الزام: ”سوشلزم مذہب مخالف ہے“ کا جواب

|تحریر: پارس جان|


[یہ اقتباس سہ ماہی میگزین لال سلام کے شمارے گرما 2023ء میں شائع ہونے والے کامریڈ پارس جان کے ایک آرٹیکل بعنوان ”سوشلزم پر لگائے جانے والے 10 الزام اور ان کے جواب“ سے لیا گیا ہے۔ مکمل آرٹیکل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔]

یہ بھی سوشلزم کے خلاف استعمال ہونے والا سب سے مؤثر اعتراض ہے۔ بالخصوص پاکستان، جو بنایا ہی مذہب کے نام پر گیا ہے، میں تو سوشلسٹوں کے خلاف اسے بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ سوویت یونین کی معاشی اور سیاسی حاصلات کے باعث جب انقلاب کا پیغام سارے کرۂ ارض میں تیزی سے پھیلنا شروع ہوا تو سامراجیوں نے مذہب کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور سوشلزم کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا کیا گیا۔ اس کے لیے انہیں زر خرید مذہبی اکابرین کی خدمات میسر آئیں۔ ایسے مذہبی سکالرز اور اکابرین جو سوشلزم سے ہمدردی رکھتے تھے، ان کی کردار کشی کی گئی اور ان پر بھی کفر کے فتوے لگائے گئے۔ اس کے لیے عام طور پر مارکس کا یہ مشہور قول کہ ’مذہب لوگوں کے لیے افیون ہے‘سیاق و سباق سے کاٹ کر استعمال کیا گیا۔ مارکس کے اصل الفاظ کچھ یوں تھے کہ ’مذہبی ابتلائیں اصل میں بیک وقت حقیقی مصائب کا اظہار بھی ہیں اور ان کے خلاف احتجاج بھی۔ مذہب مجبو رو محکوم مخلوق کی آہ و بکا ہے، بے دل دنیا کا دل ہے اور بے روح حالات کی روح ہے۔ مذہب لوگوں کے لیے افیون ہے۔‘یہاں مارکس نے ایک نظریہ دان کی حیثیت سے اپنے جدلیاتی مادیت کے طریقہ کار کی بنا پر مذہب کی ابتدا، تاریخی ارتقا اور سماجی محرکات کا شاندار احاطہ کیا ہے۔ لیکن مارکس کے مؤقف کومسخ کر کے یوں پیش کیا جاتا ہے گویا مارکس کا یعنی سوشلزم کاحتمی مقصد ہی مذہب کا خاتمہ ہے۔ یہ سراسر غلط ہے، سوشلزم استحصال اور جبر کی ہر شکل کے خاتمے کی جدوجہد ہے اور بدقسمتی سے مذہبی اشرافیہ (ملاں، پنڈت، پادری صاحبان وغیرہ) اسی جبر اور استحصال کے دفاع پر اتر آتی ہے تو محنت کش طبقے پر انسانیت کی نجات کے لیے اسے روندتے ہوئے آگے بڑھنا فرض ہو جاتا ہے۔
سوشلسٹوں کے لیے مذہب ہر شخص کا نجی معاملہ ہے۔ مذہب کو ریاست اور فیصلہ سازی کے امور سے علیحدہ کر کے ایک سیکولر ریاست بنانے کا تاریخی فریضہ درحقیقت سرمایہ دار طبقے کا تھا مگر اپنی نامیاتی کمزوری کے باعث وہی سرمایہ دار طبقہ اب مذہب کو ریاست کے اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ عملاً سرمایہ دار طبقہ غیر مذہبی ہوتا ہے، منافع اور شرحِ منافع ہی اس کا اصل مذہب ہوتا ہے مگر وہ درمیانے طبقے کے ’شناخت کے بحران‘ اور ہیجانی طبیعت کو مذہب کے نام پر ورغلا کر فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے اور پرولتاریہ کی سیاسی جدوجہدوں کو کُند کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جمود کے ادوار میں پرولتاریہ کی پچھڑی ہوئی پرتیں بھی اس کے لیے خام مال کا کام کرتی ہیں مگر جونہی انقلابی دور کا آغاز ہوتا ہے پرولتاریہ تمام قسم کے توہمات کو پسِ پشت ڈال کر دیگر مظلوم طبقات کو اپنی قیادت میں منظم اور متحد کرنا شروع کر دیتا ہے اور جب یہی محنت کش طبقہ اپنی استقامت اور ثابت قدمی کے ذریعے ایک سوشلسٹ قیادت کی رہنمائی میں اقتدار حاصل کرتا ہے تو وہ ان توہمات کی مادی بنیادوں کے خاتمے کی جدوجہد کو تیز تر کر دیتا ہے۔ سوشلسٹ ریاست کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوتا اور شہریوں کو کوئی بھی مذہب رکھنے یا کوئی بھی مذہب نہ رکھنے کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔ مذہب کی بنا پر شہریوں کی شناخت یا امتیازی سلوک کے ہر امکان کو سختی سے ختم کر دیا جاتا ہے۔ ہر شخص کو اپنے عقائد کی روشنی میں زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دی جاتی ہے مگر کسی بھی دوسرے فرد اور گروہ پر اپنے عقائد مسلط کرنے کی سخت ممانعت ہوتی ہے۔ مذہبی اشرافیہ کی تمام سرکاری مراعات کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے اور عبادت گاہوں کو سرکاری انتظام و انصرام میں بطورِ احسن چلایا جاتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ انتشار پھیلانے اور اشتعال دلا کر سماج میں امن و امان کے مسائل پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ ہوں۔ نظامِ تعلیم اور علاج کے شعبے میں مذہب کی مداخلت ختم کر دی جاتی ہے اور نصابِ تعلیم کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے تاکہ ہنر مند مزدوروں کی پیداواریت میں اضافہ کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی بہتات اور فراوانی کے ذریعے عوام کا معیارِ زندگی بلند ترین سطح پر لایا جائے۔ فلکیات اور طبیعات سمیت تمام سائنسی علوم میں بے نظیر ترقی کے بغیر سوشلزم کبھی تعمیر نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے نظامِ تعلیم کو ہر قسم کے توہمات اور تعصبات سے پاک کرنا بنیادی شرط ہوتی ہے۔ دم درود کے ذریعے علاج معالجے کا ہر کاروبار بند کر دیا جاتا ہے اور ہر شخص کو ہر سطح پر مفت تعلیم اور علاج فراہم کرنا مزدور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یوں عملاً ایک سوشلسٹ ریاست میں ایک سرمایہ دارانہ ریاست سے زیادہ مذہبی آزادی ہوتی ہے۔ تاہم ریاستی امور کی باگ ڈور سائنسی شعور رکھنے والے سرگرم سوشلسٹ مزدوروں کے ہاتھ میں ہوتی ہے جو عوام کی رہنمائی کا تاریخی فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.