بلوچستان: صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی نامنظور!

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، بلوچستان|

پروگریسو یوتھ الائنس کے جاری کردہ صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن بلوچستان کی جانب سے بلوچستان بھر کے تعلیمی اداروں میں طلبہ سیاست پر پابندی طلبہ کے جمہوری حقوق پر قدغن لگانے کے مترادف ہے اور حکومتِ وقت کی اسطرح کی پابندی ضیائی مارشل لاء کے دور سے عبارت ہے، جس نے 1984 میں طلبہ یونین پر پابندی لگائی مگر 35 سال ہوگئے جمہوریت کا راگ الاپنے والے اس پابندی کو ختم کرنے کا نام نہیں لے رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ طلبہ اور نوجوانوں کی جدوجہد سے حکمران کس قدر خوف زدہ ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان بھر کے تعلیمی ادارے بالخصوص کالجز اور یونیورسٹیاں اس وقت سکیورٹی اداروں کے مکمل قبضے میں ہیں جس کی وجہ سے طلبہ شدید ذہنی کوفت کا شکار ہیں، مگر ان نااہل حکمرانوں کو کبھی بھی یہ نظر نہیں آتا۔ اسکے علاوہ پورے صوبے کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کا مکمل طور پر فقدان ہے، جن میں آئے روز فیسوں میں اضافہ، ہاسٹل کی سہولیات کا فقدان، ٹرانسپورٹ کی کمی اور جدید سلیبس کی غیرموجودگی شامل ہے۔

اس سلسلے میں پورے بلوچستان کے اندر کالجز کے طلبہ برسر احتجاج ہیں۔ جس کو مدنظر رکھتے ہوئے نااہل صوبائی حکومت اور دیگر مقتدر قوتیں طلبہ کی اس طاقت کو توڑنے کے لئے یہ حربے استعمال کر رہی ہیں تاکہ طلبہ اپنے حقوق کی جدوجہد کے لئے خود کو کسی بھی طریقے سے منظم نہ کر سکیں۔ مگر یہ نااہل حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کی بھول ہے کہ وہ ان اوچھے ہتکھنڈوں کے ذریعے بلوچستان کے طلبہ کو اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے سے روک پائیں گے۔ کیونکہ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں طلبہ سیاست کا ایک اہم کردار رہا ہے جس سے حکمران طبقات کے ڈر میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ جبکہ دوسری طرف بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں ریاستی اداروں کی پشت پناہی میں بنائی گئی مختلف طلبہ تنظیموں اور نام نہاد سول سوسائیٹیز کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ 

یہ حملہ در حقیقت پورے صوبے کے طلبہ کے حقوق پر حملہ ہے اور پروگریسو یوتھ الائنس صوبے سمیت پاکستان بھر کے طلبہ سے یہ اپیل کرتا ہے کہ وہ نااہل حکمرانوں کے اس جبر کیخلاف اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمران طبقات کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے یہ عہد کریں اور اسطرح کی دیگر پابندیوں سے بچنے کے لیے پروگریسو یوتھ الائنس کے ”طلبہ یونین بحال کرو” کی کمپئین کا ساتھ دیں تاکہ طلبہ کے حقوقق پر قدغن لگانے والوں کیخلاف جدوجہد تیز کی جاسکے اورانہیں روکا جا سکے۔ کیونکہ طلبہ یونین کی بحالی ہی سے اسطرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کی اس جدوجہد میں صف اول میں کھڑا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.