لاہور کی فضائی آلودگی 40 گنا سے تجاوز کرتی رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے عوام کو متعدد بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں دمہ، پھیپھڑوں کا کینسر، مختلف انفیکشنز اور دل کی بیماریاں شامل ہیں، جن سے ان کی متوقع زندگی میں کمی ہوتی ہے۔ 2019ء میں گلوبل الائنس آن ہیلتھ اینڈ پلوشن نے اندازہ لگایا کہ فضائی آلودگی سے لگنے والی بیماریوں کے باعث ہر سال 1 لاکھ 28 ہزار پاکستانی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ دانشور چونکہ اس نظام کی حدود کے باہر سوچنے کے قابل نہیں ہوتے، اس لیے وہ اکثر اوقات انفرادی کوششوں پر زور دیتے رہتے ہیں۔ مگر ماحولیاتی تبدیلی سمیت کرۂ ارض کو درپیش تمام تر مشترکہ مسائل کا خاتمہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ممکن ہے۔ اگر کوئی شخص دانتوں کی صفائی کرتے وقت پانی کو ذرا احتیاط کے ساتھ استعمال کرے تو اس سے پانی کی قلت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اس کے علاوہ ساری انسانیت پر الزام لگانے کی بجائے سماجی مسائل کی وجوہات سمجھنے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس تباہی کا اصل ذمہ دار کون سا طبقہ ہے۔ اس طبقے کے خلاف جدوجہد کو قومی حدود کے اندر رہ کر جاری رکھنا بھی کافی نہیں ہے کیونکہ سب سروں کے اوپر، چاہے وہ چینی ہو، امریکی ہو، ہندوستانی ہو یا پاکستانی، ایک ہی سرمایہ دار طبقے کا آسمان ہے۔ اس لیے ہمیں طبقاتی بنیادوں پر بین الاقوامی یکجہتی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

صنعتی انقلاب کے بعد اب تک عالمی درجہ حرارت میں 1 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے، جو موجودہ رفتار سے 2040ء تک 1.5 تک پہنچ جائے گا۔ سائنسی تحقیقات کے مطابق اس اضافے کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود کرنا پڑے گا، بصورتِ دیگر تباہی اس سطح پر ہوگی جس کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس مقصد کے لیے 2050ء تک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو صفر پر لانا پڑے گا۔ اس حوالے سے پچھلے نومبر کو برطانیہ میں کوپ 26 کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف ممالک کے سربراہان نے ماحولیاتی تبدیلی کو زیرِ بحث لانے کے لیے شرکت کی۔ مگر اس قسم کے اجلاس محض دکھاوا ہیں، جس میں سیاستدانوں کی دلچسپی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن دورانِ اجلاس ہی بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا۔ حکمران طبقے اور سیاستدانوں کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی کے حل کے بارے میں بار بار وعدے کیے جاتے ہیں اور نئے سرے سے اہداف لیے جاتے ہیں مگر کہیں پر بھی اس پیمانے کی عملی کارروائی ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی جس سے ان مسائل کی شدت میں تھوڑی سی کمی ہو۔

آج سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد محض روزگار، خوراک اور رہائش کی نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی بقاء کی لڑائی بن چکی ہے۔ کرونا وباء کے شروع میں صنعتوں اور ٹریفک کی بندش کے باعث ماحولیاتی آلودگی کی کمی سے منصوبہ بند معیشت کی قوت کی تھوڑی سی جھلک دکھائی دی تھی جب پاکستان کے بہت سے شہروں میں بھی شہریوں کو صاف آسمان دکھائی دینا شروع ہو گیا تھا۔ لیکن یہ اس مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی سماج کی انقلابی تبدیلی کے بغیر ماحولیاتی آلودگی ختم ہو سکتی ہے۔اس کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے بڑے پیمانے پر اقدامات مستقل طور پر لینے کی ضرورت ہے لیکن منافع خوری پر مبنی نظام میں یہ ممکن نہیں۔ اس سماج میں تمام تر پالیسیاں سرمایہ داروں کے شرح منافع کو بڑھانے کے لیے بنائی جاتی ہیں اور انسانیت کوماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے سرمایہ دار کبھی بھی اپنے منافعوں کو کم نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے لیے اس نظام کو ختم کر کے ایک ایساسماج تخلیق کرنا ہوگا جس میں انسانیت کا اجتماعی مفاد مقدم ہو اور منافع خوری کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔ ہمیں سرمایہ دار طبقے اور ان کے پروردہ حکمرانوں سے بھی کوئی امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں کہ وہ اس سیارے کو بچا لیں گے، بلکہ وہ تو منافع کمانے کی خاطر دنیا کا آخری درخت کاٹنے اور محنت کش کے خون کا آخری قطرہ نچوڑنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ چنانچہ یہ ذمہ داری باشعور نوجوانوں اور محنت کشوں پر عائد ہوتی ہے کہ اس تباہ کن نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے منصوبہ بند معیشت پر مبنی ایسا نظام قائم کریں جس میں منافعوں کی بجائے انسانیت کو ترجیح دی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.