حیات بلوچ کے بہیمانہ ریاستی قتل کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک!

|تحریر: ثانیہ خان|

حیات بلوچ کے بہیمانہ قتل کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے اور ریاستی جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ 13 اگست کو تربت کے علاقے ابسر میں ایف سی کے اہلکار نے ایک نہتے نوجوان طالب علم حیات بلوچ کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہوئے انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔

واقعہ کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے کہ 13 اگست کو تربت کے مذکورہ بالا علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بم حملہ ہوا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مگر سڑک کے ساتھ ہی کھجور کے باغ میں حیات بلوچ نامی نوجوان اپنے والدین کے ساتھ چھٹیوں میں ہاتھ بٹانے کی غرض سے موجود تھا۔ ایف سی اہلکاروں نے اسے اس کے والدین کے سامنے ہاتھ باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر سڑک کی طرف گھسیٹ کر اس کے سینے میں آٹھ گولیاں داغ دیں۔ یوں ایک مختصر دورانیے کے اندر مستقبل کے لئے اپنی آنکھوں میں خواب سجانے والا نوجوان ریاستی ادارے کی درندگی کا نشانہ بنتے ہوئے قتل ہو گیا۔

حیات بلوچ جامعہ کراچی میں شعبہ فزیالوجی کے فائنل سمیسٹر کا طالب علم تھا اور جامعہ کراچی میں بلوچ سٹوڈنٹس ایجوکیشنل آرگنائزیشن کے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے طلبہ سیاست میں فعال کردار ادا کر رہا تھا۔ حیات بلوچ کے ریاستی قتل کے بعد سوشل میڈیا پر، جائے وقوعہ پر خون میں لت پت لاش کے سامنے ان کے والدین فریاد کرتے ہوئے بے بس نظر آتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے اندر طلبہ اور محنت کشوں میں ایک دکھ اور درد کے جذبات ابھرتے گئے اور یوں سوشل میڈیا پر حیات بلوچ کے ریاستی قتل کے خلاف بھرپور انداز میں اس غم و غصے کا اظہار دیکھنے کو ملا۔

اسی طرح سوشل میڈیا اور زمین پر احتجاجی مظاہروں کے بعد ایف سی کے ایک اعلیٰ افسر نے حیات بلوچ کے والدین سے تعزیت کی۔ ایسا بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوانوں کے قتل عام کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حیات بلوچ کے ریاستی قتل کے خلاف کراچی سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ اسی طرح 22 اگست کو بلوچ سٹوڈنٹس ایجوکیشنل آرگنائزیشن کی جانب سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی اور اس کال پر ملک کے مختلف شہروں میں بھرپور احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان میں بالخصوص کراچی اور کوئٹہ میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

حیات بلوچ کے واقعہ سے پہلے تربت ہی میں ریاستی اداروں کے حمایت یافتہ ڈیتھ سکواڈ نے ڈنک (تربت) میں ملک ناز نامی خاتون کو قتل کر کے برمش نامی معصوم بچی کو زخمی کیا جس کے خلاف عوامی غم و غصے کا اظہار ہم نے بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کی شکل میں دیکھا۔ بلوچستان میں ریاستی جبر کا سلسلہ پچھلے 73 سالوں سے موجود ہے اور اس ریاستی جبر میں ریاست کے کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ مزید تیزی، سفاکیت اور شدت آ رہی ہے۔ مگر یہاں پر ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت پر روشنی ڈالنا انتہائی ضروری ہے اور اس سے پہلے ریاستی جبر کی وجوہات جاننا بھی بہت ضروری ہے، کیونکہ جب تک ہم ریاستی جبر کو اور ان کی وجوہات کو نہیں سمجھیں گے تب تک ہم اس جبر کے خلاف مزاحمت کو بھی کسی بھی طریقے سے منظم نہیں کر سکیں گے۔ ریاستی جبر کی وجوہات میں جہاں ایک طرف بلوچستان میں پاکستانی ریاست اور خطے میں موجود عالمی سامراجی ممالک کی سامراجی مداخلت ہے، تو وہیں دوسری طرف اس مداخلت کے خلاف ایک مزاحمت بھی موجود ہے۔ مگر مزاحمت کے غلط طریقہ کار نے ریاستی جبر میں شدت کو بڑھانے کا کام کیا ہے یا پھر دوسرے الفاظ میں حکمران طبقے کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں۔ قومی سوال یا قومی آزادی کے لیے لڑی جانے والی مسلح جدوجہد کبھی بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ہے، چاہے وہ آئرلینڈ ہو سری لنکا ہو یا پھر کردستان کی لڑائی ہو۔ جہاں بھی کبھی عوام کو آزادی یا اپنے بنیادی حقوق ملے ہیں وہ محنت کش طبقے کی سیاسی عمل میں براہِ راست شرکت اور حکمرانوں کو للکارنے کے ذریعے ہی حاصل ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے ضمن میں اگر بات کی جائے تو یہ جدوجہد اس وقت سے جاری ہے جب پاکستانی ریاست نے فوج کشی کے ذریعے ریاست قلات کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے کر ان کو پاکستانی ریاست میں شامل کروایا۔ آزادی کی یہ جدوجہد جس کی مختلف جہتیں رہی ہیں مگر 2006ء کے بعد جو لہر اٹھی ہے وہ بائیں بازو کے نظریات سے مسلسل دور ہوتے ہوئے گہری کھائی کی جانب بڑھی ہے۔ مگر اب نئے عہد کے آغاز کے ساتھ ایک نئی نسل بھی جوان ہو چکی ہے، جنہوں نے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر کوئی ترقی نہیں دیکھی ہے اور ان میں انقلابی نظریات کی پیاس کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل میں شرکت کے حوالے سے مختلف طریقہ کار زیر بحث ہیں۔ ماضی میں سیاست میں متبادل نہ ملنے کی وجہ سے نوجوان مسلح جدوجہد کی جانب راغب ہوا کرتے تھے مگر اب یہ سلسلہ کافی حد تک کمزور پڑ گیا ہے، لیکن متبادل کی تلاش و جستجو بدستور موجود ہے اور اب عوامی مزاحمت مضبوط ہوتی جا رہی ہے جس سے ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ قوم پرست بھی پریشان اور خوفزدہ ہیں۔

اس نکتہ نظر کے ساتھ موجودہ حالات میں اگر ہم بلوچستان کی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس وقت نہ صرف سیاسی خلاء نظر آتا ہے بلکہ روایتی پارٹیوں کی شدید زوال پذیری اور نظریاتی دیوالیہ پن بھی کھل کر دیکھنے کو ملتا ہے۔ صرف چند ایک واقعات کی روشنی میں ہم اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے برمش واقعے کو ایک مثال کے طور پر لے سکتے ہیں۔ جہاں پر روایتی سیاسی پارٹیوں کو عوام نے مسترد کر دیا جب کہ عوام نے برمش یکجہتی کمیٹی کو فوقیت دیتے ہوئے صوبے بھر میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کیے۔ حالانکہ اس ایشو پر روایتی سیاسی پارٹیوں نے احتجاج کرانے کی کوشش کی تھی مگر عوام کے نظر انداز کرنے پر مظاہرہ کروانے سے وہ پیچھے ہٹ گئے۔ اس کے علاوہ طلبہ سیاست میں بھی یہی حال موجود ہے۔ آن لائن کلاسز کے خلاف بلوچستان میں طلبہ نے جب احتجاج کیا تھا اس پر بھی روایتی طلبہ تنظیموں کو طلبہ نے مسترد کیا اور چند نئی طلبہ تنظیمیں اور کونسلز اس پوری احتجاجی تحریک کی قیادت کر رہی تھیں۔ اس مسئلہ پر نام نہاد لیفٹ اور قنوطیت پسند دانشور ایک طرف اگر ملک گیر طلبہ تحریک کو قومیت کے نام پر تقسیم کرنے کی سازش کر رہے تھے تو دوسری طرف انہیں ایک بار پھر اپنے گھسے پٹے غیر سائنسی اور نظریاتی دیوالیہ پن کے شکار تناظر کو درست ثابت کرنے کی انتھک کوششیں کرنا پڑیں مگر وہ ناکامی کا شکار رہے۔

علاوہ ازیں حیات بلوچ کے ریاستی قتل کے بعد جتنے بھی مظاہرے ہوئے ہیں ان میں چند ایک چھوڑ کر وہی برمش یکجہتی کمیٹی یا بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نام سے احتجاجی مظاہرے کرائے گئے یا کیے جائینگے۔ یہاں پر ان کی وجوہات سمجھنے کی بھی ضرورت ہے، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا تھا کہ ایک طرف اگر بلوچ سماج میں متبادل کی جستجو موجود ہے اور متبادل کی غیر موجودگی میں مختلف غیر سیاسی تنظیمیں اور این جی اوز اس خلاء کو پُر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف بلوچ سماج میں موجودہ روایتی تنظیموں کے پاس عوامی قوت موجود نہیں ہے۔ جن تنظیموں کے پاس تھوڑی بہت عددی قوت ہے وہ بھی اپنی شناخت چھُپانے کے چکر میں ہوتی ہیں اور چند شخصیات کو آگے لانے کی وجہ سے ہیرو ازم جیسے غیر سیاسی رویے جنم لیتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موم بتی مافیا جیسے لوگ بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔ جو سیاسی سرگرمیوں کو غیر سیاسی طریقوں سے غیر سیاسی بنا ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ حیات بلوچ جیسے واقعہ کے بعد قوم پرست نظریات کے حامل اپنے پیٹی بورژوا نیشنلزم کی آڑ میں اپنی بچی کھُچی ساکھ بچانے کے چکر میں ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ عوام ایسی مفاد پرست قوتوں کو نہ صرف جان چکی ہے بلکہ شعوری طور پر انہیں مسترد بھی کر چکی ہے۔

اسی طرح مسنگ پرسنز کے مسئلہ پر بھی روایتی سیاسی پارٹیاں چُپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اس مسئلہ پر مسنگ پرسنز کے لواحقین اور عام سیاسی ورکرز تمام روایتی پارٹیوں کے مسنگ پرسنز پر سیاست چمکانے کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ جس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بلوچ سماج میں مروجہ سیاسی روایتی پارٹیاں ہر حوالے سے مسترد ہو چکی ہیں اور دوسری طرف سیاسی متبادل کی غیر موجودگی میں این جی اوز کی بھرمار ہے جو کہ سیاسی خلاء کو عارضی طور پر پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کا اظہار ہم نے برمش یکجہتی کمیٹی کی شکل میں دیکھا جہاں فرنٹ لائن پر مختلف این جی اوز اور فاؤنڈیشنز موجود تھیں۔ مختصر یہ کہ طلبہ سیاست اور ریاستی جبر کی ہر شکل کے خلاف عوام روایتی سیاسی پارٹیوں سے بدظن ہو چکے ہیں اور یہ تمام تر سیاسی پارٹیاں ہوا میں معلق ہیں۔

حیات بلوچ کے واقعہ نے گوکہ بہت سارے سوالات کے جوابات دیے ہیں مگر اس وقت بلوچستان میں آج پہلے سے موجود سوالات میں اضافہ بھی کیا ہے۔ کیا حیات بلوچ کا واقعہ بلوچستان کے اندر ایک معیاری تبدیلی کا محرک ثابت ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے سیاسی مزاحمت کا جو عمل جاری ہے اور یہ عمل اپنی معیاری تبدیلی تک پہنچنے میں کتنا وقت لے گا اس کا اندازہ ہم ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت، معاشی استحصال کے خلاف عوامی غم و غصے کو موجودہ نظام کی زوال پذیری سے جوڑے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں ریاستی جبر دہری شکل میں موجود ہے، ایک طرف اگر قومی جبر ہے تو دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام کی زوال پذیری کی وجہ سے یہاں پر معاشی جبر، مہنگائی، ناخواندگی، بے روزگاری، خواتین کا سوال، نجکاری، لاعلاجی سمیت دیگر اہم اور بنیادی سوالات بھی موجود ہیں۔ مگر نظریاتی زوال پزیری کی وجہ سے تنگ نظر قوم پرست رجحانات کے حامل سیاسی کارکن بلوچستان میں غیر سیاسی بنیادوں پر طبقاتی سوال کو نہ صرف نظر انداز کرتے ہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں پر طبقات ختم ہو چکے ہیں۔ ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں قومی جبر ایک اٹل حقیقت ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ بلوچستان میں طبقاتی سوال وجود نہیں رکھتا۔ اس نکتے کا ایک سادہ سا اورسطحی جواب یہ ہے کہ اگر بلوچستان میں طبقات وجود نہیں رکھتے تو بلوچستان کے سماج کو چلانے والے لوگ کون ہیں؟ اس حوالے سے اگر مزدور تحریک پر نظر ڈالی جائے تو ملک میں سب سے زیادہ تحرک بلوچستان میں نظر آتا ہے جہاں کان کنی سے لے کر ریلوے تک کے اداروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں نظر آتی ہیں اور مزدور حکمران طبقے کے معاشی حملوں کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام جو کہ اس وقت ایک عالمگیر نظام ہے اور اپنی تاریخ کے کمزور ترین نہج پر موجود ہے جس کا اظہار ہم نے پوری دنیا کے اندر ہر حوالے سے کورونا وبا کے دوران دیکھا کہ امریکا جیسی عالمی سپر پاور میں بھی محنت کش عوام کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں تھیں۔ پاکستان میں بھی محنت کش طبقے کی حالت بد تر ہوتی جا رہی ہے اور بھوک، بیماری، لاعلاجی اور بیروزگاری اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ سینکڑوں لوگ بھوک اور بیماری کے باعث مر رہے ہیں جبکہ حکمران طبقہ پر تعیش زندگیاں گزار رہا ہے اور اپنی لوٹ مار میں اضافہ کرتے ہوئے مزید لاکھوں لوگوں کو غربت، ذلت اور محرومی میں دھکیل رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اپنے جبر میں بھی اضافہ کرتے ہوئے بنیادی حقوق کے لیے اُٹھنے والی ہر آواز کو کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستانی ریاست اپنے جوہر میں ایک غیر فطری اور شروع دن سے امریکہ سمیت مختلف سامراجی ممالک کی گماشتہ ریاست رہی ہے اور اسی وجہ سے اس کی معیشت مختلف سامراجی ممالک کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ لیکن اب یہ سامراجی ممالک خود شدید بحران کا شکار ہیں اور درحقیقت دوسری عالمی جنگ کے بعد بننے والا پورا ورلڈ آرڈر ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔ تبدیلی سرکار نے آتے ہی پاکستانی ریاست کی معیشت کا کھوکھلا پن اور گماشتہ پن سب پر عیاں کر دیا ہے۔ نجکاری، بے روزگاری، مہنگائی، لاعلاجی اور کٹوتیوں میں اضافہ کرتے ہوئے ملک کے حکمران طبقے، سرمایہ داروں اور فوجی اشرفیہ کی عیاشیوں کا بوجھ محنت کش عوام پر ڈال دیا ہے۔ حکمران طبقے کے ان تمام تر حملوں کے خلاف پوری دنیا کے اندر محنت کش طبقے کی تحریک کا احیاء ہو رہا ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں اب تک سطح پر کوئی واضح مزدور تحریک موجود نہیں ہے مگر یاد رہے کہ تحریک جتنی دیر سے اٹھے گی وہ اتنی ہی شدت سے اُبھرے گی۔ مگر سوال پھر وہی انقلابی قوتوں کی تعمیر کا ہے، جب تک محنت کش طبقے کی ایک انقلابی پارٹی موجود نہیں ہو گی تب تک ریاستی جبر سمیت معاشی جبر سے نجات پانا ممکن ہے۔ نجات پانے کے لیے اس نظام کو گرانا ہو گا اور صرف ایک سوشلسٹ انقلاب کی صورت میں مزدور ریاست قائم کر کے ہی قومی جبر سمیت دیگر تمام مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل نکالا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.