الزام: ”سوشلزم قومی تشخیص کو تسلیم نہیں کرتا“ کا جواب

|تحریر: پارس جان|


[یہ اقتباس سہ ماہی میگزین لال سلام کے شمارے گرما 2023ء میں شائع ہونے والے کامریڈ پارس جان کے ایک آرٹیکل بعنوان ”سوشلزم پر لگائے جانے والے 10 الزام اور ان کے جواب“ سے لیا گیا ہے۔ مکمل آرٹیکل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔]

یہ اعتراض بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جس کا پاکستان جیسے ممالک میں کم و بیش ہر سوشلسٹ انقلابی کو کبھی نہ کبھی ضرور سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سائنسی سوشلزم کے بانی کارل مارکس نے یہ نعرہ دیا تھا کہ ’دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مارکس قوموں کے ثقافتی وجود سے ہی انکار کر رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سوشلسٹ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی بات تو کرتے ہیں مگر قومی آزادی کی تحریکوں کو نظرا نداز کر دیتے ہیں۔ ہم اس اعتراض کو بھی مسترد کرتے ہیں کیونکہ ہم قوموں کے وجود کو نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ مزدور تحریک کے سیاسی پروگرام میں قومی آزادی کو جزوِ لاینفک بھی سمجھتے ہیں۔ اختلافی نقطہ یہ ہے کہ ہم قومی مسئلے کو رومانوی یا جذباتی انداز میں دیکھنے کی بجائے اسے تاریخی پسِ منظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قوم کوئی ازلی اور ابدی شے نہیں ہے بلکہ تاریخی ارتقا کے مخصوص مرحلے پر قوم کا جنم ہوا اور ان تاریخی لوازمات کی عدم موجودگی یا نفی کی صورت میں قوم کا وجود بھی قائم نہیں رہ سکے گا۔ قوم لبرل قوم پرستوں کے دعووں کے برعکس زیادہ پرانی اصطلاح نہیں ہے بلکہ صنعتی انقلاب کے بعد قومی جمہوری انقلابات میں جدید اقوام سیاسی اور معاشی اکائیوں کی صورت میں تاریخی اُفق پر نمودار ہوئیں۔ اسی طرح زبانیں بھی ہمیشہ ارتقا پذیر رہتی ہیں اور بہت سی پرانی زبانیں آج معدوم ہو چکی ہیں اور ٹیکنالوجی کی تیز ترین ترقی کے زیرِ اثر مختلف خطوں میں نئی زبانوں کی تشکیل جاری و ساری ہے۔
صنعتی انقلاب میں ذرائع پیداوار کی جست نے ایک جیسی یا مختلف زبانیں بولنے والے درجنوں قبائل کو معاشی تعلقات کے نئے بندھنوں میں جوڑ کر جدید اقوام کی تشکیل کا فریضہ سر انجام دیا۔ جن ممالک میں قومی جمہوری انقلابات برپا نہ ہو سکے، وہاں آج بھی اقوام اپنی تکمیل کے عبوری دور سے گزر رہی ہیں اور وقتاً فوقتاً قبائلی تنازعات سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ قوم پرست قومی وجود کو داخلی تضادات سے مبرا سمجھتے ہیں اور ٹھوس، قطعی اور ناقابلِ تغیر قرار دیتے ہیں۔ سوشلسٹوں کے خیال میں قومیں سرمائے اور محنت کے تضاد سے آزاد نہیں ہوتیں، ہر قوم میں دو طبقات موجود ہوتے ہیں، ان کے درمیان طبقاتی کشمکش بھی موجود ہوتی ہے، وہ کبھی ماند پڑ جاتی ہے اور کبھی شدت اختیار کر کے نظام کی ہی کایا پلٹ کر رکھ دیتی ہے۔ سوشلسٹ جیسے طبقاتی استحصال کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتے ہیں ویسے ہی قومی و لسانی جبر کی بھی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ تمام اقوام کا حقِ خود ارادیت تسلیم کرتے ہیں مگر ہم اس قومی جبر کو معاشی جبر سے کاٹ کر نہیں دیکھتے۔ ہمارے نزدیک سرمائے کی زنجیروں سے آزادی کے بغیر کبھی حقیقی آزادی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے ہم قومی آزادی کی جمہوری تحریکوں میں اپنے واضح بینر اور پروگرام کے ساتھ شامل ہوتے ہیں تاکہ مظلوم اقوام کے محنت کشوں کوایک انقلابی پروگرام میں جوڑ کر عالمی مزدور تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے اس سامراجی نظام کا ہی خاتمہ کیا جائے جو قوموں کے وسائل کی لوٹ مار کا آئینی، قانونی اور اخلاقی جوا زمہیا کرتا ہے۔ نجی ملکیت کے مقدس حق کے خاتمے سے ہی وہ محرک ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکتا ہے جو حکمرانوں کو سٹریٹیجک بنیادوں پر دیگر اقوام کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے قومی و لسانی جبر پر مجبور کرتا ہے۔ مزدور طبقہ جب برسرِ اقتدار آتا ہے تو چونکہ اپنے ہی طبقاتی وجود کا خاتمہ کرنا اس کا تاریخی فریضہ ہے لہٰذا وہ تمام اقوام کا حقِ خود ارادیت بشمول حقِ علیحدگی تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔
اس لیے ہم مزدور طبقے کی قیادت میں مختلف اقوام کی رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اس فیڈریشن میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونے والی اقوام کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینا مزدور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیڈریشن کی مرکزی سوویت کے دو ادارے بنائے جاتے ہیں، یعنی قومیتوں کی کونسل بھی تشکیل دی جاتی ہے، جس کے ذمہ داران کا انتخاب مقامی سوویتوں کے ذریعے جمہوری بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ اس کونسل کو ہر قسم کی قانون سازی میں فیصلہ کن اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ اسی طرح چند ایک بنیادی قوانین کے علاوہ بہت سے قوانین میں مقامی بنیادوں پر مقامی سوویتوں کے ذریعے ترامیم کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔ ایک سوشلسٹ ریاست میں تمام زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ دے کر ہر شخص کا اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ قومیتوں کی کونسل اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تمام نصابی و غیر نصابی اہم کتب ہر زبان میں شائع کی جا سکیں۔ اس طرز کے اقدامات سے بغیر کسی جبر، غیر ضروری مداخلت اور مرکزی اتھارٹی کے تسلط کے فیڈریشن میں موجود تمام اقوام ایک دوسرے پر انحصار اور اعتماد کے رشتے کو فروغ دیتے ہوئے ایک نئی سماجی و سیاسی اکائی میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ مگر اس خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے سے پہلے اس ہولناک سفاکیت جسے سامراجیت کہا جاتا ہے کو صفحہِ ہستی سے مٹانا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے تمام مظلوم اقوام اور طبقات کی الگ الگ تحریکیں ناکافی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ سامراجی تمام مزدور تحریکوں اور عوامی انقلابات کو قومی، لسانی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ ہر وہ سیاسی رجحان جو عوامی انقلابات میں قومی و نسلی یا لسانی تعصبات کا پرچار کرتا ہے، بھلے وہ اس کے لیے باقاعدہ معاوضہ قبول نہ بھی کرے، دانستہ یا غیر دانستہ سامراج کی ہی خدمت سر انجام دیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشی نمونے ایک عالمی منڈی اور عالمی تقسیمِ محنت کو جنم دیا ہے جس کے باعث عالمی مزدور تحریک کی جڑت اور یکجہتی کے معروضی لوازمات مارکس کی پیشن گوئی کے عین مطابق تیار ہو چکے ہیں، اب اصل کام ان معروضی لوازمات کو بروئے کار لاتے ہوئے قومی ریاست اور نجی ملکیت کی مصنوعی زنجیروں سے مکمل آزادی کا حصول ہے۔ اس لیے آج یہ نعرہ ڈیڑھ سو سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ متعلق، مؤثر، قابلِ تقلید اور قابلِ عمل ہے کہ ’دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ!‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.