Poetry

نظم: الوداع خاشہ

نظم: الوداع خاشہ

July 28, 2021 at 4:04 PM

چار دہائیوں پر مشتمل جنگ سے بدحال ملک میں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والے خاشہ کو طالبان نے بے دردی سے قتل کردیا۔   زندگی کے علمرنگ و بو کے قلمحیرتوں کے فسوں موسموں کے سکوں خواہشوں کی زباں روشنی کے نشاں ولولوں کے سخیقہقہوں کے نبیتازگی کے خداالوداعRead More

نظم: ”ہم دیکھیں گے“، اقبال بانو کی 81 ویں یوم پیدائش کے موقع پر

نظم: ”ہم دیکھیں گے“، اقبال بانو کی 81 ویں یوم پیدائش کے موقع پر

December 28, 2019 at 8:19 PM

اقبال بانو کے 81 ویں یوم پیدائش کے موقع پر، انکی گائی گئی مشہور نظم ”ہم دیکھیں گے“ (جسے فیض احمد فیض نے لکھا تھا)، ہم اپنے ناظرین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔ ضیاء آمریت کے دوران 1985 میں جب اقبال بانو نے لاہور سٹیڈیم میں 50 ہزار کے مجمعRead More

راولپنڈی: ’پروگریسو یوتھ مشاعرہ‘ کا انعقاد

راولپنڈی: ’پروگریسو یوتھ مشاعرہ‘ کا انعقاد

May 7, 2019 at 2:35 PM

|رپورٹ: پروگریسو یوتھ الائنس، راولپنڈی| 5 مئی 2019ء بروز اتوار راولپنڈی ای لائبریری (e-library) نوازشریف پارک میں پروگریسیو یوتھ الائنس کے زیر اہتمام ایک مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر مظہر حسین سید نے کی اور مہمان خصوصی ادیب و شاعر روش ندیم تھے۔ مشاعرے کے آغاز میںRead More

کوئٹہ: ’’ادب اور سیاست‘‘ کے عنوان پر سیشن اور مشاعرے کا انعقاد

کوئٹہ: ’’ادب اور سیاست‘‘ کے عنوان پر سیشن اور مشاعرے کا انعقاد

March 25, 2019 at 7:22 PM

|رپورٹ: خالد مندوخیل| پروگریسو یوتھ الائنس بلوچستان کی طرف سے 23 مارچ کو بلوچی اکیڈمی میں ’’ادب اور سیاست‘‘ کے عنوان پر ایک سیشن اور اسکے ساتھ ساتھ ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام مجموعی طور پر دو سیشنز پر مشتمل تھا جس میں پہلے سیشن یعنی ”ادب اورRead More

نظم: معصوموں کا شکوہ

نظم: معصوموں کا شکوہ

January 26, 2019 at 11:42 PM

پاپا اکثر کہتے تھےیہ جو وردی والے ہیںہم سب کے رکھوالے ہیںہماری جانوں کی خاطراپنی جان لڑاتے ہیںہماری خوشیوں کی خاطردشمن سے لڑ جاتے ہیںیہ جو وردی والے ہیںہم سے پیار بھی کرتے ہیںاچھے سچے ہوتے ہیںبات کے پکے ہوتے ہیںجب بھی آپ کی راہ میں آئیںپیار سے ان کوRead More

نظم: میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگو

نظم: میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگو

January 12, 2019 at 5:02 PM

میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگو میں اس شہر کا نغمہ گر جو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیا تاکہ اپنے گھر کی دیواروں سے اپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئی آنکھیں سہلاؤں اپنے دروازے کے اترتے روغن کو اپنے اشکوں سے صیقل کر لوںRead More