ملتان: طالبات کو ہراساں کرنے کے خلاف بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، ملتان|

گذشتہ روز بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے طلبہ نے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے ٹیچر کی جانب سے طلبہ کے ساتھ بدسلوکی اور طالبات کو ہراساں کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ کے علاوہ دیگر ڈیپارٹمنٹس کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔ طلبہ ریلی کی شکل میں یونیورسٹی کے باہر چوک میں پہنچے اور بوسن روڈ بلاک کر دیا۔ اس دوران طلبہ نے مذکورہ ٹیچر اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ٹیچر کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق عادل حسین فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا ایک استاد ہے  اور اس پر پہلے بھی لڑکیوں کو ہراساں کرنے اور لڑکوں کی تذلیل کرنے کے الزامات لگے ہوئے ہیں۔ طلبہ نے پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکنان کو بتایا کہ عادل حسین پر پچھلی بار بھی اس قسم کے الزامات لگے تھے تو اسکے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی جس کے نتیجے میں اسے اپنی بدمعاشی پر اور بھی فخر ہونے لگا تھا اور وہ دن دہاڑے طلبہ کو یہ کہتا پھرتا تھا کہ کیا بگاڑ لیا ہے تم نے میرا! اور تو اور جس اخبار میں اس کے خلاف خبر لگی تھی اس نے اس خبر کو اخبار سے کاٹ کر نوٹس بورڈ پر آویزاں کردیا تھا اور طلبہ کے سامنے کھلے عام بدمعاشی کرنے لگا۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک چلتا رہا۔اور بار بار اس کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ سے شکایت کرنے کے باوجود جب انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی ایکشن نہیں لیا گیا تو طلبہ اپنے تجربات کی بدولت اس نتیجے پر پہنچے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس استاد کیساتھ ہے اور سب طلبہ کو کھلونوں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ نمبروں اور ڈگری کے خوف کا استعمال کرتے ہوئے یہ سب طلباء و طالبات سے ناجائز فائدے اٹھاتے ہیں۔ کلاس کے اندر تو یہ لوگ (اساتذہ) انسانیت اور اخلاقیات کا درس دیتے ہیں مگر خود یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ طلبہ کونمبروں کیلئے ہراساں کیا جاتا ہے اور ان سے ناجائز فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ اور ایسا صرف فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں ہی نہیں ہوتا بلکہ ایسا پوری یونیورسٹی میں ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایسا ملک کی تقریباً تمام یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے تو یہ بات غلط نہ ہوگی۔ان تمام تجربات سے سیکھتے ہوئے طلبہ نے بالآخر اس سے تنگ آکر جراتمندانہ طریقے سے اس کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔

احتجاج فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے طلباء و طالبات نے بغیر کسی نام نہاد طلبہ تنظیم یا غنڈہ گرد گروہ کی مدد کے اپنی مدد آپ کے تحت منظم کیا۔ صبح10:30بجے کے قریب طلبہ نے بی زیڈ یو میں واقع اپنے ڈیپارٹمنٹ میں طلبہ کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور پھر سب طلباء و طالبات اکٹھا ہونے کے بعد یونیورسٹی کے مین گیٹ پر پہنچ گئے۔وہاں پر طلباء و طالبات کی کافی تعداد جمع ہو گئی جن میں فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ کے علاوہ دیگر ڈیپارٹمنٹس کے طلباء بھی شامل ہو گئے اور پھر سب نے احتجاج کا باقاعدہ آغاز کیا۔ احتجاج کے دوران طلبہ کے اتحاد کو توڑنے کیلئے انتظامیہ کی بھاری نفری احتجاج میں موجود تھی اور طلبہ کو یہ کہہ کر ڈرایا دھمکایا جا رہا تھا کہ احتجاج سے چلے جائیں ، یہ دو تین لڑکوں کی شرارت ہے انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا جائیگا اور جو ان کے ساتھ کھڑا رہے گا ان کو بھی نکال دیا جائیگا ۔انتظامیہ کی ان تمام چالوں کے باوجود بھی طلبہ ٹس سے مس نا ہوئے اور انہوں نے اتحاد توڑنے سے صاف انکار کر دیا ۔اس سب کو دیکھ کر انتظامیہ وہاں سے رفو چکر ہونا شروع ہو گئی اور آخر کار غنڈہ گرد طلبہ تنظیموں کو احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے بھیجاگیا۔ان تنظیموں نے اپنے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوشش کی مگر پروگریسو یوتھ الائنس کے کارکنان نے نعروں کو تبدیل نہیں ہونے دیا اور احتجاج کو غلط سمت میں جانے سے بچایا۔ آخر کار پولیس بھی احتجاج کو ختم کرنے کیلئے پہنچ آئی اور پہلے تو طلبہ کو ڈرانا شروع کیا مگر طلبہ نے پولیس والوں کو انہیں ڈرانے دھمکانے کے بجائے عادل حسین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ آخر کار پولیس والوں کی یقین دہانی کے بعد اور غنڈہ گرد طلبہ تنظیموں کے اکٹھے ہوجانے کے بعد احتجاج کو ختم کرنے کا اعلان کیا کیونکہ طلبہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ یہ غنڈہ گرد طلبہ تنظیموں کو انتظامیہ نے خود بھیجا ہے کہ وہ اس احتجاج میں جا کر لڑائی شروع کر دیں اور پھر انتظامیہ بڑے آرام سے اس سارے احتجاج کو طلبہ کی غنڈہ گردی قرار دے کر عادل حسین جیسے جاہل اور وحشی مجرم کو بچا لے گی۔
طلبہ نے یہ احتجاج تو ختم کر دیا مگر انتظامیہ کو یہ واضح الفاظ میں کہا کہ اگر عادل حسین کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی تو اگلی بار پوری یونیورسٹی کے طلبہ کو ساتھ ملا کر احتجاج کریں گے۔

طلبہ کا ہراساں کیا جانا اور اسی طرح طلبہ کے دیگر مسائل جیسے فیسوں میں دن بدن ہوتا ہوا اضافہ اور خاص طور پر روزگار کی کوئی گارنٹی نا ہوناوغیرہ آج پورے ملک موجود ہیں۔ اور جس طرح اس یونیورسٹی کی انتظامیہ اس مسئلے کے حل کیلئے بالکل بھی تیار نہیں ہے بلکہ سب مل کر یہ دھندا کرتے ہیں اسی طرح اس ملک کے حکمران بھی کوئی مسئلہ حل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور سب مل کر محنت کش طبقے کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔اگر ان سے اپنا حق چھیننا ہے تو ان کے خلاف طلبہ کو پورے ملک میں منظم ہونا ہوگا اور درست بنیادوں پر لڑائی لڑنا ہوگی۔

طلبہ کو منظم کرنے کیلئے ہی پروگریسو یوتھ الائنس کا پلیٹ فارم بنایا گیا ہے تاکہ ایسے مسائل سے لڑنے کیلئے طلبہ ایک جگہ اکٹھے ہوں اور پورے ملک میں نا صرف اپنے فوری مطالبات کیلئے لڑیں بلکہ تمام طلبہ کے مسائل جیسے بیروزگاری اور فیسوں میں اضافہ وغیرہ کے مستقل حل کیلئے مل کر جدوجہد کریں۔ Join PYA

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.