جامشورو: سندھ یونیورسٹی جامشورو میں پروگریسو یوتھ الائنس کی جانب سے شاندار سٹوڈنٹ ریلی کا انعقاد

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس،جامشورو|

21 ستمبر 2021 ء کو سندھ یونیورسٹی جامشورو کے طلبہ کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو آرٹس فیکلٹی سے ہوتی ہوئی آئی ٹی ڈپارٹمنٹ سے سینٹرل لائبریری پر دھرنے کی صورت میں اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کی کال پروگریسو یوتھ الائنس کی جانب سے دی گئی۔ احتجاجی ریلی مفت تعلیم، طلبہ یونین کی بحالی، ہاسٹلوں میں اضافے اور جنسی حراسانی کے خاتمے کے لیے نکالی گئی۔ اس ریلی میں سندھ یونیورسٹی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی شرکت کر کے طلبہ یکجہتی کا  ثبوت پیش کیا۔

سندھ یونیورسٹی میں پچھلے کچھ عرصے سے لگاتار فیصوں میں اضافہ کیا جا رہا تھا۔ صرف گزشتہ ماہ میں ایم فل کی فیسوں میں 80 فیصد اضافہ کیا گیا جس کے خلاف طلبہ میں کافی غصہ موجود ہے اور اس کا اظہار مختلف احتجاجات میں بھی ہوا۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں کی طرح سندھ یونیورسٹی میں بھی آئے روز جنسی ہراسانی کے کئی واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ یونیورسٹی میں ہاسٹلوں کی شدید کمی ہے اور جو ہاسٹل موجود ہیں ان میں بھی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ان سب مسائل کے حوالے سے انتظامیہ کا رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ طلبہ دشمن ہے۔ طلبہ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کوئی ان مسائل پر بات کرے تو اس کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ادارے میں طلبہ کی نمائندگی یعنی طلبہ یونین کی غیر موجودگی ہے۔ طلبہ کے پاس اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پروگریسو یوتھ الائنس نے سندھ یونیورسٹی میں ریلی کا اعلان کیا۔

اس ریلی کی تیاری کے لیے گزشتہ کئی ہفتوں سے پروگریسو یوتھ الائنس کے ساتھیوں نے سندھ یونیورسٹی میں بھرپور کمپئین کی اور طلبہ کو اس ریلی میں شرکت کی دعوت دی۔اس کمپئین کا آغاز سندھ یونیورسٹی کی آرٹ فیکلٹی سے کیا گیا جہاں پر مختلف شعبہ جات کی کلاسز میں جا کر طلبہ میں لیفلیٹ تقسیم کے گئے اور ریلی میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس کے بعد سندھ یونیورسٹی میں موجود ہاسٹلز اور کینٹینز پر بھی لیفلیٹ تقسیم کیے گئے۔سندھ یونیورسٹی کی لائبریریوں میں بھی لیفلیٹ تقسیم کیے گئے اور طلبہ کو ریلی کی دعوت دی گئی۔

ریلی کا آغاز ہونے سے پہلے ہی انتظامیہ کی جانب سے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری آرٹس فیکلٹی کے باہر تعینات تھی۔ انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کے ساتھ تذلیل آمیز اور آمرانہ رویہ اپنایا جا رہا تھا۔ اس جابرانہ رویے کے بعد بھی طالب علموں کی ایک بڑی تعداد نے بغاوت کا علم بلند کرتے ہوئے ان ظالمانہ اور آمرانہ بندشوں کے آگے جھکنے سے صاف انکار کردیا۔

ریلی کا آغاز ہوتے ہی رینجرز نے تصویریں نکالنا اور وڈیوز بنانا شروع کردیا اور انتظامیہ کی جانب سے بار بار طلبہ کو ہراساں کیا جارہا تھا مگر طالب علموں نے انقلاب کے نعروں سے انتظامیہ کو منہ توڑ جواب دیا۔ مفت تعلیم، طلبہ یونین کی بحالی، جنسی ہراسانی کے خاتمے، ہاسٹلوں کی کمی کو پورا کرنے اور دیگر مطالبات کے حق میں طلبہ نے بھرپور نعرے بازی کی۔

آئی ٹی ڈپارٹمنٹ سے ہوتے ہوئے سینٹرل لائبریری پر اس ریلی نے دھرنے کی صورت اختیار کرلی۔

طلبہ کے نعروں سے گونجتی اس ریلی سے پہلا خطاب پروگریسو یوتھ الائنس کے ساتھی بھیشم خاکی نے کیا۔ بھیشم خاکی نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ ان میں صاف پانی ہے نہ کوئی اور بنیادی سہولت موجود ہے مگر آئے دن انتظامیہ ہاسٹلز کی فیسوں میں اضافہ کر رہی ہے جس کی وجہ کے غریب طلبہ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ کو للکارتے ہوے کہا کہ آج کی یہ ریلی ایک تاریخ رقم کر چکی ہے۔ انتظامیہ یہ نہ سمجھے کے یہ ہماری آخری ریلی ہے بلکہ یہ تو آغاز کا بھی آغاز ہے۔

بھیشم خاکی کے بعد پاکستان سٹڈیز ڈپارٹمنٹ سے ماریہ آرائیں نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ پاکستان سٹڈی ڈپارٹمنٹ کو پوائنٹ بسیں فراہم کی جائیں اور جو طلبہ دیگر شہروں سے آتے ہیں ان کو بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے پوائنٹ بسیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات آئے دن بڑھتے جارہے ہیں۔ ان کو روکنے کے لیے طلبہ پر مشتمل ہر ڈپارٹمنٹ میں ’’اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں‘‘ تشکیل دی جائیں۔

ریلی کے اختتام پر پروگریسو یوتھ الائنس کراچی یونیورسٹی سے زینب نے خطاب کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے سندھ یونیورسٹی کے طلبہ کو شاندار ریلی کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ زینب نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں طلبہ اپنے حقوق کے لیے منظم ہو رہے ہیں۔ زینب کا مزید کہنا تھا کہ ’’اینٹی ہراسمنٹ کمیٹیاں‘‘ تشکیل دینے کے لیے طلبہ کو منظم ہونا ہوگا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد کی جائے اور آخر میں انہوں نے اس تحریک کو مزید آگے بڑھانے اور ملک گیر طلبہ تحریک کے ساتھ جوڑنے پر زور دیا۔

پروگریسو یوتھ الائنس کے ساتھیوں نے اس عزم کے ساتھ ریلی کا اختتام کیا کہ وہ ہر ڈپارٹمنٹ میں طلبہ پر مشتمل کمیٹیاں بنانے کی طرف جائیں گے تاکہ طلبہ کے حقوق کی لڑائی متحد اور منظم ہو کر لڑی جا سکے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، یہ جدوجہد نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.