Art & Literature

افسانہ: امتحان

افسانہ: امتحان

November 16, 2016 at 1:08 PM

کیا تم لوگوں کا اتنا ظرف ہے کہ کسی پر الزام لگا سکو۔ اتنے لائق فائق ہوتے تو یہاں جھک نہ مار رہے ہوتے۔ کسی پرائیویٹ کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے۔ اور یہ احتجاج کرنے سے کبھی کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ نہ کبھی کچھ ہوا ہے اور نہ ہوگا۔

منشی پریم چند

افسانہ: سوا سیر گیہوں

October 21, 2016 at 7:43 PM

اس فیصلہ کی کہیں اپیل نہ تھی۔ مزدور کی ضمانت کون کرتا؟ کہیں پناہ نہ تھی؟ بھاگ کر کہاں جاتا؟ سوا سیر گیہوں کی بدولت عمر بھر کے لیے غلامی کی بیڑ یا ں پاؤں میں ڈالنی پڑیں۔

جواں آگ!

جواں آگ!

December 6, 2015 at 6:52 PM

یہ جواں آگ جو اس شہر میں جاگ اٹھی ہے تیرگی دیکھ کے اس آگ کو بھاگ اٹھی ہے کب تلک اس سے بچاؤ گے تم اپنے داماں یہ جواں آگ جلا دے گی تمہارے ایواں یہ جواں خون بہایا ہے جو تم نے اکثر یہ جواں خون نکل آیاRead More