فلم ری ویو: چکرویو

2012ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’چکرویو‘ (معنی بھول بھلیّاں) کی کہانی انڈیا کے نکسل وادیوں کی تحریک کے گرد گھومتی ہے جس میں ایک جانب پولیس افسر عادل خان کے طور پر ریاستی مشینری کے نمائندے کا کردار ہے جبکہ دوسری جانب اس پولیس افسر کا دوست کبیر ہے جسے وہ دور دراز کے جنگلوں میں عوام کے حقوق کے لیے انقلابی جدوجہد کرنے والے کارکنان کی مخبری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ لیکن کہانی انتہائی ڈرامائی رخ اختیار کر لیتی ہے۔ دو دیرینہ دوستوں کی کہانی ایسا موڑ مڑتی ہے کہ دونوں کے لیے فرض اور دوستی میں سے ایک کے انتخاب کی گنجائش بچتی ہے اور دونوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو جاتی ہے۔ فلم کا ڈائریکٹر پرکاش جھا ہے اور اس کے مرکزی کردار ابھے دیول اور ارجن رامپال نے نبھائے ہیں جبکہ دیگر اداکاروں میں اوم پوری، منوج باجپائی اور ایشا گپتا شامل ہیں۔

کہانی کے شروع میں ایس پی عادل خان (ارجن رامپال) کا ٹرانسفر ایک شورش زدہ علاقے نندی گھاٹ میں ہوتا ہے جس کا ہدف وہاں پر سرگرم نکسل وادیوں کا صفایا کرنا ہوتا ہے۔ حکومت پر ایک صنعت کار گروپ کا دباؤ بھی ہوتا ہے جو وہاں کی مقبوضہ زمینوں کو خالی کرا کے اپنی منافع خوری کے لیے صنعتیں لگانا چاہتے ہیں مگر بظاہر عوامی ترقی اور خوشحالی کا نام استعمال کرتے ہیں۔ آغاز میں عادل خان کو کامیابی کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہوتا مگر ایک رات اس کا دوست کبیر (ابھے دیول) اسے مشورہ دیتا ہے کہ میں نکسل وادیوں کی فوج میں شامل ہوتے ہوئے پولیس کا خبری بن کر تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں تو وہ چار و ناچار حامی بھر لیتا ہے۔ مگر باغیوں کے ساتھ مل کر کبیر دھیرے دھیرے وہاں کے عوام کی محرومیوں اور ان کے اوپر ہونے والے جبر سے واقف ہوتا ہے اور ان کے ساتھ ہمدردی کے جذبات ابھرنے لگتے ہیں۔ نکسل وادیوں کی ایک تقریب، جس میں بچے اور خواتین بھی شامل ہوتی ہیں، پر جب پولیس دھاوا بول دیتی ہے اور قتل و غارت کرتی ہے تو کبیر کے کردار میں پنپنے والا تضاد اہم رخ اختیار کرتا ہے اور اس کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اس جنگ میں ریاستی مشینری کا آلہ کار بنے گا یا عوام کے حقوق کی جنگ کرنے والوں کا ساتھ دے گا۔ کردار کے اندر اس کشمکش کو انتہائی ڈرامائی اور خوبصورت انداز میں دکھایا گیا ہے اور ابھے دیول نے اس کردار کو نبھایا بھی خوب ہے۔ فلم میں مہنگائی کیخلاف ایک گانا بھی فلمایاگیا ہے جسے عوامی سطح پر بہت پذیرائی ملی تھی۔اس کے علاوہ گوریلا جنگجوؤں میں موجود اندرونی بحثوں اورکرپشن اور بدعنوانی کو بھی دکھایا گیا ہے جبکہ دوسری جانب کچھ نظریاتی بحثوں کو بھی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بہرحال، سرمایہ دارانہ نظام کی پیچیدگیوں کی ضروری سمجھ بوجھ کے بغیر مسلح جدوجہد کا نتیجہ نہ ختم ہونے والے خون خرابے کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔ نکسل وادی اپنے آغاز سے چینی انقلاب اور ماؤ ازم کے نظریات سے متاثر رہے ہیں مگر وہ اپنے مخصوص حالات کے پیشِ نظر برپا ہوا تھا۔جنگلوں میں مسلح جدوجہد کرنے کی بجائے آج شہروں کے نجی اور سرکاری شعبے کے مزدوروں میں مارکسزم کے نظریات کا فروغ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح ماؤازم مرحلہ واریت کے غلط نظریات کے باعث حتمی طور پر سرمایہ داری کی حمایت پر منتج ہوتا ہے اس لیے ٹراٹسکی کے نظریہ”مسلسل انقلاب“کے تحت عام ہڑتالوں اور مزدور تحریک کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ آج سماج کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انقلاب کی قیادت مزدور طبقہ کرے، صرف اسی صورت غریب کسانوں سمیت تمام مظلوم پرتوں کے مسائل کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.