سندھ یونیورسٹی: فیسوں میں اضافے کا فیصلہ ملتوی، فتح کی جانب پہلا قدم

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، جامشورو|

سندھ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ ایسا صرف طلبہ کی شاندار اور دلیرانہ جدوجہد کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے اور پورے ملک کے طلبہ کے لیے حوصلہ اور مشعلِ راہ ہے کہ جدوجہد کے ذریعے طلبہ دشمن اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

عالمی معاشی بحران نے بالعموم جہاں پوری دنیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ لے لیا وہیں پچھڑے ہوئے اور پسماندہ خطوں کی حالت پہلے سے زیادہ زبوں حال اور دگرگوں ہو کر رہ گئی ہے۔ سونے پہ سہاگا کورونا کی آمد نے کیا، جس نے پہلے سے تباہ حال صحت اور تعلیمی انفراسٹرکچر کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے سامراجی اداروں کے قرضوں کے بوجھ تلے دبی پاکستانی ریاست نے ان سامراجی اداروں کی مکمل کاسہ لیسی کرتے ہوئے بھاری شرائط کے تحت مزید قرضے لینا شروع کر دیے جبکہ ایسی صورتحال میں عوام کو بچانے کے بجائے ملکی سرمایہ داروں کو بارہ سو ارب رپے کے بیل آؤٹ پیکج دیے۔ آئی ایم ایف کی ریاستی اخراجات میں کٹوتیاں کرنے جیسی شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے پاکستان کے حکمران طبقات نے صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبہ کے بجٹ میں بہت بڑی کمی کر کے ان شعبہ جات کی نجکاری کے عمل کو تیز تر کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سارے معاشی جبر کے تحت ہی تمام یونیورسٹیوں کی طلبہ دشمن انتظامیہ نے اپنی زمینیں بیچنے اور کنٹریکٹ ملازموں کی جبری برطرفیوں سمیت طلبہ کی فیسوں میں بے پناہ اضافہ کرنا شروع کر دیا۔

سندھ یونیورسٹی جامشورو نے بھی اپنی طلبہ دشمنی کو جاری رکھتے ہوئے فیسوں میں 30 فیصد اضافہ کیا جس کے بعد طالب علموں نے یک مشت ہوکر احتجای ریلی نکال کر بوائز ہاسٹل گیٹ پر دھرنا دیا اور اگلے دن یونیورسٹی کے کانووکیشن ہال کے گیٹ پر دھرنا دے دیا جہاں انٹرنیشنل اسکالرز کانفرس جاری تھی، جس کے مہمانِ خصوصی پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھو ڑو تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر طلبہ نے گیٹ پر ہی نثار کھوڑو کو اپنے گھیرے میں لے لیا، جس سے مجبور ہوکر انہوں نے فیسوں میں کیے گئے اضافے میں پچاس فیصد کمی کی یقین دہانی کروائی۔ اس سب کے باوجود طلبہ نے ہار نہ مانی اور ایک آن لائن پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ جس کے بعد بالآخر مجبور ہوکر یونیورسٹی انتظامیہ نے اگلے سنڈیکیٹ کی میٹنگ تک فیسوں میں کیے گئے اضافے کا فیصلہ ملتوی کر دیا ہے۔طلبہ کی اس تمام تر جدوجہد میں پروگریسو یوتھ الائنس ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا اور اپنا انقلابی موقف پیش کیا۔

پروگریسو یوتھ الائنس طلبہ کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا اور یہ باور کراتا ہے کہ یہ ایک چھوٹی سی کامیابی ہماری حتمی منزل کی جانب پہلا قدم ہے، آگے بھی اس طرح کے حملے جاری رہیں گے جس کا مقابلہ طلبہ کی شعبہ جاتی کمیٹیاں تشکیل دے کر ہی کیا جاسکتا ہے کیوں کہ قوم پرست تنظیمیں طلبہ کی انقلابی کمیٹیوں کا متبادل کبھی نہیں ہوسکتیں اور ان کمیٹیوں کے ذریعے طلبہ جدوجہد کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جدوجہد آفیشل پوائنٹ بسوں، صاف پانی، مفت و معیاری ہاسٹلز، ہراسانی، طلبہ یونین کی بحالی اور طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.