سرمایہ داری اور عورت کا استحصال

|تحریر: صائمہ بتول|

سرمایہ دارانہ نظام سے جہاں ہر ذی روح متاثر ہو رہا ہے وہاں پر خواتین کی حالت زار کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ موجودہ دور میں عورت جن مصائب و آلام سے گزر رہی ہے اور جو ناروا سلوک عورت کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ معاشی، مذہبی، سماجی غرض یہ کہ ہر معاملے میں عورت کومجبور کر کے اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مصر کی الاظہر یونیورسٹی کے رجعتی سکالر ڈاکٹر صابری کے بیان کے مطابق مردہ بیوی کو دفن کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شوہر ایک مرتبہ الوداعی مباشرت کر سکتا ہے۔ یہ الفاظ کسی ان پڑھ انسان کے نہیں بلکہ یونیورسٹی کے نام نہاد پڑھے لکھے پروفیسر کے ہیں، جس سے معاشرے میں خواتین سے منسلک عمومی بے حسی اور اس کی بطور انسان نہیں بلکہ ہوس اور انسانی نسل کی پیداوار کرنے کے محض ایک آلے کے طور پر اس کی حیثیت کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانیت کی اس حد تک تحقیر کو بھی جائز قرار دینا جنسی محرومی کے زمرے میں ہی آتا ہے اور ایسے بے شمار واقعات آئے روز دیکھنے میں آتے ہیں جن میں مردہ عورتوں کو قبروں سے نکال کے ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ ایسے بھیانک واقعات اینگلز کی اس پیش گوئی کو درست ثابت کر رہے ہیں جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر سرمایہ داری کا خاتمہ کر کے سوشلسٹ معاشرہ تعمیر نہ کیا گیا تو یہ انسانی معاشرے کو بربریت کی جانب لے جائے گی۔ ایسی درندگی، سرمایہ دارانہ سماج کے بربریت کی جانب سفر کی عکاسی کر تی ہے اور فوری بنیادوں پر اس نظام کی تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہے۔

انسانی معاشرہ مختلف ارتقائی ادوار سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہے، جس میں ابتدائی انسانی معاشروں میں عہد وحشت و بربریت، پھر طبقاتی سماجوں میں غلام داری، جاگیرداری اور پھر سرمایہ دارانہ نظام رائج ہوا۔ یہ طبقاتی نظام کا ظہور ہی تھا جس میں عورت کی بطور انسان شکست کا آغاز ہوا جہاں اسے مرد کی ملکیت کی وارث اولاد پیدا کرنے کے ایک آلے کا درجہ ملا جو کہ مر د کے تصرف میں تھا۔ اس سے اب تک دنیا چاند پر پہنچ گئی، طبقاتی نظام نے اپنی ہئیت بارہا تبدیل کی لیکن خواتین کو واپس انسان کا درجہ نہیں ملا۔

بلیک میلنگ مافیاز جن کو پدرشاہانہ معاشرے میں پیسے والے طاقت ور افراد اور یہاں تک کہ حکومتی حکام کی آشیر باد حاصل ہوتی ہے، وہ لڑکیوں کو کبھی تصویروں کے ذریعے اور کبھی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کر کے حکومتی وزیروں اور مشیروں کے پاس بھیجتے ہیں اور بے دردی سے ان کا جنسی استحصال کرنے کے بعد اکثر کو مار دیا جاتا ہے۔ ہمارے خطے کی عورت ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جہاں نہ تو اسے ذہنی سکون ہے اور نہ جسمانی آسائش۔

نوکری پیشہ خواتین کی زندگی ہر وقت داؤ پر لگی ہوتی ہے، ہر دن انہیں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین اپنا کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے کے لیے بھی آزاد نہیں ہیں۔ کم عمری میں شادی کا رواج آج بھی اس خطے میں عام ہے۔ جہاں معاشی طور پر مجبوروالدین اپنے سر سے بیٹیوں کا بوجھ اتارنے کے لیے انہیں پوری زندگی کے لیے جہنم کے عذاب میں جھونک دیتے ہیں۔ پاکستان میں زچگی کے دوران مرنے والی عورتوں کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والی عورتیں بچے کی پیدائش کے تیسرے روز ہی اٹھ کر کام پر چلی جاتی ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

یوں تو پوری دنیا میں خواتین کو ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اگر پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں خواتین کے حالات روز بروز بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔یہاں نوجوان خواتین کے لیے زندگی گزارناایک عذاب سے کم نہیں۔ عورتوں کے چہرے پر تیزاب پھینک کر جلا دیا جاتا ہے، کہیں زہر دے کر مار دیا جاتا ہے تو کہیں پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں ایک طرف تو ملاؤں نے عورت کا جینا مشکل بنادیا ہے تو دوسری جانب سرمایہ دارانہ لبرل ازم کے ذریعے اسے معاشی جکڑبندیوں میں باندھ کر اس کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ عورت کے نجی ملکیت ہونے کی بنیاد کا اظہار چادر اور چار دیواری کے تصور میں بھی ہوتا ہے، اس کے تحت عورت پر ماضی میں بھی ظلم کیا جاتا رہا ہے۔ ایک جیتے جاگتے انسان کو چار دیواروں میں قید کرنے کا فرسودہ نظام اب تک کئی ایک نام نہاد اسلامی ممالک میں موجود ہے جہاں پر عورت کے بولنے پر محض اس وجہ سے پابندی ہے کہ اس کی آواز غیر محرم سن لے گا۔ لیکن اگر حقیقت دیکھی جائے تو ان حالات کا سامنا زیادہ تر غریب یا سفید پوش طبقے کی خواتین کو کرنا پڑ تا ہے۔ حکمران طبقے کی خواتین، ان کی داشتاؤں اور کنیزوں تک کی زندگی کو بھی ہر طرح سے پر آسائش بنایا جا تا ہے اور چھوٹی عمر میں ہی انہیں کوٹھیوں اور بنگلوں سے نوازا جا تا ہے۔

سوات میں جہاں ایک بچی تعلیم کے لیے آواز اٹھاتی ہے تو اسے گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ سندھ میں سکول جانے والی بچی کو سنگسار کر دیا جاتا ہے۔ غریب باپ کی بیٹیوں کو ونی کر دیا جاتا ہے۔ لیکن ایسے ہی علاقوں کی خواتین جو طبقہئ امرا سے تعلق رکھتی ہیں ان کو دنیا جہاں کی تمام سہولیات میسر ہیں۔

اس خطے کی پسماندگی دیکھئے جہاں ہزاروں کے مجمع میں حق بات بولنے والی عورت کو فاحشہ کہا جاتا ہے اور ایوانوں و حکمرانوں کے محلات کی رونقیں دوبالا کرنے والی خواتین رکن پارلیمنٹ، بیوروکریٹ اور نہ جانے کیا کیا ہیں اور انہیں نام نہاد شرفا کے سرکلز میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف عام عورت کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہیں وہیں دوسری طرف طبقہ بالا کی ایک داشتہ کے لیے وزیراعظم ہاوس کے دروازے بھی کھلے ہیں۔ ایک طرف محنت کش عورت دوہرے تہرے جبر کا شکار ہے لیکن دوسری طرف امیر زادیاں ہر ہفتے بیرون ملک جا کر ڈالروں میں شاپنگ کرتی ہیں۔

پاکستان میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ریپ کے ہر روز نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ کبھی معصوم زینب کے جسم کو نوچا جاتا ہے تو کبھی فرشتہ کی مسخ شدہ لاش جھاڑیوں سے ملتی ہے۔ اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی ڈگری حاصل کرنے کے لیے طالبات کو پروفیسر حضرات کی جنسی خواہشات کو چپ چاپ پورا کرنا پڑتا ہے۔ بسا اوقات تھیسز پر تب تک پروفیسر حضرات سائن نہیں کرتے جب تک وہ جسمانی تعلق قائم نہ کر لیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے دیگر ملازمین اور سیکیورٹی گارڈز بھی طالبات کو ہراساں کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ جن اداروں میں مخلوط تعلیمی نظام نہیں ہے وہاں تو طالبات بالکل احتجاج نہیں کر سکتیں، اگر کوئی احتجاج کرنے کی طرف جاتی بھی ہیں تو ان کی کردار کشی کی جاتی ہے اور ان کی ڈگریاں روک کر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں بچیاں اور بچے محفوظ نہیں ہیں۔ بچہ جب تک مدرسے کی تعلیم سے فارغ نہیں ہوتا تب تک مولوی اس سے بد فعلی کرتے رہتے ہیں۔ سکول جانے والی بچیاں بھی آئے روز ایسی درندگی کا شکار ہو جاتی ہیں اور ریپ کے بعد انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔

اگر ملک کے سیاسی ڈھانچے میں خواتین کو دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اسمبلی میں بیٹھنے والی زیادہ تر عورتیں طاقتور سیاسی شخصیات سے جسمانی تعلقات بنانے کے بعد یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ایک عورت جو پڑھی لکھی ہے، جو کسی بھی فیلڈ میں کام کر سکتی ہے، اس کے لیے بھی سب دروازے بند ہیں۔ کرکٹ کے کھیل کی شوقین خواتین کو ہر دن کرکٹ بورڈ کے چئیرمین اور دوسرے افسران کی طرف سے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالات کی چکی میں پستی ہوئی خواتین اس حد تک مجبور ہیں کہ وہ اس بلیک میلنگ کے خلاف آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں۔ اگر کہیں کوئی لڑکی آواز اٹھاتی بھی ہے تو دوسرے ہی دن کردار کشی سے لے کر تیزاب پھینکنے اور قتل ہونے تک کی دھمکیاں اس کی منتظر ہوتی ہیں۔ خواتین اپنا کوئی قانونی حق بھی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر کوئی عورت پولیس تھانے میں رپورٹ درج کروانے جاتی ہے تو وہاں عام سپاہی سے لے کر ایس ایچ او تک اس عورت کے جسم کو بھنبھوڑنے کے بعد ہی اس کی بات سننا گوارا کرتے ہیں۔ ہر سیکٹر میں خواتین کے حالات دگرگوں ہیں، خواہ وہ تعلیمی ادارے ہوں، خواہ وہ فوج کا ادارہ ہو، پولیس کا ادارہ ہو، فیکٹریاں ہوں، کھیت کھلیان ہوں یاکام کی کوئی بھی اور جگہ۔
ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور سرمایہ دار حکمران طبقے کی جانب سے خواتین کو باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے لیے بھی ایک دن مختص ہے لیکن اس دن کو بھی محنت کش خواتین چھٹی تک نہیں کر پاتیں۔ اسی طرح این جی اوز بھی خواتین کے زخموں پر بیوپار کر رہی ہیں، ظاہر ہے سامراجی و حکومتی اداروں سے فنڈز لے کر تو ظالم ہی کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔ استحصال وجبر کرنے والوں کی دولت سے استحصال اور جبر کا شکار ہونے والوں کی کوئی خدمت نہیں کی جا سکتی۔ ظالم اور مظلوم کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ہیں، آقا اور غلام کے درمیان کی خلیج اتنی وسیع ہے کہ اسے کسی قسم کی اصلاحات سے پاٹا نہیں جا سکتا۔

پاکستان میں سوائے امیر طبقے کے کسی کو بھی چین کی زندگی نصیب نہیں۔ امیر طبقے کی خواتین بھی محفوظ ہیں اور بچے بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔ دوسری طرف غریب محنت کش ظلم و جبر کا شکار ہیں۔ اگر غریب مرد محنت کش کوئلے کی کانوں کے اندر مرتے ہیں تو غریب محنت کش عورتوں کو ہر ایک کی گندی نظروں کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ سماج کا اصل تضاد صرف طبقاتی تضاد ہی ہے۔ جب تک ہم استحصال زدہ عورتیں محنت کش طبقے کے ساتھ جڑت نہیں بنائیں گی اور ایک سرخ سویرے کے لیے جدوجہد نہیں کریں گی، تب تک ہم جہالت، غربت، لاعلاجی، بیروزگاری، پد ر شاہی، صنفی جبر، جنسی ہراسگی اور رجعتی قوانین جیسی لعنتوں سے حقیقی معنوں میں آزادی حاصل نہیں کر سکیں گی۔ ایک سوشلسٹ انقلاب ہی عورت کو حقیقی آزادی کی ضمانت دے سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.